قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس آپریشن عزم استحکام درحقیقت عدم استحکام کی جانب جانے کا فیصلہ ہے ،2010 سے آپریشنوں کے ہاتھ سے عوام مار کھا رہی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ بین الاقوامی ایجنڈا ہے، یہ پاکستان کی ضرورت نہیں ہے۔وزیر اعظم اور آرمی چیف کے دورہ چائنا کا اگرسفارتی طور پر جائزہ لیا جائے تو اس میں کوئی کامیابی نظر نہیں آتی،پاکستان میں چائنا کے معزز مہمان کے ساتھ بات چیت میں بھی ہم نے پاک چائنا دوستی، تائید اور حمایت کے حوالے دئے اور وہی حوالے انہوں نے بھی دئے لیکن سیاسی استحکام اور امن امان کی صورتحال پر اس نے عدم اطمینان کا اظہار کیا،ہم خود فیصلہ کریں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔حب الوطنی کے نام پر ریاست عوام کے ساتھ تماشا کر رہی ہے، آپریشن کے بہانے وزیرستان اور سوات سمیت کئی علاقے خالی کروائے گئے، خواتین کی چادر کو تار تار کیا گیا ،معاشی تنگدستی پیدا ہوئی، کاروبار ختم ہوگئے اور فاقوں تک نوبت پہنچ گئی ، خواتین اپنے زیورات بیچنے پر مجبور ہیں۔چمن بارڈر پر 09 ماہ سے لوگ دربدر بیٹھے ہوئے ہیں، یہی حالات انگور اڈہ ، غلام خان اور جبروت میں ہیں، ایسے حالات بنانے والے محب الوطن ہیں اور جو اس پر بات کرے اس کو ملک دشمن کہا جاتا ہے۔مولانا فضل الرحمان آپریشن عزمِ استحکام درحقیقت عدمِ استحکام ثابت ہوگا۔آئین تمام صوبوں کو اختیارات دیتا ہے اور ہر ادارے کے دائرہ کار کا تعین بھی کرتا ہے تو پھر اسٹیبلشمنٹ بالادستی پر بضد کیوں ہے؟ہم 300 سالہ غلامی کے خلاف جنگ کی تاریخ رکھتے ہیں، غلامی قبول نہ کرنے کی پاداش میں انگریز کے خلاف 50 ہزار سے زائد مجاہدین کو سولی چڑھا دیا گیا تو اب جرنیلوں کی غلامی کیسے قبول کریں گے ؟ یہ نہیں ہوسکتا کہ جیسے وہ چاہیں ویسے ہی ہو۔ملک میں ریاستی رٹ ختم ہوچکی ہے، کے پی کے میں رات ہوتے ہی پولیس تھانوں میں بند ہوجاتی ہے،یہ سب فوجی آپریشن کے نتائج ہیں۔سربراہ جےیوآئی مولانا فضل الرحمان اسلام آباد: قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان مدظلہ کا سی پیک کے حوالے سے سیاسی جماعتوں پر مشتمل تیسرے پاک-چین مشترکہ مشاورتی اجلاس میں شرکت الیکشن کمیشن کے اختیارات پر کورٹ کا قبضہ ہےپاک افغان بارڈر پر صورتحال کشیدہ ہے، چمن میں 8 ماہ سے لوگ دھرنہ دئے بیٹھے ہیں ،وہاں کے لوگ زیوارت اور گھروں کاسامان بیچنے پر مجبور ہیں ، اب تک ریاست ان کے لئے کوئی متبادل انتظام کئے بغیر ان پر دباؤ ڈال رہی ہے،ہم نے فاٹا اور سوات میں آپریشن کی حکمت عملی پراس وقت بھی اعتراض کیا تھا ،آج 2024ء میں ہماری فوج ، ایجنسیاں اور جرنیل اپنی بنائی حکمت عملی کے نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ دہشت گردی ختم ہونے کے بجائے کئی گُنا بڑھ گئی ہے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا ہ کی صورتحال کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ وہاں ریاستی رٹ ختم ہوچکی اور عوام مسلح جتھوں کے رحم و کرم پر ہے۔