حیدرآباد/ٹنڈو محمد خان
جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کےسیکرٹری جنرل مولانا راشد خالدمحمود سومرو کی سربراہی میں ٹنڈو محمد خان میں کرپشن مٹائو سندہ بچائو ریلی ہزاروں کارکنوں سمیت شہریوں کی بھرپور شرکت
تفصیلات کے مطابق جمعیت علماءاسلام صوبہ سندھ کےسیکرٹری جنرل علامہ راشدخالد محمود سومرو نے ٹنڈو محمد خان میں کرپشن مٹائو سندہ بچائو احتجاجی ریلی اور جلسہ سے خطاب کرتے ہوئےصوبائی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ سندھ کسی کے باپ جاگیر نہیں ہے گذشتہ 9 سالوں میں ایک ہزار ارب روپے سے زائد کی کرپشن لوٹ کھسوٹ کی گئی ہے جبکہ بدامنی، قبائلی تکرار ،بےروزگاری ،بدحالی اور اداروں کی تباہی پیپلزپارٹی سندھ حکومت اور آصف زرداری کی نااہلی کا نتیجہ ہے نیب کے قانون کو ختم کرکے احتساب کے عمل سے بچنے کی ناکام کوشش کرنے والوں کو اب ایک ایک پیسے کا حساب دینا ہوگا چوروں لٹیروں سندھ لوٹنے والوں کا پیچھا کیا جائے گا ۔
ٹنڈو محمد خان تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے پینےکا صاف پانی تک میسر نہیں ہے روڈ راستے تباہ ہو چکے ہیں۔
مولانا راشدخالد محمود سومرو نے دعوی کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری، عمران خان، پرویز خٹک ،مراد علی شاہ ،شرجیل میمن، میاں نواز شریف سے کم چور نہیں ہیں
سندھ کی تعلیم صحت زراعت معیشت امن امان تباہ ہو چکا ہے میرٹ کا قتل عام کرکے جیالوں کو نوکریاں دی جا رہی ہیں۔
گریجوئیٹ پوسٹ گریجوئیٹ نوجوان خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والوں نے عوام سے رہنے کیلئے چھت نوالہ اور کپڑے اتارے ہیں سندھ کے شہر موہن جو داڑو کا منظر پیش کر رہے ہیں عوام غلاظت والا پانی پینے پر مجبور ہیں روڈ راستے کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں سندھ حکومت کرپشن چھپانے کیلئے دینی مدارس کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں ایک بھی مدرسے کو بند کیا گیا تو وزیراعلی ہائوس کا گھیراؤ کیا جائے گا سندھ حکومت چلنے نہیں دینگے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آصف زرداری ،عمران خان ،پرویز خٹک، مراد علی،شاہ سہیل انور سیال، شرجیل میمن کا بھی احتساب کیا جائے اس موقعہ پر دیگر جمعیت علماءاسلام صوبہ سندھ کے دیگر رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔
مادر علمی دارالعلوم حقانیہ پر حملہ اور برادرم مولانا حامد الحق سمیت شہداء کی خبر سے دل رنجیدہ ہے،یہ حملہ میرے گھر اور مدرسہ پر حملہ ہے،ظالموں نے انسانیت، مسجد، مدرسے اور جمعہ کی حرمت پامال کی،کے پی کے میں بدامنی پر عرصے سے آواز اٹھا رہے ہیں،مگر ریاست خاموش تماشائی ہے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔اس المناک سانحہ میں اہل خانہ کے ساتھ خود کو بھی تعزیت کا مستحق سمجھتا ہوں،اللہ تعالٰی شہداء کی مغفرت فرمائے اور زخمیوں کو صحتیاب فرمائے،آمین۔مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کی حماس کے سابق سربراہ ڈاکٹر خالد مشعل سے ملاقات
