مفتی اعظم ہند مولانا کفایت اللہ دہلویؒ

حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
مفتی اعظم ہندتحریک آزادی کے عظیم مجاہد
صدرجمعیت علماء ہند شیخ الحدیث جامعہ امینیہ دہلی
پیدائش1875 وفات1953
ولادت وتعلیم:
حضرت مفتی کفایت اللہ ۱۲۹۲ھ مطابق ۱۸۷۵ء کو بھارت کے صوبے اتر پردیش کے علاقہ شاہ جہاں پور میں پیدا ہوئے ۔ آپکے والدشیخ عنایت اللہ نہایت نیک نفیس صاحب تقوی بزرگ تھے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدرسہ شاہی مراد آباد میں داخل ہوئے ۔ دو سال تک وہاں پڑھا آپ کے والد نادار تھے ۔ اخراجات پورا کرنے کیلئے آپ ٹوپیاں بنا کر فروخت کرتے تھے ، ۱۳۰۰ھ میں دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے حضرت شیخ الہند اور دیگر اکابر اساتذہ کرام سے علوم و فنون کی کتابیں پڑھ کر ۱۳۱۵ھ میں مولانا عبدالعلی صاحب میرٹھی اور حضرت شیخ الہند سے دورہ حدیث پڑھ کر سند فراغت حاصل کی ۔
درس وتدریس:
آپ نے کچھ عرصہ شاہجہان پور میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا ۔شوال ۱۳۲۱ھ کو مولوی محمد امین الدین صاحب کی کوششوں سے دہلی تشریف لے گئے اور مدرسہ امینیہ میں درس و تدریس شروع کی ۔ مدرسہ امینیہ مولوی امین الدین نے ربیع الثانی ۱۳۱۵ھ میں قائم کیا تھا ۔علامہ انور شاہ کاشمیری اس کے صدر مدرس تھے ۔ ان کے چلے جانے کے بعد حضرت مفتی صاحب نے مدرسہ کے تمام انتظامات سنھبالے ۔ مولانا امین الدین کی وفات ۶ جون ۱۹۲۰ء کو ہوئی اس کے بعد ۲۶ جون ۱۹۲۰ء کو حضرت شیخ الہند نے مدرسہ امینیہ کا اہتمام بھی آپکے حوالے کیا ۔
انقلابی جماعت سے حضرت مفتی صاحب کا تعلق
جمعیت الانصار سے حضرت مفتی صاحب کا تعلق تھا حضرت شیخ الہند کی نسبت سے بانی نظارۃالمعارف مولانا عبید اللہ سندھی اور شیخ الحدیث جامعہ امینیہ حضرت مفتی اعظم ایک دوسرے کے خواجہ تاش تھے ایک ہی مقصد کے لئے دونوں حضرات کی جدوجہد کا زمانہ ایک تھا ( مفتی کفایت اللہ ایک مطالعہ ۱۳۰)
آزادی ہند کا مطالبہ : ۱۹۱۷ء میں برطانوی وزیر ہند لارڈ مائیکو ہندوستان آئے ۔ اس موقع پر مفتی اعظم حضرت مولانامفتی کفایت اللہ نے مسلمانوں کے قومی و مذہبی اغراض کی حفاظت کیلئے ایک پمفلٹ میں حکومت سے خود اختیاری ( آزادی وطن ) کا مطالبہ کیا ۔
شیخ الہند کی رہائی کیلئے جدوجہد :
۱۹۱۸ء میں مفتی اعظم نے رولٹ ایکٹ کے نفاذ اور تحریک شیخ الہند ( تحریک ریشمی رومال) کے قائدین کی گرفتاری اور جلاوطنی کے بعد انجمن اعانت نظر بندان ِاسلام قائم فرمائی جس کے سرپرست مسیح الملک ، حکیم اجمل خان مرحوم تھے ۔
اجلاس میں شرکت :
مسلم لیگ کے گیارہویں اجلاس دہلی منعقدہ دسمبر ۱۹۱۸ء میں پہلی دفعہ علماء کرام بکثرت شریک ہوئے ۔علماء کرام کی شرکت کی خوشی میں کرسی صدارت سے مبارکباد کی تجویذ پیش کی گئی ۔ شرکت کرنے والوں میں حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی مولانا احمد سعید دہلوی ، مولانا عبدالباری فرنگی محل ، مولانا آزاد سبحانی ، مولانا ابراہیم سیالکوٹی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبدالطیف وغیرہ شامل تھے۔
