اسلام آباد:
جمعیت علماءاسلام پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو کھلی دھمکی قرار دیا ہے اور حکومت سے کہاہے کہ اس بیان کو سنجیدگی سے لیکراسکا بھر پور مؤثر جواب دیا جائے ،امریکی صدر نے پاکستان کی عظیم قر بانیوں کا تغمہ دیا ہے پہلے مشکوک کردار کا اظہار اب کھلم کھلا الزام لگایا ہے ،
مر کزی میڈیا آفس کےجمعیت علماءاسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفورحیدری،مولاناقمرالدین،مولاناعصمت اللہ،حافظ حسین احمد ،مولاناصلاح الدین ایوبی،مولانامحمدحنیف،سیدمحمدفضل آغا،مولانا امجدخان ،مولاناحافظ محمد یوسف اور محمد اسلم غوری نے اپنے مشترکہ بیان دیتے ہوئے کہا ،جمعیت علماءاسلام کے راہنماؤں نے کہاہے کہ امریکی صدر کے بیان نے جمعیت علماءاسلام کے مؤقف کو سچا ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ کسی کادوست نہیں بلکہ اپنے مفادات کا دوست ہے انہوں نے کہاکہ امریکہ ہندوستان کو افغانستان میں پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے اسے بدنامی اور رسوائی کے سو اکچھ ہاتھ نہیں آئے گاامریکی حکام نے ہمیشہ دھوکہ دیا جس کا اظہار متعدد بار ہوچکا ہے،بھارت کو علاقے کاچودھری بنانے سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا امریکہ افغانستان میں بری طرح پھنس چکا ہے اور اب اسے واپسی کا راستہ بھی نظر نہیں آرہا۔
16سال تک جس جنگ کی ٹرمپ نے مخالفت کی، اسے دوبارہ شروع کرکے امریکی صدر نے شرمناک یو ٹرن لے لیا ہے انہوں نے کہاکہ امریکہ کی نئی افغان پا لیسی پر بھارت کا خیر مقدمی بیان ثابت کرتا ہے کہ امریکہ نے نئی افغان پالیسی بھی بھارت کو خوش کر نے کے لیئے دی ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان نے ہمیشہ دہشت گر دی کی مذمت کی ہے لیکن پھر بھی پاکستان کو گھسیٹا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ حکومت اس بیان کا سختی سے نوٹس لے اور امریکی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرائے ۔
جمعیت علماءاسلام کے راہنماؤں نے کہاکہ خارجہ پالیسی کا قبلہ درست کر نے کی ضرورت ہے امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامی کاملبہ پاکستان پرڈالناچاہتاہے انہوں نے کہاکہ امریکہ کی پالیسیوں سے ہی دنیا میں دہشت گر دی کو تقویت ملی ہے حکومت کو اب اپنی حکمت عملی کو تبدیل کر نا ہو گا اور امریکہ کو دوٹوک جواب دینا ہو گا کہ ملکی سا لمیت پر پوری قوم ایک ہے ۔
مادر علمی دارالعلوم حقانیہ پر حملہ اور برادرم مولانا حامد الحق سمیت شہداء کی خبر سے دل رنجیدہ ہے،یہ حملہ میرے گھر اور مدرسہ پر حملہ ہے،ظالموں نے انسانیت، مسجد، مدرسے اور جمعہ کی حرمت پامال کی،کے پی کے میں بدامنی پر عرصے سے آواز اٹھا رہے ہیں،مگر ریاست خاموش تماشائی ہے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔اس المناک سانحہ میں اہل خانہ کے ساتھ خود کو بھی تعزیت کا مستحق سمجھتا ہوں،اللہ تعالٰی شہداء کی مغفرت فرمائے اور زخمیوں کو صحتیاب فرمائے،آمین۔مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کی حماس کے سابق سربراہ ڈاکٹر خالد مشعل سے ملاقات
