مورخ ِاسلام مجاہدِاسلام تحریک شیخ الہند کے بے لوث راہنما
حضرت مولانا سید محمد میاںناظم اعلیٰ جمعیت علماء ہند
پیدائش 1903ء وفات 1975ء
ولادت وتعلیم
مولانا سید محمد میاں1321ھ / 1903کو ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے جہاں آپ کے والد سید منظور محمد بسلسلہ ملازمت محکمہ نہر میں تعینات تھے تعلیم کا آغاز گھر سے ہواقرآن شریف ضلع مظفر نگر کے ایک میاں جی سے پڑھا
دارالعلوم دیوبند میں داخلہ اور فراغت
1331/1912کو دارالعلوم دیوبند کے درجہ فارسی میں داخل ہوئے ۔ 1343/1925کو سند فراغت حاصل کی آپ کا شمار رئیس المحد ثین علامہ انور کشمیر ی، شیخ الادب علامہ محمد اعزاز علی دیوبندی اور جامع المعقول والمنقول حضرت علامہ محمد ابراہیم بلیاوی کے ارشد تلامذہ میں ہوتا ہے ۔
تدریس کا آغاز
شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی کے مشورہ سے ۱۹۲۶ میں مدرسہ حنفیہ شاہ آباد میں تدریس کا آغاز کیا اور تین سال وہاں قیام کرنے کے بعد اس لئے دل برادشتہ ہوئے کہ اس مدرسہ کو سرکاری ایڈملتی تھی اور یہ بات دارالعلوم دیوبند کے اصول کے خلاف تھی لہذا آپ نے مدرسہ حنفیہ چھوڑ دیا۔
تصنیفی خدمات
مولانا سید محمد میاں صاحب بہت سی کتابوں کے منصف ہیں فقہ اور تاریخ پران کی گہری نظر تھی وہ نامور مصنف اور مورخ تھے جمعیت علماء ہند کی تاریخ میں ان کی سیا سی اور تصنیفی خدمات ہمیشہ یاد گار رہیں گی آپ کی شاندار اور شہرہ آفاق تصنیفات درج ذیل ہیں علماء ہند کا شاندار ماضی ۔ علماء حق کے مجاہدانہ کارنامے، سیرت محمد رسول اللہ ۔ تاریخ اسلام۔ عہدزریں ۔ پانی پت اور بزرگان پانی پت، تحریک شیخ الہند ۔ مشکوۃ الاثار، جو دارالعلوم دیوبند کے نصاب میں شامل ہیں ۔ دینی تعلیم کا رسالہ ،جو اسلامی مدارس و مکاتب کے نصاب میں شامل ہے ۔
ہندوستان اور جمعیت علماء کی تاریخ پر گہری نظر۔
جمعیت علماء ہند کی سیاسی تاریخ اس کے ریکارڈ پر ان کی نظر بڑی وسیع تھی علماء ہند کے سیاسی خدمات سے عوام کو روشناس کرانے کے لئے انہوں نے عظیم تصنیفی خدمات کا کارنامہ انجام دیا ہے۔
ہندوستان کے آخری عہد اسلامی کی تاریخ پر ان کی بڑی گہری نظر تھی خاندان ولی اللہ اور اکابر دیوبند کی علمی و سیاسی اور دینی تبلیغی پر ان کی تحریریں بڑی مستند سمجھی جاتی ہیں امریکہ اور یورپ کے مصنفین بھی ان کے حوالے دیتے ہیں ان کی تصانیف کو قبول عام حاصل ہے۔
مولانا محمد میاں سیاست میں
جمعیت علماء ہند کا اجلاس ۱۹۲۹ء میں قصبہ امروہہ ضلع مرادآباد میں ہورہاتھا احقر اس زمانہ میں مرادآباد کی مشہور درس گاہ جامعہ قاسئمہ مدرسہ شاہی مرادآباد میں درس و تدریس کی خدمات انجام دے رہا تھا مرد آباد ضلع کا صدر مقام ہے اور قصبہ امروہہ مراد آباد سے تقریباً اٹھارہ میل کے فاصلہ پر ہے اس لئے مرادآباد کے حضرات بھی اس اجلاس کے داعی اور ذمہ داروں میں شامل تھے ۔ مگر احقر اس وقت تک صرف ایک مدرس تھا۔ جس کو اس کے اکابرحضرت مولانا حبیب الرحمن رحمتہ اللہ علیہ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند اور حضرت الاستاذ مولانا اعزاز علی صاحب سابق شیخ الفقہ والادب دارالعلوم دیوبند نے چند ماہ پہلے مدرسہ حنفیہ، آرہ ،شاہ آباد( صوبہ بہار) سے منتقل کرکے بھیجا تھا۔
البتہ جذبہ صادق نے اس احقر کو حضرت مولانا سید فخر الدین احمد صاحب اور حضرت مولانا قاری عبداللہ صاحب مرحوم کی پارٹی کا ایک رکن یا ایک رضا کار بنادیا تھا اور اس بناء پر اس اجلاس سے احقر کا تعلق صرف وزیٹر یا تماشائی کا نہیں تھا بلکہ یہ حیثیت ہوگئی تھی کہ ایک مبصر کی طرح قریب سے قریب ہو کر حالات کا جائزہ لے سکے ۔
(مجاہدملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ایک سیاسی مطالعہ132)
مولانا محمد میاں کی خدمات:
احقر کی حیثیت صرف یہ تھی کہ مدرسہ شاہی مرادآباد کا مدرس اور جمعیتہ علماء شہر مرادآباد کا ناظم تھا۔ اس موقع پر لفظ لیڈر استعمال کرنا درست ہو تو مختصر تعبیر یہ ہے کہ احقر مقامی لیڈر تھا اور مجاہد ملت آل انڈیا لیڈر تھے ۔ مگر خوش قسمتی سے ایک مرتبہ جیل کاٹ چکا تا اس بنا پر ایک خاص امتیازحاصل ہوگیا تھا۔
دوسر امتیا زیہ تھا کہ احقر کو جمعیتہ علماء ہند کانواں ڈکٹیٹر نامزد کیا جاچکا تھا۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ اس زمانہ میں کانگریس خلاف قانون جماعت قرار دی جاچکی تھی۔ اور جمعیتہ علماء ہند کو اگرچہ انگریزی ڈپلومیسی نے خلاف قانون جماعت قرار نہیں دیا تھا ( تاکہ خود انگریزی حکومت کے عمل سے اس کے اس کے دعوے کی تردید نہ ہو جائے کہ مسلمان تحریک آزادی میں شریک نہیں ہیں ) مگر عمل جمعیتہ علماء ہند کے ساتھ ایسا ہی تھا جیسا کسی خلاف قانون جماعت کے ساتھ ہوسکتا ہے ۔ اس کے دفتر پر پولیس کے چھاپے پڑتے رہتے تھے۔ نمایاں کارکنوں کو گرفتار کرلیا جاتا تھا وغیرہ وغیرہ ۔
(مجاہدملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ایک سیاسی مطالعہ 142)
علمائے ہند کا شاندار ماضی کی ضبطی :
یوپی حکومت نے مولانا سید محمد میاں کی مایہ ناز کتاب علمائے ہند کا شاندار ماضی کی ضبطی کے احکامات جاری کئے جس پر جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے ۱۳؍۱۴جولائی ۱۹۴۰ء کے اجلاس میں اس بات کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جمعیت اس کو صریح تشدد اورقانون کا بے جا استعمال سمجھتی ہے کیونکہ وہ کتاب محض ایک تاریخی کتاب ہے جس میں گذشتہ واقعات کو تاریخ کی کتابوں یا اسانید کے ساتھ جمع کیاگیا ہے ا س ضبطی کاعلوم وتصنیفات جدیدہ کی تدوین واشاعت پر نہایت ناگوار اورناقابل برداشت اثر پڑے گا(جمعیت العلما کیا ہے314)
بھاگل پورہ کے فسادات میں میاں صاحب کا کردار 27ستمبر1950ء کو چلمل ضلع بھاگل پورہ میں فساد ہوا ۔ جہاں حضرت مولانا محمد میاں صاحب اور حضرت مولانا نور الدین صاحب بہاری بشکل وفد پہنچے اور مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن صاحب نے وزیراعظم بہار مسٹر سری کرشن سنہا کوتاردے کر متوجہ کیا۔ پھر ۱۱ ستمبر کو دہلی میں وزیراعظم ہند سے دوبارہ ملاقات کی ۔ (مجاہدملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ایک سیاسی مطالعہ311)
بھوپال کے فسادات میں میاں صاحب کا کردار:
سب سے پہلے یکم مارچ 1953کو عین ہولی کے دن اور پھر ۵ مارچ کو( رنگ پنمچی کے روز) بھوپال میں شدید فسادہوا جہاں حضرت مولانا محمد میاں صاحب مسٹر یوسف فیروزی اور مولانا فقیہہ الدین پر مشتمل وفد بھیج کر اصلاح حال کی پوری کوششیں فرمائیں ۔ 16اپریل کو چومو( ضلع جے پور) میں گڑبڑ ہوئی اور وہاں مسٹر سلطان یار خان وکیل کو بھیجا۔شدھی فتنہ کی سرکوبی اسی زمانے میں گجرات کے نواح میں شدھی تحریک نے پوری قوت کے ساتھ سر اٹھایا تو اس کے مقابلے میں اور روک تھام کے لئے ناظم جمعیتہ علماء حضرت مولانا محمد میاں صاحب گجرات پہنچے اور مرحوم مولانا شمس الدین صاحب بڑودوی کے ساتھ انہوں نے نہایت موثر مفید اور خاموش خدمات انجام دیں اور اس فتنہ کی سرکوبی ہوسکی۔
(مجاہدملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ایک سیاسی مطالعہ312)
وفات
