اجلاس سٹی امیر مولانا رضوان فضل صاحب کی زیر صدارت مدرسہ مدنی تعلیم القرآن غلام محمدآباد میں گذشتہ شب منعقد ہوا ،جس میں صدسالہ اجتماع کی تاریخی کامیابی پر حضرت قائد جمعیت مدظلہ اور تمام مرکزی و صوبائی ذمہ داران کو مبارکباد پیش کی گئ اور اظہار تشکر کیا گیا، اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق 2018 میںہونے والے الیکشن کیلئے سٹی جماعت نے مشاورت کے ساتھ سٹی میں آنیوالے چار قومی اور آٹھ صوبائی حلقوں کیلئے امیدواران کے ناموں کا اعلان کیا ،جن میں این اے 82 پر چوہدری احسان اللہ طاہر، پی پی 65 پر سٹی امیر مولانا رضوان فضل ،پی پی 66 پر مولانا احمد مدنی، این اے 83 پر ڈاکٹر زبیر، پی پی 67 پر آصف رشید ،پی پی 68 پر مولانا ریاض صدری، این اے 84 پر امیر ضلع سید محمد زکریا شاہ صاحب، پی پی 69 اور 70 کو شاہ صاحب کی صوابدید پر جبکہ این اے 85 اور پی پی 72 پر ضلعی جنرل سیکرٹری مفتی فضل الرحمن ناصر اور ان کے ساتھ پی پی 72 کیلئے مولانا عبدالواحد قاسمی کا نام بھی تجویز کیا گیا ،اور پی پی 71 پر قاری محمد وقاص کا نام تجویز کیا گیا اور ہدایت کی گئ کہ تمام امیدواران بھرپور رابطہ عوام مہم شروع کریں،اس سلسلے میں سٹی جماعت بھرپور تعاون کرے گی ،ان شاءاللہ جلاس میں ضلعی جنرل سیکرٹری مفتی فضل الرحمن ناصر صاحب نے خصوصی شرکت فرمائی ،اجلاس میں ڈپٹی جنرل سیکرٹری ضلع اشفاق انقلابی ،معروف عالم دین علامہ احسان الحق راشدی، مولانا عبدالواحد قاسمی، مولانا ریاض احمد صدری جنرل سیکرٹری سٹی حافظ محمد عرفان ،رکن صوبائ مجلس شوری مولانا احمد مدنی ،سرپرست سٹی حاجی بابو خان انصاری،نائب امیر سٹی قاری عبدالمنان غنی ،چوہدری احسان اللہ طاہر ناظم مالیات، صوفی اعجاز احمد، حاجی یعقوب، عبدالخالق اختر انصاری ،قاری عبداللہ قریشی ،ڈاکٹر خورشید احمد و دیگر نے شرکت فرمائی۔
مادر علمی دارالعلوم حقانیہ پر حملہ اور برادرم مولانا حامد الحق سمیت شہداء کی خبر سے دل رنجیدہ ہے،یہ حملہ میرے گھر اور مدرسہ پر حملہ ہے،ظالموں نے انسانیت، مسجد، مدرسے اور جمعہ کی حرمت پامال کی،کے پی کے میں بدامنی پر عرصے سے آواز اٹھا رہے ہیں،مگر ریاست خاموش تماشائی ہے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔اس المناک سانحہ میں اہل خانہ کے ساتھ خود کو بھی تعزیت کا مستحق سمجھتا ہوں،اللہ تعالٰی شہداء کی مغفرت فرمائے اور زخمیوں کو صحتیاب فرمائے،آمین۔مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کی حماس کے سابق سربراہ ڈاکٹر خالد مشعل سے ملاقات
مولانا فضل الرحمان وفد کے ہمراہ قطر پہنچ گئے
