جمعیت علماء اسلام کے زیراہتمام سریاب فیض آبادمیں ایک بڑاشمولیتی جلسہ عام ہواجس میں چیف آف بنگلزئی سردارنوراحمدبنگلزئی نے اپنے قبیلے اورہزاروں افرادسمیت جمعیت میں شمولیت کااعلان کردیاشمولیتی جلسے میں مستونگ،کوئٹہ،سبی،بولان سمیت دیگراضلاع کے 54سرکردہ قبائلی رہنماؤں،عمائدین،کونسلروں اورہزاروں افرادنے قوم پرستوں اوردیگرسیاسی پارٹیوں سے مستعفی ہوکرجمعیت میں شمولیت کااعلان کیاشمولیتی جلسہ عام سے مولاناعبدالغفورحیدری،مولانافیض محمدملک سکندرخان ایڈوکیٹ،مولاناولی محمدترابی،سردارنوراحمدبنگلزئی،حافظ محمدابراہیم لہڑی،ایم پی اے مفتی گلاب،سیدمطیع اللہ آغا،مولاناعبدالحنان،مولانامحمدسلیم،حافظ قدرت اللہ لہڑی،میرتشبیراحمدبادینی،میراسحاق ذاکرشاہوانی،حافظ خلیل احمدسارنگزئی،میرمنیراحمدملازئی،حاجی نورگل خلجی ودیگرنے خطاب کرتے ہوئے سردارنوراحمدبنگلزئی کومبارکباددی اور کہاکہ آئے روزجوق درجوق صوبہ بھرمیں شمولیتوں سے ثابت ہوتاہے کہ آئندہ حکومت جمعیت کی ہوگی انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں سرداروں،نوابوں،خانوں اورمیڈل کلاس کے لوگوں نے باری باری حکومت کی ہے لیکن انہوں نے صوبے میں کوئی مثالی منصوبہ اورپروجیکٹ نہیں بنایاہے یہاں تک کہ ہردورکے وزیراعلی نے اپنے ضلع میں بھی کوئی ترقیاتی کام نہیں کیاہے اب تمام عوام کی توجہ جمعیت علماء اسلام کی طرف ہے عوام مستقبل میں مولوی صاحبان کی حکومت بھی دیکھیں گے،انہوں نے جمعیت علماء اسلام کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہاکہ پرامن بلوچستان،ترقی یافتہ بلوچستان،تعلیم یافتہ بلوچستان بنائیں گے صحت کے مراکزقائم کریں گے،پورے صوبے میں سڑکوں کے جال بچھائیں گے گاؤں،گاؤں میں بجلی اورگیس کی سہولت فراہم کریں گے،تعلیم عام اورمفت مہیاکریں گے میعاری تعلیم اولین ترجیح ہے انہوں نے کہاکہ قوم پرستوں نے قوم کولاشوں کے سواکچھ نہیں دیااب قوم میں شعورپیداہواہے اب بلوچ قوم نوجوان ورغلانے والے کادورگزرگیاانہوں نے کہاکہ سی پیک ترقی کاسیلاب ہے گوادرسے پورابلوچستان آبادہوگاژوب سے گوادرتک جگہ جگہ اقتصادی زون بنیں گے قوم کواس سے بھرپورفائدہ اٹھاناہوگادانائی کامظاہرہ کرناہوگا، انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں ہرطرف لوٹ مار،اقرباپروری اورکرپشن کی انتہاہے جمعیت کاوزیراعلی کبھی نہیں آیاہے یہاں ہمیشہ بلوچ وزیراعلی آتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے اضلاع میں ایک فیکٹری بھی نہیں بنائی ہے قوم پرستوں میں حکومت کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے ہردورمیں قوم پرستوں نے قوم کے حقوق کانعرہ لگاکرجب بھی اقتدارمیں آئے ہیں انہوں نے اپنے ذاتی مفادات کوترجیح دی ہے قوم کی ترقی کے لئے انہوں نے کچھ بھی نہیں کیاہے جمعیت کے کارکنوں کوآگے آناہوگاآئے روزجوق درجوق صوبے کی اہم اورقدآورشخصیات جمعیت میں شمولیت اختیارکررہی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ مایوس ہوگئے ہیں 70سال سے انہیں اپنے جائزحقوق نہیں ملے ہیں موجودہ دورحکومت میں ایک سوبیس ارب روپے ضائع ہوئے آج کے جدیددورمیں بھی بلوچ کے دوردرازعلاقوں میں پینے کاصاف پانی میسرنہیں مال مویشی اورلوگ ایک گھاٹ پرپانی پیتے ہیں سڑکوں،گیس،تعلیم،صحت اورزندگی کی دیگرضروریات کافقدان ہے لوگ بنادی ضرورتوں سے محروم ہیں انہوں نے جمعیت علماء اسلام کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہاکہ پرامن بلوچستان،ترقی یافتہ بلوچستان،تعلیم یافتہ بلوچستان بنائیں گے صحت کے مراکزقائم کریں گے،پورے صوبے میں سڑکوں کے جال بچھائیں گے گاؤں،گاؤں میں بجلی اورگیس کی سہولت فراہم کریں گے،تعلیم عام اورمفت مہیاکریں گے میعاری تعلیم اولین ترجیح ہے انہوں نے کہاکہ قوم پرستوں نے قوم کولاشوں کے سواکچھ نہیں دیااب قوم میں شعورپیداہواہے اب بلوچ قوم نوجوان ورغلانے والے کادورگزرگیاانہوں نے کہاکہ سی پیک ترقی کاسیلاب ہے گوادرسے پورابلوچستان آبادہوگاژوب سے گوادرتک جگہ جگہ اقتصادی زون بنیں گے قوم کواس سے بھرپورفائدہ اٹھاناہوگادانائی کامظاہرہ کرناہوگا۔
