کراچی کے شہریوں کو جہاں بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے وہاں شہری پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں جبکہ پورا شہر کچرا کنڈی کا منظر پیش کررہا ہے ۔ کے الیکٹر ک کی نجکاری مافیا کی شکل اختیار کر گئی ہے ا سے فوری طور پر سرکاری تحویل میں لے کر کراچی کے شہریوں کے دیرینہ مسائل حل کئے جائیں .قاری محمد عثمان

کراچی:جمعیت علماء اسلام کے صوبائی نائب امیر قاری محمد عثمان نے کہاکہ گرمی کے باضابطہ آغاز سے قبل ہی اہل کراچی پر بدترین لوڈشیڈنگ مسلط کر کے پانی بند کردیاگیا ہے ۔صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل میں بری طرح ناکام ہو کر رہ گئی ہے ۔کے الیکٹرک نے عوام کی زندگی اجیرن بناکر رکھ دی ہے،کوئی پوچھنے والا نہیں ۔قاری محمد عثمان نے کہا کہ قبل ازوقت اس شدید گرمی میں حکمرانوں کی نااہلی اور لاپرواہی سے کراچی کے شہریوں کو جہاں بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے وہاں شہری پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں جبکہ پورا شہر کچرا کنڈی کا منظر پیش کررہا ہے ۔
کے الیکٹر ک کی نجکاری مافیا کی شکل اختیار کر گئی ہے ا سے فوری طور پر سرکاری تحویل میں لے کر کراچی کے شہریوں کے دیرینہ مسائل حل کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جس کا بس چلے وہ شہریوں کو ذبح کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا کرتے ۔سندھ حکومت کی غلط اور ناقص حکمت عملی سے کراچی کے تمام ادارے تباہی کے کنارے پر کھڑے ہیں ۔قاری محمد عثمان نے کہا کہ اب جبکہ سخت ترین موسم اور رمضان المبارک کی آمد آمد ہے رمضان سے پہلے کے ا لیکٹرک کے مجموعی مسائل پانی کی گھر گھر سپلائی شہر بھر خصوصا کراچی کے متوسط طبقات کی آبادیوں میں ہنگامی بنیادوں پر ہفتہ وار صفائی مہم چلا نا، اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں کو کم کرتے ہوئے رمضان پیکج کے ذریعے بلا امتیاز رنگ ونسل عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ شہریوں کے مسائل حل کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان بنیادی انسانی حقوق کی دادرسی نہ کرتے ہوئے حکمرانوں نے حسب سابق اپنا قبلہ درست نہ کیا اور جوں کی توں یہی صورت حال برقرار رکھی تو اہل کراچی سڑکوں پر نکل کر قوت بازو سے اپنے حقوق کو حاصل کرنا اپنی مجبوری سمجھیں گے ۔قاری محمد عثمان نے کہا کہ کے الیکٹرک کے مسائل نے عوام کو خود کشی پر مجبور کر دیا ہے جبکہ شہریوں کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہوگیا ہے کسی بھی وقت یہ لا وا پھٹ سکتا ہے۔
وہ اسلام آباد، پشاور اور سوات کے تنظیمی دورے سے واپسی پر کراچی ایئرپورٹ پر گفتگو کررہے تھے۔ اس موقع پر بزرگ رہنما محمد الیاس خان، قاضی امین الحق آزاد، بشیر بن عزیز، ناصر خان، فضل الہی اور دیگر کارکن موجود تھے ۔