اس وقت ملکی سالمیت کا مسئلہ درپیش ہے جس پر ہم بار بار بات کر رہے ہیں،جس پر ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ ملکی سالمیت کی پالیسیاں ایوان اور حکومتی حلقوں میں نہیں بلکہ ماوراء سیاست و پارلیمنٹ بند کمروں میں بنائی جارہی ہیں، ہمیں ملکی سالمیت پر بات کرنے اور تجویز دینے کی اجازت بھی نہیں ہے۔اس وقت دو صوبوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے، وزیر اعظم صاحب کو اگر بتایا جائے قبائل یا اس سے متصل اضلاع اور بلوچستان میں کیا ہورہا ہے، تو شاید وہ یہی کہیں گے کہ ان کو علم نہیں ہے،پھر کون فیصلہ کرتا ہے ؟کل اسکا ذمہ دار پاکستان ہوگا ،عوام کی نظر میں اس سب کے ذمہ دارپارلیمان اور ہم ہیں،اس وقت ملک میں کوئی سویلین اتھارٹی اور نظریاتی سیاست موجود نہیں ہے، پاکستان میں مکمل طور پر ایک خاص اسٹیبلشمنٹ بند کمروں میں فیصلہ کرتی ہےاور حکومت صرف ان پر مہر لگاتی ہے۔کے پی کے اور بلوچستان میں امن و مان کی بدترین صورتحال ہے، میرے ضلع میں کئی علاقے پولیس جس کو کئی عرصہ پہلے خالی کرچکی ہے،حال ہی میں فوج نے بھی وہ علاقے خالی کردئے ہیں، تو بتایا جائے کہ وہ علاقہ کس کے قبضہ میں ہیں ؟درد دل اور افسوس سے یہ بات کہنی پڑ رہے ہے کہ اگر بلوچستان میں پانچ یاسات اضلاع مل کر آج آزادی کا اعلان کردیں تواگلے دن اقوام متحدہ میں ان کی درخواست کو قبول کرلیا جائے گا اور پاکستان کو تقسیم تصور کیا جائے گا، یہ جذباتی باتیں نہیں ہیں،لیکن حقائق تک پارلیمینٹ کو پہنچنا ہوگا۔آج اگر کوئی بقاءکا سوال کرتا ہے، چیخ و پکار کرتا ہے تو اس پر برا بنایا منایا جاتا ہے،چیخ و پکار کو اللہ تعالیٰ بھی پسند نہیں کرتے لیکن مظلوم کی چیخ و پکار اللہ تعالیٰ بھی سنتے ہیں۔پارلیمان میں قانون سازی کی جارہی ہے لیکن پہلے ریاستی رٹ کو تو مضبوط کیا جائے،ملک مضبوط ہوگا تو قانون نافذ العمل ہوگا، اگر ملک مضبوط نہیں ہے تو پھر قانون کس کے لئے بنایا جارہا ہے،صوبوں میں اسمبلیاں موجود ہیں لیکن کہیں بغاوت ہوتی ہے اورعوام باہر نکلتی ہے تو کوئی بھی پارلیمانی نمائندہ یا منسٹر عوام کا سامنا نہیں کرسکتا کیوں کہ عوام اسکو اپنا نمائندہ تسلیم نہیں کرتے،نظریات اور اتھارٹی کی جنگ جاری ہے، نظریات کی جنگ نظریات سے ہونی چاہئےلیکن یہاں دوسری جانب سے اتھارٹی کی سیاست کی جارہی ہے، جیسی تیسی بس اتھارٹی مل جائے، ہماری اس گفتگو کو سنجیدہ نہیں لیا جارہا ہے، کہیں پر بھی اسکا نوٹس نہیں لیا جارہا لیکن نتیجہ کیا نکلے گا کہ کل بنگال الگ ہوا تھا آج کہیں ہم سے ایک اور بازوٹو ٹ جائے، ہمیں اس کی فکر کرنی چاہئے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام آزادی صحافت پر منعقدہ سیمینار سے خطاب