آپ کا تیار کردہ خطبہ استقبالیہ :
دسمبر ۱۹۱۸ء میں مسلم لیگ کا گیارہواں اجلاس دھلی میں ہوا اس میں دیگر علماء کے ساتھ آپ نے بھی شرکت کی ۔ صدر استقبالہ ڈاکٹر مختار انصاری مرحوم تھے ان کا خطبہ استقالیہ آپ ہی نے تیار کیا تھا جو اتنا پر جوش اور مدلل تھا کہ صوبہ متحدہ کی حکومت نے بغاوت کے اندیشہ میں اس کو ضبط کر لیا ( مفتی اعظم نمبر ۱۳۹)
تحریکات میں حصہ :
رولٹ بل ۱۹۱۹ء کے خلاف جب گاندھی جی نے خلافت کمیٹی کی شرکت میں ستیہ گرہ شروع کی تو حضرت مفتی صاحب نے بڑے انہماک سے اس تحریک میں حصہ لیا آپ کے دولت خانے پر ہندستانی لیڈروں کے بڑے بڑے اہم مشورے ہوتے تھے ۔
ترک موالات کا فتویٰ:
ترک مولات کے بارہ میں پانچ سو علماء کاانقلابی فتوی آپ ہی نے مرتب فرمایا تھا ۔
دوسروں سے کام لینے کا سلیقہ :
۱۹۱۹ء سے ۱۹۳۸ء تک مسلسل ۱۹برس حضرت مفتی صاحب جمعیت علماء ہند کے صدر رہے لیکن انیس برس میں آپ کبھی جمعیت کے اجلاس کے صدر نہیں بنے بلکہ ہم عصر دوستوں کی صدارت میں کام کرنا ان کی طبیعت کا خاص وصف تھا ۔
(مفتی اعظم نمبر۵۰) مفتی صاحب کی صفات حمیدہ :
حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی لکھتے ہیں آپ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن کے شاگرد خاص تھے تمام زندگی تقویٰ اور دیانت داری سے بسر کی غیبت ، خیانت اور انتقام کا کبھی تصور بھی آپکے دل میں نہ آیا وہ اپنے مخالفوں کے ساتھ بھی نیکی کرنے کے عادی تھے ( مفتی اعظم نمبر۱۰۵)
جنگ بلقان
دہلی کے ابتدائی زمانہ میں مغربی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں سے جنگ بلقان کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر مسلمانان ہند میں اسلامی اخوت اور غیرت ملی کا جذبہ پیدا ہوا اور وہ ترکی کے ہوا۔ اس موقع پر مسلمانان ہند میں اسلامی اخوت اور غیرت ملی کا جذبہ پیدا ہوا اور وہ ترکی کے مسلمانوں کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے جنگ بلقان کے مظلوموں کے لئے چندہ دینا شروع کیا۔ ایسے نازک موقعہ پر حضرت مفتی صاحب کی طرف سے دو اہم فتوے شائع کئے جس میں ایک فتویٰ یہ تھا کہ:
ایسے موقع پر جب کہ ترکی کے مسلمانوں پر مصیبت کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں، مساجد میں خدا کی بارگاہ میں ان کے لئے دعائیں مانگی جائیں اور قنوت نازلہ پڑھی جائے تاکہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے یہ مصیبت دور کرے۔‘‘
دوسرا فتویٰ چرم قربانی کے بارے میں ہزاروں کی تعداد میں شائع کیا گیا۔
