اسلام آباد:
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان دامت برکاتہم نے کہا ہے کہ آرٹیکل62 اور 63 کو ختم کرنی کی کوشش ملک کو سیکولرازم کی طرف دھکیلنے کی کوشش تصور کی جائے گی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میںقائد جمعیت مولانا فضل الرحمان مدظلہ کا کہنا تھا کہ آرٹیکل62 اور 63 کو ختم کرنی کی کوشش ملک کو سیکولرازم کی طرف دھکیلنے کی کوشش تصور کی جائے گی لہذا آرٹیکل 62اور 63 ہر صورت برقرار رہنا چاہیے، ہمارا کام قانون کے غلط استعمال کو روکنا ہے نا کہ قوانین کو ختم کرنا۔ آئین میں صادق اور امین کی تشریح کرنی ہوگی اور 62 اور 63 کی ایک ایک شق کی مکمل تشریح ہونی چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آرٹیکل 62 اور 63 کی تشریح کے لیے قانون سازی کی گئی تو ساتھ دیں گے، صادق و امین اور دینی علوم کا علم رکھنے والا کون ہے اس کی تعریف ہونی چاہیے جب کہ ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرانا چاہیے، ذوالفقار علی بھٹو کا قتل جمہوریت کا قتل تھا۔
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی حماس رہنماؤں خالد مشعل اور اسماعیل ہانیہ سے ملاقات
جمعیت علماء اسلام کی دو روزہ مرکزی مجلس شوری کے اہم فیصلے
سوئیڈن میں ایک بار پھر قرآن کریم کی بیحرمتی کیخلاف ، بعد نماز جمعہ ، قائد جمعیت کا ہنگامی احتجاج کا اعلان
جمعیت علماء اسلام کی مرکزی رکنیت سازی شروع، مولانا فضل الرحمٰن نے فارم رکنیت بھر کر افتتاح کیا ۔عمران خان خان کے بیرونی ایجنٹ ہونے کے حقائق سامنے آرہے ہیں۔ ہم نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا ۔ مولانا فضل الرحمٰناسرائیل نے اقوام متحدہ میں پہلی بار پاکستان پر تنقید کی ۔عمران خان کنزرویٹو فرینڈز آف اسراائیل کے نمائندے کی انتخابی مہم چلائی ۔ مولانا فضل الرحمٰن کا خطاب
امریکی اراکین پارلیمنٹ پاکستان کے معاملات میں مداخلت سے گریز کریں ، جس عمران خان کو امریکی لابی تحفظ دینے کے لیے پگھل رہی ہے، اسی مجرم کو ہماری عدالتیں کیوں تحفظ فراہم کر رہی ہیں، اپنے لاڈلے کے لیے عدالتیں آئین اور قانون سے کھلواڑ کر رہی ہیں، اسے رعایت دینے کے لیے نہ کوئی آئین کا احترام ہے اور نہ قانون کا احترام ہے،عمران خان کو ریلیف دینے کے حوالے سے صورتحال برقرار رہی تو اس کا مطلب ہوگا کہ عدالتیں قوم کے ساتھ اعلان جنگ کر رہی ہیں۔مولانا فضل الرحمان