مدینہ منورہ :
حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور شہدائے اسلام کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آج ہم یہ عہد کریں ہم اپنی زندگیوں کو ان کی تعلیمات کی روشنی میں حقیقی طور پر ڈھالنے کی کو شش کرتے رہیں گے ، اسلام اور وطن کے لیئے ہرقربانی دینے کا عہد کریں
تفصیلات کیمطابق قائدجمعیت مولانافضل الرحمن مدظلہ نے عمرہ کے سفر کے دوران مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میںآنے والے زائرین سے کہا ہے کہ ملک کی سلامتی اور امن وامان واتحاد کے لیئے خصوصی دعائیں کریں انہوں نے کہاکہ دین اسلام کےلیے شہدائے اسلام کی قر بانیاں تاریخ اسلام کے ماتھے کا جھومر ہیں حضرت حسینؓ اور شہدائے اسلام کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آج ہم عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں کو ان کی تعلیمات کی روشنی میں حقیقی طور پر ڈھالنے کی کو شش کرتے رہیں گے ، اسلام اور وطن کے لیئے ہرقربانی دینے کا عہد کریں اور باڈرز کی موجودہ صورتحال میں جار حیت کا ارادہ کر نے والوں کو پیغام دیں کہ شہدائے اسلام کے ماننے والے متحد اور متفق ہیں
اس موقع پر قائد جمعیت مو لا نا فضل الرحمن مدظلہ کا کہنا تھا کہ اسلام کے حقیقی تصور اور روح کو مسخ کر نے والی باطل قوتوں کے مذموم عزائم کو نا کام بنا نے کے لیئے ہم ایک ہیں انہوں نے کہا کہ حضرت حسین کی قربانی امت مسلمہ کے لیئے مشعل راہ ہے انہوں نے کہا کہ ملک کا معاشی ،سیا سی اور معاشرتی نظام جام ہو تا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ خلفائے راشدین کانظام نافذ کر نے اور پیغام حسین پر عمل کر نے سے ہی ملک بحرانوں سے آزاد ہو سکتا ہے انہوں نے کہا کہ آج وطن عزیز کے حالات کو دیکھتے ہوئے ہمیں آپس کے اختلافات کو ختم کر کے متحد ومنظم ہونے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ پا کستان کا استحکام خطرے میں ڈالنے کے لیے ملک دشمن قوتیں سر گرم عمل ہیں جن کاڈٹ کر مقابلہ کر نے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ اتحاد امت کے لیئے سب کو کردار ادا کر نا ہو گا
انہوں نے کہا کہ جمعیت علماءاسلام اتحاد امت کے لیئے کوشاں ہے ۔
مادر علمی دارالعلوم حقانیہ پر حملہ اور برادرم مولانا حامد الحق سمیت شہداء کی خبر سے دل رنجیدہ ہے،یہ حملہ میرے گھر اور مدرسہ پر حملہ ہے،ظالموں نے انسانیت، مسجد، مدرسے اور جمعہ کی حرمت پامال کی،کے پی کے میں بدامنی پر عرصے سے آواز اٹھا رہے ہیں،مگر ریاست خاموش تماشائی ہے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔اس المناک سانحہ میں اہل خانہ کے ساتھ خود کو بھی تعزیت کا مستحق سمجھتا ہوں،اللہ تعالٰی شہداء کی مغفرت فرمائے اور زخمیوں کو صحتیاب فرمائے،آمین۔مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کی حماس کے سابق سربراہ ڈاکٹر خالد مشعل سے ملاقات
مولانا فضل الرحمان وفد کے ہمراہ قطر پہنچ گئے
اس وقت ملکی سالمیت کا مسئلہ درپیش ہے جس پر ہم بار بار بات کر رہے ہیں،جس پر ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ ملکی سالمیت کی پالیسیاں ایوان اور حکومتی حلقوں میں نہیں بلکہ ماوراء سیاست و پارلیمنٹ بند کمروں میں بنائی جارہی ہیں، ہمیں ملکی سالمیت پر بات کرنے اور تجویز دینے کی اجازت بھی نہیں ہے۔اس وقت دو صوبوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے، وزیر اعظم صاحب کو اگر بتایا جائے قبائل یا اس سے متصل اضلاع اور بلوچستان میں کیا ہورہا ہے، تو شاید وہ یہی کہیں گے کہ ان کو علم نہیں ہے،پھر کون فیصلہ کرتا ہے ؟کل اسکا ذمہ دار پاکستان ہوگا ،عوام کی نظر میں اس سب کے ذمہ دارپارلیمان اور ہم ہیں،اس وقت ملک میں کوئی سویلین اتھارٹی اور نظریاتی سیاست موجود نہیں ہے، پاکستان میں مکمل طور پر ایک خاص اسٹیبلشمنٹ بند کمروں میں فیصلہ کرتی ہےاور حکومت صرف ان پر مہر لگاتی ہے۔کے پی کے اور بلوچستان میں امن و مان کی بدترین صورتحال ہے، میرے ضلع میں کئی علاقے پولیس جس کو کئی عرصہ پہلے خالی کرچکی ہے،حال ہی میں فوج نے بھی وہ علاقے خالی کردئے ہیں، تو بتایا جائے کہ وہ علاقہ کس کے قبضہ میں ہیں ؟درد دل اور افسوس سے یہ بات کہنی پڑ رہے ہے کہ اگر بلوچستان میں پانچ یاسات اضلاع مل کر آج آزادی کا اعلان کردیں تواگلے دن اقوام متحدہ میں ان کی درخواست کو قبول کرلیا جائے گا اور پاکستان کو تقسیم تصور کیا جائے گا، یہ جذباتی باتیں نہیں ہیں،لیکن حقائق تک پارلیمینٹ کو پہنچنا ہوگا۔آج اگر کوئی بقاءکا سوال کرتا ہے، چیخ و پکار کرتا ہے تو اس پر برا بنایا منایا جاتا ہے،چیخ و پکار کو اللہ تعالیٰ بھی پسند نہیں کرتے لیکن مظلوم کی چیخ و پکار اللہ تعالیٰ بھی سنتے ہیں۔پارلیمان میں قانون سازی کی جارہی ہے لیکن پہلے ریاستی رٹ کو تو مضبوط کیا جائے،ملک مضبوط ہوگا تو قانون نافذ العمل ہوگا، اگر ملک مضبوط نہیں ہے تو پھر قانون کس کے لئے بنایا جارہا ہے،صوبوں میں اسمبلیاں موجود ہیں لیکن کہیں بغاوت ہوتی ہے اورعوام باہر نکلتی ہے تو کوئی بھی پارلیمانی نمائندہ یا منسٹر عوام کا سامنا نہیں کرسکتا کیوں کہ عوام اسکو اپنا نمائندہ تسلیم نہیں کرتے،نظریات اور اتھارٹی کی جنگ جاری ہے، نظریات کی جنگ نظریات سے ہونی چاہئےلیکن یہاں دوسری جانب سے اتھارٹی کی سیاست کی جارہی ہے، جیسی تیسی بس اتھارٹی مل جائے، ہماری اس گفتگو کو سنجیدہ نہیں لیا جارہا ہے، کہیں پر بھی اسکا نوٹس نہیں لیا جارہا لیکن نتیجہ کیا نکلے گا کہ کل بنگال الگ ہوا تھا آج کہیں ہم سے ایک اور بازوٹو ٹ جائے، ہمیں اس کی فکر کرنی چاہئے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام آزادی صحافت پر منعقدہ سیمینار سے خطاب