علاوہ ازیں حضرت مفتی صاحب نے ترکوں کی حمایت میں ایک جلسہ منعقد کرایا جس میں آپ نے ترکنوں کے المناک حالات بیان کئے اور طلبہ کو ان کی اعانت کرنے پر آمادہ کیا۔ آپ کی تقریر کا اس قدر اثر ہوا کہ ان غریب اور مفلس طلبہ کے پاس جو کچھ تھا وہ سب کچھ انہوں نے پیش کر دیا۔ جن کے پاس نقد کچھ نہ تھا، انہوں نے اپنے کپڑے، کتابیں اور برتن دے دئیے۔ اس کے بعد آپ نے مدرسین اور طلبہ کو چندہ جمع کرنے کے لئے شہر بھیجا۔ اس طرح جو سامان جمع ہوا اس کو بذات خود حضرت مفتی صاحب نے سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر نیلام کیا۔ اس وقت لوگوں کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ قیمت دے کر وہ سامان خرید رہے تھے۔ اس طرح نقد اور نیلام میں سامان فروخت کر کے جو چندہ جمع ہوا وہ سب ترکی کی رفاعی انجمن ’’ہلال احمر‘‘ کو روانہ کیا گیا۔ اس کی کل میزان تین ہزار آٹھ سو چورانوے روپے آٹھ آنے نو پائی تھی۔ (بیس بڑے مسلمان: ۴۲۶)
سیاست ساز
جمعیۃ علمائے ہند اس وقت تک قائم نہیں ہوئی تھی مگر حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب کو اللہ تعالیٰ نے اس قدر سیاسی بصیرت عطا کی تھی کہ آپ کی فکر دوربیں نے اس کی خامیاں بھانپ لی تھیں۔ چنانچہ آپ نے اسی زمانہ میں اس کی خامیاں اپنی ذاتی حیثیت سے واضح کیں۔ آپ کی سیاسی بصیرت اور سوجھ بوجھ اس قدر مسلم تھی کہ آپ کے استاذ محترم حضرت شیخ الہندؒ جب کبھی کسی سیاسی لیڈر سے گفتگو کرتے تھے تو سب سے پہلے حضرت مفتی صاحب کو بلا کر ان سے مشورہ کرتے تھے۔ اس موقع پر آپ کے رفقاء اور مخصوص تلامذہ آپ پر رشک کیا کرتے تھے۔ ایک
دفعہ بہت اصرار کے بعد حضرت شیخ الہندؒ نے اپنے رفقاء کو مخاطب کر کے فرمایا:
بے شک تم لوگ سیاستدان ہو لیکن مولوی کفایت اللہ کا دماغ سیاست ساز ہے۔ (بیس بڑے مسلمان: ۴۲۶ جمعیت علماء ہندکی تاسیس جنگ عظیم اول کے اختتام پرترکوںکی خود مختاری اور سا لمیت کاخاتمہ ہو گیا ۔مسلمانانِ ہندنے خلافت کو بچانے کیلئے بھر پور جدجہد کی اور ۲۲،۲۳نومبر ۱۹۱۹کو دہلی میںخلافت کانفرنس ہوئی اس کانفرنس میں خلافت کمیٹی کاقیام عمل میں لایاگیا مفتی کفایت اللہ نے اس کانفرنس میںایک قرارداد کے ذریعے جشن صلح کامقاطعہ کرنے کی تجویز پیش کی اور اس کی تائید ہر ایک خیال اور طبقے کے مسلمانوں کی اس کے بعد ایک فتوی کے ذریعے جشن صلح مین شرکت نہ کر نے والی قرارداد کی تائد مقتدر علما سے بھی کرادی گئی ۲۲؍۲۳نومبر ۱۹۱۹کو خلافت کانفرنس کے موقع پر ہندستان بھر سے علما کی ایک بڑی تعداددہلی میں جمع ہوئی ۔خلافت کانفرنس کے بعد مولانا عبدالباری فرنگی محل کی زیر صدارت موجود علما ء کرام کا ایک جلاس ہوا اس جلاس میں صرف علما ء ہی شریک تھے اس اجلاس میں مولانا ثناء اللہ امرتسری کی تحریک مولانا سلامت اللہ ، مولانا نیر الزمان اور دیگر حاضرین اجلاس کی تائید واتفاق سے ایک تنظیم قائم کی گئی جس کانام ’’جمعیت علماء ہند ‘‘رکھاگیا باالاتفاق مفتی اعظم ہند مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی کواس جماعت کا عارضی صدر اور مولانا احمدسعیددہلوی عارضی ناظم اعلی منتخب کیاگیا
جمعیت علماء ہند کی صدارت