12 شوال المکرم 1395ھ /22 اکتوبر 1975کو 74 سال کی عمر میں اس دارفانی سے عالم جاودانی کی طرف رحلت فرمائی دہلی میں آسودہ خواب ہیں۔
مادر علمی دارالعلوم حقانیہ پر حملہ اور برادرم مولانا حامد الحق سمیت شہداء کی خبر سے دل رنجیدہ ہے،یہ حملہ میرے گھر اور مدرسہ پر حملہ ہے،ظالموں نے انسانیت، مسجد، مدرسے اور جمعہ کی حرمت پامال کی،کے پی کے میں بدامنی پر عرصے سے آواز اٹھا رہے ہیں،مگر ریاست خاموش تماشائی ہے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔اس المناک سانحہ میں اہل خانہ کے ساتھ خود کو بھی تعزیت کا مستحق سمجھتا ہوں،اللہ تعالٰی شہداء کی مغفرت فرمائے اور زخمیوں کو صحتیاب فرمائے،آمین۔مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کی حماس کے سابق سربراہ ڈاکٹر خالد مشعل سے ملاقات
مولانا فضل الرحمان وفد کے ہمراہ قطر پہنچ گئے
اس وقت ملکی سالمیت کا مسئلہ درپیش ہے جس پر ہم بار بار بات کر رہے ہیں،جس پر ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ ملکی سالمیت کی پالیسیاں ایوان اور حکومتی حلقوں میں نہیں بلکہ ماوراء سیاست و پارلیمنٹ بند کمروں میں بنائی جارہی ہیں، ہمیں ملکی سالمیت پر بات کرنے اور تجویز دینے کی اجازت بھی نہیں ہے۔اس وقت دو صوبوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے، وزیر اعظم صاحب کو اگر بتایا جائے قبائل یا اس سے متصل اضلاع اور بلوچستان میں کیا ہورہا ہے، تو شاید وہ یہی کہیں گے کہ ان کو علم نہیں ہے،پھر کون فیصلہ کرتا ہے ؟کل اسکا ذمہ دار پاکستان ہوگا ،عوام کی نظر میں اس سب کے ذمہ دارپارلیمان اور ہم ہیں،اس وقت ملک میں کوئی سویلین اتھارٹی اور نظریاتی سیاست موجود نہیں ہے، پاکستان میں مکمل طور پر ایک خاص اسٹیبلشمنٹ بند کمروں میں فیصلہ کرتی ہےاور حکومت صرف ان پر مہر لگاتی ہے۔کے پی کے اور بلوچستان میں امن و مان کی بدترین صورتحال ہے، میرے ضلع میں کئی علاقے پولیس جس کو کئی عرصہ پہلے خالی کرچکی ہے،حال ہی میں فوج نے بھی وہ علاقے خالی کردئے ہیں، تو بتایا جائے کہ وہ علاقہ کس کے قبضہ میں ہیں ؟درد دل اور افسوس سے یہ بات کہنی پڑ رہے ہے کہ اگر بلوچستان میں پانچ یاسات اضلاع مل کر آج آزادی کا اعلان کردیں تواگلے دن اقوام متحدہ میں ان کی درخواست کو قبول کرلیا جائے گا اور پاکستان کو تقسیم تصور کیا جائے گا، یہ جذباتی باتیں نہیں ہیں،لیکن حقائق تک پارلیمینٹ کو پہنچنا ہوگا۔آج اگر کوئی بقاءکا سوال کرتا ہے، چیخ و پکار کرتا ہے تو اس پر برا بنایا منایا جاتا ہے،چیخ و پکار کو اللہ تعالیٰ بھی پسند نہیں کرتے لیکن مظلوم کی چیخ و پکار اللہ تعالیٰ بھی سنتے ہیں۔پارلیمان میں قانون سازی کی جارہی ہے لیکن پہلے ریاستی رٹ کو تو مضبوط کیا جائے،ملک مضبوط ہوگا تو قانون نافذ العمل ہوگا، اگر ملک مضبوط نہیں ہے تو پھر قانون کس کے لئے بنایا جارہا ہے،صوبوں میں اسمبلیاں موجود ہیں لیکن کہیں بغاوت ہوتی ہے اورعوام باہر نکلتی ہے تو کوئی بھی پارلیمانی نمائندہ یا منسٹر عوام کا سامنا نہیں کرسکتا کیوں کہ عوام اسکو اپنا نمائندہ تسلیم نہیں کرتے،نظریات اور اتھارٹی کی جنگ جاری ہے، نظریات کی جنگ نظریات سے ہونی چاہئےلیکن یہاں دوسری جانب سے اتھارٹی کی سیاست کی جارہی ہے، جیسی تیسی بس اتھارٹی مل جائے، ہماری اس گفتگو کو سنجیدہ نہیں لیا جارہا ہے، کہیں پر بھی اسکا نوٹس نہیں لیا جارہا لیکن نتیجہ کیا نکلے گا کہ کل بنگال الگ ہوا تھا آج کہیں ہم سے ایک اور بازوٹو ٹ جائے، ہمیں اس کی فکر کرنی چاہئے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام آزادی صحافت پر منعقدہ سیمینار سے خطاب