مولانا فضل الرحمان وفد کے ہمراہ قطر پہنچ گئے
اس وقت ملکی سالمیت کا مسئلہ درپیش ہے جس پر ہم بار بار بات کر رہے ہیں،جس پر ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ ملکی سالمیت کی پالیسیاں ایوان اور حکومتی حلقوں میں نہیں بلکہ ماوراء سیاست و پارلیمنٹ بند کمروں میں بنائی جارہی ہیں، ہمیں ملکی سالمیت پر بات کرنے اور تجویز دینے کی اجازت بھی نہیں ہے۔اس وقت دو صوبوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے، وزیر اعظم صاحب کو اگر بتایا جائے قبائل یا اس سے متصل اضلاع اور بلوچستان میں کیا ہورہا ہے، تو شاید وہ یہی کہیں گے کہ ان کو علم نہیں ہے،پھر کون فیصلہ کرتا ہے ؟کل اسکا ذمہ دار پاکستان ہوگا ،عوام کی نظر میں اس سب کے ذمہ دارپارلیمان اور ہم ہیں،اس وقت ملک میں کوئی سویلین اتھارٹی اور نظریاتی سیاست موجود نہیں ہے، پاکستان میں مکمل طور پر ایک خاص اسٹیبلشمنٹ بند کمروں میں فیصلہ کرتی ہےاور حکومت صرف ان پر مہر لگاتی ہے۔کے پی کے اور بلوچستان میں امن و مان کی بدترین صورتحال ہے، میرے ضلع میں کئی علاقے پولیس جس کو کئی عرصہ پہلے خالی کرچکی ہے،حال ہی میں فوج نے بھی وہ علاقے خالی کردئے ہیں، تو بتایا جائے کہ وہ علاقہ کس کے قبضہ میں ہیں ؟درد دل اور افسوس سے یہ بات کہنی پڑ رہے ہے کہ اگر بلوچستان میں پانچ یاسات اضلاع مل کر آج آزادی کا اعلان کردیں تواگلے دن اقوام متحدہ میں ان کی درخواست کو قبول کرلیا جائے گا اور پاکستان کو تقسیم تصور کیا جائے گا، یہ جذباتی باتیں نہیں ہیں،لیکن حقائق تک پارلیمینٹ کو پہنچنا ہوگا۔آج اگر کوئی بقاءکا سوال کرتا ہے، چیخ و پکار کرتا ہے تو اس پر برا بنایا منایا جاتا ہے،چیخ و پکار کو اللہ تعالیٰ بھی پسند نہیں کرتے لیکن مظلوم کی چیخ و پکار اللہ تعالیٰ بھی سنتے ہیں۔پارلیمان میں قانون سازی کی جارہی ہے لیکن پہلے ریاستی رٹ کو تو مضبوط کیا جائے،ملک مضبوط ہوگا تو قانون نافذ العمل ہوگا، اگر ملک مضبوط نہیں ہے تو پھر قانون کس کے لئے بنایا جارہا ہے،صوبوں میں اسمبلیاں موجود ہیں لیکن کہیں بغاوت ہوتی ہے اورعوام باہر نکلتی ہے تو کوئی بھی پارلیمانی نمائندہ یا منسٹر عوام کا سامنا نہیں کرسکتا کیوں کہ عوام اسکو اپنا نمائندہ تسلیم نہیں کرتے،نظریات اور اتھارٹی کی جنگ جاری ہے، نظریات کی جنگ نظریات سے ہونی چاہئےلیکن یہاں دوسری جانب سے اتھارٹی کی سیاست کی جارہی ہے، جیسی تیسی بس اتھارٹی مل جائے، ہماری اس گفتگو کو سنجیدہ نہیں لیا جارہا ہے، کہیں پر بھی اسکا نوٹس نہیں لیا جارہا لیکن نتیجہ کیا نکلے گا کہ کل بنگال الگ ہوا تھا آج کہیں ہم سے ایک اور بازوٹو ٹ جائے، ہمیں اس کی فکر کرنی چاہئے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام آزادی صحافت پر منعقدہ سیمینار سے خطاب