جمعیت علماء ہند کی تاسیس کے وقت حضرت مفتی کفایت اللہ کو نا ئب صدر بنایا گیا تھا ۔اور جمعیت کی صدارت حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب کیلئے محفوظ رکھی گئی تھی جواسوقت مالٹا میں نظربندتھے چنانچہ جمعیت کے دوسرے اجلاس منعقد ہ دہلی کی صدارت حضرت شیخ ا لہند نے فرمائی اگرچہ علالت کی وجہ سے اجلاس میں تشریف نہ لاسکے اور اجلاس کے بعد حضرت کا وصال ہوگیا اس کے بعد ۱۹۳۹تک حضرت مفتی صاحب جمعیتہ کے صدررہے آپ کی بے نفسی اور خلوص کا یہ عالم تھا کہ اپنی صدارت کا طویل زمانے میں آپ نے سالانہ اجلاسوں کی صدارت نہیں کی بلکہ بہت سے گوشہ نشین علماء کو صدارت کے ذریعے سے عوام میں روشناس اور سیاسی دنیا میں متعارف کرایا۔
عجز و انکساری
حضرت مفتی صاحب پانے استاذ حضرت شیخ الہندؒ کی زندگی میں جمعیۃ علماء ہند کے عارضی صدررہے۔ وہ مالٹا میں نظر بند رہنے کی وجہ سے صدارت نہیں کر سکے، اس لئے حضرت مفتی صاحب ان

کی وفات تک عارضی صدر رہے اور ان کی زندگی میں مستقل صدر بننا قبول نہیںکیا۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ آپ ۱۹۱۹ء سے لے کر ۱۹۳۸ء تک مسلسل انیس برس تک صدر رہے۔ مگر اس عرصے میں کبھی آپ جمعیۃ علماء ہند کے سالانہ اجلاس کے صدر نہیں بنے بلکہ ہم عصر دوستوں کی صدارت میں کام کرنا آپ کی طبیعت کا خاص وصف رہا۔ (بیس بڑے مسلمان: ۴۳۱)
جہد مسلسل
ابوالغیاث صاحب فرماتے ہیں جنگ آزادی کے پورے دور میں صرف تین آدمی ایسے دیکھے جنہوں نے تحریکات کے سلسلے میں سینکڑوں سفر کئے مگر مصارف سفر ہمیشہ اپنی جیب سے ادا کئے ۔ حکیم اجمل خان ، ڈاکٹر مختار احمد انصاری اور حضرت مفتی اعظم مولانا مفتی کفایت اللہ فرق یہ ہے کہ حکیم صاحب اور ڈاکٹر صاحب دولت منداور غنی تھے حضرت مفتی اعظم فقیر مستغنی: جمعیت علماء ہند سے حضرت نے اپنی صدارت کے پورے دور میں اپنا سفر خرچ کبھی نہیں لیا اگر کبھی ہاتھ تنگ ہو تا تو سفر ملتو ی فرما دیتے مگرالتواء کا سبب کچھ اور ظاہر فرمادتے تھے، بس اے مسلمانوں۔ وہ وقت جب کہ تم جامع مسجد شاہجہانی کے صحن میں کھڑے ہو کر ایسی الوالعزم ہستیوں پرکانگریس کے تنخوادار ہونے کا الزام لگایا کرتے تھے اور اے آدمیو۔یادرہے گایہ وقت جب کہ تم ان کی بے لوث قربانیاں کو بھول چکے اور ان کانام صفہ ہستی سے مٹادینا چاہتے ہو جنہوں نے اپنی ضروریات کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا اور آزادی کی جنگ میںان کا قدم اگے ہی برھتا رہا اپنا سر کٹا کر ہمارے سر اونچے کر گئے(رضی اللہ عنہم ورضو عنہ)۔(مفتی اعظم نمبر۸۲)
وفات
کسی کو کیا خبر تھی کہ ملت اسلامیہ کے اس بوڑھے سپہ سالار کے دل پر کیا گزررہی ہے آدھی صدی دینی و سیاسی جدوجہد میں گزار کر بوڑھا شاہسوار زمانے کی ناسازگاری سے تھک چکا تھا اب اسے ایک نیند کی ضرورت تھی رحمت العالمین کے دامن رحمت کا ایک جھونکا آیا اور اس کو نیند آگئی ۳۱ دسمبر ۱۹۵۲ شب ساڑھے دس بجے ملت اسلامیہ کابوڑھا جرنیل اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔(مفتی اعظم نمبر۴۱)