قائدجمعیت مولانافضل الرحمن کاصد سالہ اجتماع سے خطاب

پوری دنیامیں جہاں جہاں جمعیۃ علماء موجودہے ،بحرین ،قطر،نیپال ،بنگلہ دیش ،سعودی عرب ،ایران ،افریقہ ،ہانگ کانگ کے علاوہ بے شمارممالک کی جمعیۃ علماء کے وفود یہاں پہنچ چکے ہیں۔جواس بات کاپیغام دے رہے ہیں کہ شیخ الہندنے جوفلسفہ امن دیاتھا،جوسیاسی نظریہ دیاتھا،اس پرکام کرنے والے لوگ پوری دنیا میں موجود ہیں۔پرامن سیاسی جدوجہدصرف پاکستا ن میں موجود جمعیت کامنہج نہیں ہرسطح پرپوری دنیامیں حضرت شیخ الہندکے روحانی فرزندان اسی راستے پررواں دواںہیں۔خیبرپختون خوا ،پشاورکی سرزمین کویہ اعزازحاصل ہے کہ ساری دنیاکے علماء ایک اسٹیج پر موجودہیں۔
عالمی صدسالہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوںکہاکہ 1919ء میں جب جمعیۃ علماء کی بنیاد رکھی گئی تھی، یہ کسی مسلک کی بنیاد پر نہیں تھی، بلکہ فرقہ واریت سے بالاترہوکرپوری قوم کوایک نظریہ آزادی پر متحدکرکے جمعیۃ علما کی بنیاد رکھی گئی تھی۔یہی وجہ ہے کہ اس تاسیسی اجلاس میں تمام مسالک کے اکابر موجود تھے۔انہوں نے کہاکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد1945ء میں ختم ہوئی اس کے بعد اقوام عالم نے جنگ کے ذریعے ملکوں پر قبضہ کی روایت ختم کردی ۔اور اداروں کے ذریعے ملکوں کے وسائل پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں امن وآتشی کے ذریعے حکمرانی کے تصور نے جنم لیا اور تشدد کا راستہ ترک کرکے سیاسی جمہوری راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، لیکن ہمارے اکابر نے اس فلسفہ کو کئی عشرے قبل اختیار کیا تھا، گویادنیا حضرت شیخ الہندکے فلسفہ کے لیے محتاج ہوئی اور اسی راستے پر چل پڑی۔ ہمارے اسٹیج پر پاکستان کے سیاسی جماعتوں کے نمائندے تشریف لائے ۔ ہم ان کے ممنون ہیں، انہوں نے آکرہمیں عزت بخشی ۔ ان تما سیاسی زعما کی تشریف آوری سے اجتماع کے اسٹیج نے قومی وملی وحدت کامظاہرہ کیا۔ہم آنے والے نسلوں کو وحدت کی یہ امانت سونپ دیناچاہتے ہیں۔ اور ہم آنے والی صدی کی بنیاد اسی وحدت پر رکھناچاہتے ہیں۔
آج ہمارے اسٹیج پر ہندوبرادری ،مسیحی برادری کی قیادت موجود ہے یہ ملی وحدت کا بہترین ثبوت ومظاہرہ ہے۔ میں ہر اسٹیج اور ہر پلیٹ فارم پرملی اور قومی وحدت کی بات کرتا ہوں، میری طرف مسلک کی انگلی ہرگز نہ اٹھائی جائے۔میری ترجیحات ہمیشہ اسلام اور ملت کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