کراچی:
قائد جمعیت مولانافضل الرحمن دامت برکاتہم نے کہاہے کہ وزیراعظم کواستعفے کے مطالبے پرڈٹ جاناچاہیے،پاناماکی دیگ ٹھنڈی ہونے جارہی ہے،پیپلزپارٹی پربھی تعجب ہورہاہے،امریکہ اور انڈیاملکر سی پیک کوتباہ کرناچاہتے ہیں،قوم اورفوج سی پیک کی ضامن ہے،خیبرپختونخواہ میں کیوں کرپشن ایشو نہیں اٹھائے جارہے۔
انہوں نے مسجد باب الرحمت ختم نبوت میں میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ پاماناکیس کامسئلہ نہیں بلکہ ملک کوغیرمستحکم کرنے کامسئلہ ہے۔ہم نے دھرنوں کوناکام بناکرسی پیک کیلئے راستہ بنایا۔امریکہ اور انڈیاملکر سی پیک کوتباہ کرناچاہتے ہیں۔جبکہ چین کی طاقت کوتباہ کرناامریکاکاایجنڈاہے۔انہوں نے کہاکہ فوج اور پوری قوم سی پیک کی ضامن ہے ۔فوج بھی ضمانت پر تب پورااترسکتی ہے جب قومی یکجہتی ہوگی ،ہم ملک کے روشن مستقبل کے ساتھ ہیں اس کو کسی صورت سبوتاژ نہیں کرنے دیں گے۔
کیانوازشریف آصف زرداری سے بڑے چور ہیں؟خیبرپختونخواہ میں کیوں کرپشن کے مسائل نہیں اٹھائے جارہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے صوبے کوبربادکرکے اور کرپشن کرکے اس ملک کوکیادیناہے؟آپ نے جہاں چھوٹے سے صوبے میں کرپشن کی مثالیں قائم کردیں توآپ پاکستان کوکیادیں گے۔خیبر پختون خوامیں ایک چیف سیکرٹری نے چارج شیٹ دیکر اور دوسرے نے بغیرچارج شیٹ دیےاستعفیٰ دیا۔
پولیس کانظام تباہ کیا۔اداروں کے ادارے تباہ ہورہے ہیں۔پاکستان میں پہلی باربیوروکریسی نے کالی پٹیاں باندھ کراحتجاج کیا۔انہوں نے کہاکہ جے آئی ٹی بناناکیاانتظامیہ کی ذمہ داری ہے ؟یاعدلیہ کی ذمہ داری ہے؟ہمیشہ حکومت ہی جے آئی ٹی بنایاکرتی ہے۔لیکن کوئی پوچھنے والانہیں اور جے آئی ٹی بن گئی۔انہوں نے کہا کہ استعفے کے مطالبے پروزیراعظم کوڈٹ جاناچاہیے۔پاناماکی دیگ ٹھنڈی ہونے جارہی ہے۔کیاپیپلز پارٹی عمران خان کواپنے خلاف سپورٹ کررہے ہیں؟ٹھنڈے دماغ کے ساتھ ملک کی طرف دیکھناچاہیے۔پیپلزپارٹی کو اس طرف بھی سوچناچاہیے۔
اس سے قبل انہوں نے جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کا بھی دورہ کیا اور وہیں نماز جمعہ کا خطبہ اور امامت کرائی.
