Skip to content
  • اردو
  • العربیہ
  • English
  • صفحہ اول
  • تعارف
    • تعارف
    • دستور
    • منشور
    • تاریخ
  • شخصیات
  • قیادت
    • مرکزی قیادت
    • صوبائی قیادت
  • پارلیمانی قیادت
    • اراکین سینیٹ
    • اراکین قومی اسمبلی
    • اراکین صوبائی اسمبلی
  • تنظیمی سرگرمیاں
  • کتب لائبریری
    • ماہنامہ الجمعیۃ
  • بلاگ
    • بلاگ
    • پالیسی برائے تحریر
  • ذیلی تنظیمات
    • جمعیت طلباءاسلام
    • تنظیم انصار الاسلام
    • جمعیت لائرز فورم
    • وحدت اساتذہ
    • وومن ونگ
    • اسلامک ڈاکٹر فورم
  • رجسٹریشن
    • سوشل میڈیا ٹیم
  • رابطہ
    • سوشل میڈیا لنکس
اہم خبریں
مادر علمی دارالعلوم حقانیہ پر حملہ اور برادرم مولانا حامد الحق سمیت شہداء کی خبر سے دل رنجیدہ ہے،یہ حملہ میرے گھر اور مدرسہ پر حملہ ہے،ظالموں نے انسانیت، مسجد، مدرسے اور جمعہ کی حرمت پامال کی،کے پی کے میں بدامنی پر عرصے سے آواز اٹھا رہے ہیں،مگر ریاست خاموش تماشائی ہے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔اس المناک سانحہ میں اہل خانہ کے ساتھ خود کو بھی تعزیت کا مستحق سمجھتا ہوں،اللہ تعالٰی شہداء کی مغفرت فرمائے اور زخمیوں کو صحتیاب فرمائے،آمین۔مولانا فضل الرحمان مولانا فضل الرحمان کی حماس کے سابق سربراہ ڈاکٹر خالد مشعل سے ملاقات مولانا فضل الرحمان وفد کے ہمراہ قطر پہنچ گئے اس وقت ملکی سالمیت کا مسئلہ درپیش ہے جس پر ہم بار بار بات کر رہے ہیں،جس پر ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ ملکی سالمیت کی پالیسیاں ایوان اور حکومتی حلقوں میں نہیں بلکہ ماوراء سیاست و پارلیمنٹ بند کمروں میں بنائی جارہی ہیں، ہمیں ملکی سالمیت پر بات کرنے اور تجویز دینے کی اجازت بھی نہیں ہے۔اس وقت دو صوبوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے، وزیر اعظم صاحب کو اگر بتایا جائے قبائل یا اس سے متصل اضلاع اور بلوچستان میں کیا ہورہا ہے، تو شاید وہ یہی کہیں گے کہ ان کو علم نہیں ہے،پھر کون فیصلہ کرتا ہے ؟کل اسکا ذمہ دار پاکستان ہوگا ،عوام کی نظر میں اس سب کے ذمہ دارپارلیمان اور ہم ہیں،اس وقت ملک میں کوئی سویلین اتھارٹی اور نظریاتی سیاست موجود نہیں ہے، پاکستان میں مکمل طور پر ایک خاص اسٹیبلشمنٹ بند کمروں میں فیصلہ کرتی ہےاور حکومت صرف ان پر مہر لگاتی ہے۔کے پی کے اور بلوچستان میں امن و مان کی بدترین صورتحال ہے، میرے ضلع میں کئی علاقے پولیس جس کو کئی عرصہ پہلے خالی کرچکی ہے،حال ہی میں فوج نے بھی وہ علاقے خالی کردئے ہیں، تو بتایا جائے کہ وہ علاقہ کس کے قبضہ میں ہیں ؟درد دل اور افسوس سے یہ بات کہنی پڑ رہے ہے کہ اگر بلوچستان میں پانچ یاسات اضلاع مل کر آج آزادی کا اعلان کردیں تواگلے دن اقوام متحدہ میں ان کی درخواست کو قبول کرلیا جائے گا اور پاکستان کو تقسیم تصور کیا جائے گا، یہ جذباتی باتیں نہیں ہیں،لیکن حقائق تک پارلیمینٹ کو پہنچنا ہوگا۔آج اگر کوئی بقاءکا سوال کرتا ہے، چیخ و پکار کرتا ہے تو اس پر برا بنایا منایا جاتا ہے،چیخ و پکار کو اللہ تعالیٰ بھی پسند نہیں کرتے لیکن مظلوم کی چیخ و پکار اللہ تعالیٰ بھی سنتے ہیں۔پارلیمان میں قانون سازی کی جارہی ہے لیکن پہلے ریاستی رٹ کو تو مضبوط کیا جائے،ملک مضبوط ہوگا تو قانون نافذ العمل ہوگا، اگر ملک مضبوط نہیں ہے تو پھر قانون کس کے لئے بنایا جارہا ہے،صوبوں میں اسمبلیاں موجود ہیں لیکن کہیں بغاوت ہوتی ہے اورعوام باہر نکلتی ہے تو کوئی بھی پارلیمانی نمائندہ یا منسٹر عوام کا سامنا نہیں کرسکتا کیوں کہ عوام اسکو اپنا نمائندہ تسلیم نہیں کرتے،نظریات اور اتھارٹی کی جنگ جاری ہے، نظریات کی جنگ نظریات سے ہونی چاہئےلیکن یہاں دوسری جانب سے اتھارٹی کی سیاست کی جارہی ہے، جیسی تیسی بس اتھارٹی مل جائے، ہماری اس گفتگو کو سنجیدہ نہیں لیا جارہا ہے، کہیں پر بھی اسکا نوٹس نہیں لیا جارہا لیکن نتیجہ کیا نکلے گا کہ کل بنگال الگ ہوا تھا آج کہیں ہم سے ایک اور بازوٹو ٹ جائے، ہمیں اس کی فکر کرنی چاہئے۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام آزادی صحافت پر منعقدہ سیمینار سے خطاب