مولانا فضل الرحمان وفد کے ہمراہ قطر پہنچ گئے
اس وقت ملکی سالمیت کا مسئلہ درپیش ہے جس پر ہم بار بار بات کر رہے ہیں،جس پر ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ ملکی سالمیت کی پالیسیاں ایوان اور حکومتی حلقوں میں نہیں بلکہ ماوراء سیاست و پارلیمنٹ بند کمروں میں بنائی جارہی ہیں، ہمیں ملکی سالمیت پر بات کرنے اور تجویز دینے کی اجازت بھی نہیں ہے۔اس وقت دو صوبوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے، وزیر اعظم صاحب کو اگر بتایا جائے قبائل یا اس سے متصل اضلاع اور بلوچستان میں کیا ہورہا ہے، تو شاید وہ یہی کہیں گے کہ ان کو علم نہیں ہے،پھر کون فیصلہ کرتا ہے ؟کل اسکا ذمہ دار پاکستان ہوگا ،عوام کی نظر میں اس سب کے ذمہ دارپارلیمان اور ہم ہیں،اس وقت ملک میں کوئی سویلین اتھارٹی اور نظریاتی سیاست موجود نہیں ہے، پاکستان میں مکمل طور پر ایک خاص اسٹیبلشمنٹ بند کمروں میں فیصلہ کرتی ہےاور حکومت صرف ان پر مہر لگاتی ہے۔کے پی کے اور بلوچستان میں امن و مان کی بدترین صورتحال ہے، میرے ضلع میں کئی علاقے پولیس جس کو کئی عرصہ پہلے خالی کرچکی ہے،حال ہی میں فوج نے بھی وہ علاقے خالی کردئے ہیں، تو بتایا جائے کہ وہ علاقہ کس کے قبضہ میں ہیں ؟درد دل اور افسوس سے یہ بات کہنی پڑ رہے ہے کہ اگر بلوچستان میں پانچ یاسات اضلاع مل کر آج آزادی کا اعلان کردیں تواگلے دن اقوام متحدہ میں ان کی درخواست کو قبول کرلیا جائے گا اور پاکستان کو تقسیم تصور کیا جائے گا، یہ جذباتی باتیں نہیں ہیں،لیکن حقائق تک پارلیمینٹ کو پہنچنا ہوگا۔آج اگر کوئی بقاءکا سوال کرتا ہے، چیخ و پکار کرتا ہے تو اس پر برا بنایا منایا جاتا ہے،چیخ و پکار کو اللہ تعالیٰ بھی پسند نہیں کرتے لیکن مظلوم کی چیخ و پکار اللہ تعالیٰ بھی سنتے ہیں۔پارلیمان میں قانون سازی کی جارہی ہے لیکن پہلے ریاستی رٹ کو تو مضبوط کیا جائے،ملک مضبوط ہوگا تو قانون نافذ العمل ہوگا، اگر ملک مضبوط نہیں ہے تو پھر قانون کس کے لئے بنایا جارہا ہے،صوبوں میں اسمبلیاں موجود ہیں لیکن کہیں بغاوت ہوتی ہے اورعوام باہر نکلتی ہے تو کوئی بھی پارلیمانی نمائندہ یا منسٹر عوام کا سامنا نہیں کرسکتا کیوں کہ عوام اسکو اپنا نمائندہ تسلیم نہیں کرتے،نظریات اور اتھارٹی کی جنگ جاری ہے، نظریات کی جنگ نظریات سے ہونی چاہئےلیکن یہاں دوسری جانب سے اتھارٹی کی سیاست کی جارہی ہے، جیسی تیسی بس اتھارٹی مل جائے، ہماری اس گفتگو کو سنجیدہ نہیں لیا جارہا ہے، کہیں پر بھی اسکا نوٹس نہیں لیا جارہا لیکن نتیجہ کیا نکلے گا کہ کل بنگال الگ ہوا تھا آج کہیں ہم سے ایک اور بازوٹو ٹ جائے، ہمیں اس کی فکر کرنی چاہئے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام آزادی صحافت پر منعقدہ سیمینار سے خطاب