مادر علمی دارالعلوم حقانیہ پر حملہ اور برادرم مولانا حامد الحق سمیت شہداء کی خبر سے دل رنجیدہ ہے،یہ حملہ میرے گھر اور مدرسہ پر حملہ ہے،ظالموں نے انسانیت، مسجد، مدرسے اور جمعہ کی حرمت پامال کی،کے پی کے میں بدامنی پر عرصے سے آواز اٹھا رہے ہیں،مگر ریاست خاموش تماشائی ہے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔اس المناک سانحہ میں اہل خانہ کے ساتھ خود کو بھی تعزیت کا مستحق سمجھتا ہوں،اللہ تعالٰی شہداء کی مغفرت فرمائے اور زخمیوں کو صحتیاب فرمائے،آمین۔مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کی حماس کے سابق سربراہ ڈاکٹر خالد مشعل سے ملاقات
مولانا فضل الرحمان وفد کے ہمراہ قطر پہنچ گئے
اس وقت ملکی سالمیت کا مسئلہ درپیش ہے جس پر ہم بار بار بات کر رہے ہیں،جس پر ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ ملکی سالمیت کی پالیسیاں ایوان اور حکومتی حلقوں میں نہیں بلکہ ماوراء سیاست و پارلیمنٹ بند کمروں میں بنائی جارہی ہیں، ہمیں ملکی سالمیت پر بات کرنے اور تجویز دینے کی اجازت بھی نہیں ہے۔اس وقت دو صوبوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے، وزیر اعظم صاحب کو اگر بتایا جائے قبائل یا اس سے متصل اضلاع اور بلوچستان میں کیا ہورہا ہے، تو شاید وہ یہی کہیں گے کہ ان کو علم نہیں ہے،پھر کون فیصلہ کرتا ہے ؟کل اسکا ذمہ دار پاکستان ہوگا ،عوام کی نظر میں اس سب کے ذمہ دارپارلیمان اور ہم ہیں،اس وقت ملک میں کوئی سویلین اتھارٹی اور نظریاتی سیاست موجود نہیں ہے، پاکستان میں مکمل طور پر ایک خاص اسٹیبلشمنٹ بند کمروں میں فیصلہ کرتی ہےاور حکومت صرف ان پر مہر لگاتی ہے۔کے پی کے اور بلوچستان میں امن و مان کی بدترین صورتحال ہے، میرے ضلع میں کئی علاقے پولیس جس کو کئی عرصہ پہلے خالی کرچکی ہے،حال ہی میں فوج نے بھی وہ علاقے خالی کردئے ہیں، تو بتایا جائے کہ وہ علاقہ کس کے قبضہ میں ہیں ؟درد دل اور افسوس سے یہ بات کہنی پڑ رہے ہے کہ اگر بلوچستان میں پانچ یاسات اضلاع مل کر آج آزادی کا اعلان کردیں تواگلے دن اقوام متحدہ میں ان کی درخواست کو قبول کرلیا جائے گا اور پاکستان کو تقسیم تصور کیا جائے گا، یہ جذباتی باتیں نہیں ہیں،لیکن حقائق تک پارلیمینٹ کو پہنچنا ہوگا۔آج اگر کوئی بقاءکا سوال کرتا ہے، چیخ و پکار کرتا ہے تو اس پر برا بنایا منایا جاتا ہے،چیخ و پکار کو اللہ تعالیٰ بھی پسند نہیں کرتے لیکن مظلوم کی چیخ و پکار اللہ تعالیٰ بھی سنتے ہیں۔پارلیمان میں قانون سازی کی جارہی ہے لیکن پہلے ریاستی رٹ کو تو مضبوط کیا جائے،ملک مضبوط ہوگا تو قانون نافذ العمل ہوگا، اگر ملک مضبوط نہیں ہے تو پھر قانون کس کے لئے بنایا جارہا ہے،صوبوں میں اسمبلیاں موجود ہیں لیکن کہیں بغاوت ہوتی ہے اورعوام باہر نکلتی ہے تو کوئی بھی پارلیمانی نمائندہ یا منسٹر عوام کا سامنا نہیں کرسکتا کیوں کہ عوام اسکو اپنا نمائندہ تسلیم نہیں کرتے،نظریات اور اتھارٹی کی جنگ جاری ہے، نظریات کی جنگ نظریات سے ہونی چاہئےلیکن یہاں دوسری جانب سے اتھارٹی کی سیاست کی جارہی ہے، جیسی تیسی بس اتھارٹی مل جائے، ہماری اس گفتگو کو سنجیدہ نہیں لیا جارہا ہے، کہیں پر بھی اسکا نوٹس نہیں لیا جارہا لیکن نتیجہ کیا نکلے گا کہ کل بنگال الگ ہوا تھا آج کہیں ہم سے ایک اور بازوٹو ٹ جائے، ہمیں اس کی فکر کرنی چاہئے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام آزادی صحافت پر منعقدہ سیمینار سے خطاب