مرکزی خبریں

فاٹا کے انضمام کے معاملہ پر شخصی اور مفاداتی بیانیہ کے بجائے قبائل کے بہتر اور تابناک مستقبل کو بنیاد بنا کر کئے جانے والے فیصلے سے ہی ملک کا وقار اور قبائل کا مفاد وابسطہ ہے ، مولانا فضل الرحمان

24-12-201724-12-2017

القدس کے مسئلے پر مسلم دنیاکامشترکہ دباؤجاری رہنا چاہیے، تاکہ امریکہ اپنا فیصلہ واپس لے لیں ، مولانا عبد الغفور حیدری

23-12-201724-12-2017

تحریک آزادی ہی مسئلہ کشمیر کا واحد حل ہے،نئے عالمی منظرنامے میں آزادی کی جنگوں کو دہشتگردی کا نام دیا جارہا ہےامریکہ مسئلہ کشمیر اور سی پیک پر انڈیا کی زبان بول رہا ہے۔مولانافضل الرحمان

21-12-201721-12-2017

فاٹا اصلاحات کا مخالف نہیں ہوں، وزیر اعظم فاٹا کے سپریم جرگے کی رضامندی حاصل کریں،جہاں آئینی سقم ہیں وہاں آئینی ماہرین کی رائے لی جائے ، آئین پاکستان کی پیروی میں فاٹا کے مسئلے کو حل کیا جائے.مولانافضل الرحمان

19-12-201719-12-2017

آئندہ انتخابات میں لبرلز کو شکست دیں گے، یہودیوں سے پیسے لینے والوں کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے، ایم ایم اے بحال ہوچکی ہے، اپنی تہذیب پر حملہ آوروں سے صوبہ چھین لیں گے.مولانا فضل الرحمان

17-12-201719-12-2017

اسمبلیوں میں علماء کا کردار نہ ہوتا تو آج ملک کاآئین و قانون ہندوستان کی طرح سیکولرہوتا.مولانا فضل الرحمان

14-12-201719-12-2017

متحدہ مجلس عمل باقاعدہ طور پر بحال، آئندہ الیکشن میں مذہبی جماعتیں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے حصہ لیں گی.مشترکہ اعلامیہ جاری

13-12-201719-12-2017

فاٹا کیلئے تمام تر آئینی رکاوٹیں پھلانگنا معقول عمل نہیں،فاٹا کا معاملہ جبر اور زبردستی کے بجائے جمہوری طریقے سے حل کیا جائے۔مولانا فضل الرحمان

13-12-201719-12-2017

علماء ملک کو سیکولر ریاست نہیں بننے دیں گے،مغربی تہذیب میں تاریکی کے علاوہ کچھ نہیں ہے،امریکہ کو بیت المقدس کے حوالے سے اپنا فیصلہ واپس لینا ہوگا.مولانا فضل الرحمان

10-12-201719-12-2017

پوری امت مسلمہ عقیدہ ختم نبوت پر متحد ہے ،جمعیت علماء اسلام نے ہر دینی تحریک میں ہراول دستہ کا کردار ادا کیا ہے.مولانا فضل الرحمان

09-12-201719-12-2017
  • →
  • 1
  • 2
  • 3
  • …
  • 20
  • 21
  • 22
  • 23
  • 24
  • 25
  • 26
  • …
  • 36
  • 37
  • 38
  • ←

سوشل میڈیا لنکس

  • فیس بک پیج
  • ٹویٹر اکاؤنٹ
  • یوٹیوب چینل

رابطہ کیلئے

  • مرکزی قیادت سے رابطہ
  • صوبائی قیادت سے رابطہ
  • ویب ٹیم سے رابطہ

تعاون کیلئے

  • اکاؤنٹ نمبر 0010038512580016
  • الائیڈ بنک پارلیمنٹ ہاؤس برانچ 0756
  • رابطہ0514445039

جمعیت علماءاسلام پاکستان ©2024 تمام جملہ حقوق محفوظ ہیں

اگر آپ کو کسی مخصوص خبر کی تلاش ہے تو یہاں نیچے دئے گئے باکس کی مدد سے تلاش کریں