نماز کر بعد آپ صدر وفاق المدارس، رئیس جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن سے ملاقات بھی کی
اس موقع پر ان کے ساتھ صوبہ سندھ کے جنرل سیکرٹری مولانا راشد سومرو،نائب امیر صوبہ سندھ قاری محمد عثمان ودیگر صوبائی قائدین ہمراہ تھے
مادر علمی دارالعلوم حقانیہ پر حملہ اور برادرم مولانا حامد الحق سمیت شہداء کی خبر سے دل رنجیدہ ہے،یہ حملہ میرے گھر اور مدرسہ پر حملہ ہے،ظالموں نے انسانیت، مسجد، مدرسے اور جمعہ کی حرمت پامال کی،کے پی کے میں بدامنی پر عرصے سے آواز اٹھا رہے ہیں،مگر ریاست خاموش تماشائی ہے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔اس المناک سانحہ میں اہل خانہ کے ساتھ خود کو بھی تعزیت کا مستحق سمجھتا ہوں،اللہ تعالٰی شہداء کی مغفرت فرمائے اور زخمیوں کو صحتیاب فرمائے،آمین۔مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کی حماس کے سابق سربراہ ڈاکٹر خالد مشعل سے ملاقات
مولانا فضل الرحمان وفد کے ہمراہ قطر پہنچ گئے
اس وقت ملکی سالمیت کا مسئلہ درپیش ہے جس پر ہم بار بار بات کر رہے ہیں،جس پر ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ ملکی سالمیت کی پالیسیاں ایوان اور حکومتی حلقوں میں نہیں بلکہ ماوراء سیاست و پارلیمنٹ بند کمروں میں بنائی جارہی ہیں، ہمیں ملکی سالمیت پر بات کرنے اور تجویز دینے کی اجازت بھی نہیں ہے۔اس وقت دو صوبوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے، وزیر اعظم صاحب کو اگر بتایا جائے قبائل یا اس سے متصل اضلاع اور بلوچستان میں کیا ہورہا ہے، تو شاید وہ یہی کہیں گے کہ ان کو علم نہیں ہے،پھر کون فیصلہ کرتا ہے ؟کل اسکا ذمہ دار پاکستان ہوگا ،عوام کی نظر میں اس سب کے ذمہ دارپارلیمان اور ہم ہیں،اس وقت ملک میں کوئی سویلین اتھارٹی اور نظریاتی سیاست موجود نہیں ہے، پاکستان میں مکمل طور پر ایک خاص اسٹیبلشمنٹ بند کمروں میں فیصلہ کرتی ہےاور حکومت صرف ان پر مہر لگاتی ہے۔کے پی کے اور بلوچستان میں امن و مان کی بدترین صورتحال ہے، میرے ضلع میں کئی علاقے پولیس جس کو کئی عرصہ پہلے خالی کرچکی ہے،حال ہی میں فوج نے بھی وہ علاقے خالی کردئے ہیں، تو بتایا جائے کہ وہ علاقہ کس کے قبضہ میں ہیں ؟درد دل اور افسوس سے یہ بات کہنی پڑ رہے ہے کہ اگر بلوچستان میں پانچ یاسات اضلاع مل کر آج آزادی کا اعلان کردیں تواگلے دن اقوام متحدہ میں ان کی درخواست کو قبول کرلیا جائے گا اور پاکستان کو تقسیم تصور کیا جائے گا، یہ جذباتی باتیں نہیں ہیں،لیکن حقائق تک پارلیمینٹ کو پہنچنا ہوگا۔آج اگر کوئی بقاءکا سوال کرتا ہے، چیخ و پکار کرتا ہے تو اس پر برا بنایا منایا جاتا ہے،چیخ و پکار کو اللہ تعالیٰ بھی پسند نہیں کرتے لیکن مظلوم کی چیخ و پکار اللہ تعالیٰ بھی سنتے ہیں۔پارلیمان میں قانون سازی کی جارہی ہے لیکن پہلے ریاستی رٹ کو تو مضبوط کیا جائے،ملک مضبوط ہوگا تو قانون نافذ العمل ہوگا، اگر ملک مضبوط نہیں ہے تو پھر قانون کس کے لئے بنایا جارہا ہے،صوبوں میں اسمبلیاں موجود ہیں لیکن کہیں بغاوت ہوتی ہے اورعوام باہر نکلتی ہے تو کوئی بھی پارلیمانی نمائندہ یا منسٹر عوام کا سامنا نہیں کرسکتا کیوں کہ عوام اسکو اپنا نمائندہ تسلیم نہیں کرتے،نظریات اور اتھارٹی کی جنگ جاری ہے، نظریات کی جنگ نظریات سے ہونی چاہئےلیکن یہاں دوسری جانب سے اتھارٹی کی سیاست کی جارہی ہے، جیسی تیسی بس اتھارٹی مل جائے، ہماری اس گفتگو کو سنجیدہ نہیں لیا جارہا ہے، کہیں پر بھی اسکا نوٹس نہیں لیا جارہا لیکن نتیجہ کیا نکلے گا کہ کل بنگال الگ ہوا تھا آج کہیں ہم سے ایک اور بازوٹو ٹ جائے، ہمیں اس کی فکر کرنی چاہئے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام آزادی صحافت پر منعقدہ سیمینار سے خطاب





