فخرجمعیت مولانا عبدالغفور حیدری مدظلہ

مولانا عبدالغفور حیدری
ناظم عمومی جمعیت علماء اسلام پاکستان

ولادت وتعلیم:
مولانا عبدالغفور حیدری جون 1957کو بلوچستان کے ضلع قلات کی تحصیل گرگ میں پیداہوئے آپ کے والد کانام عظیم خان لہڑی ہے مڈل تک سکول کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد ۱۹۶۸مدرسہ میں داخل کرادئے گئے ابتدائی تعلیم سندھ ضلع جیکب آباد گڑھی خیرو مدرسہ دارالھدی میں حاصل کی اس کے بعد سندھ کے مختلف مدارس میں پڑھتے رہے آپ نے حضرت مولانا عبداللہ درخواستی کے مدرسہ جامعہ مخزن العلوم میں بھی تعلیم حاصل کی اور پھر دارالعلوم ٹنڈو اللہ یار سے دورہ حدیث پڑھ کر سند فراغت حاصل کی طالب علمی کے دوران آپ نے مولوی عالم اور مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔۔
جمعیت طلبائے اسلام کے ساتھ وابستگی :
مولانا حیدری صاحب زمانہ طالب علمی سے جمعیت طلبائے اسلام کے ساتھ وابستہ تھے آپ جمعیت طلبائے اسلام بلوچستان کے صدر اور مرکزی نائب صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے ۔
جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت :
تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1981کو آپ نے جمعیت علمائے اسلام میںباقاعدہ شمولیت اختیار کی 1983میں آپ کو جمعیت علمائے اسلام کوئٹہ کا جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا ۔
قید وبند کی آزمائشیں :
1983میں جب ملک کے اندر ضیاء الحق کے مارشل لاکے خلاف مختلف سیاسی جماعتوں کے اتحاد ایم آرڈی نے بحالئی جمہوریت کی تحریک شروع کی ۔جمعیت اس اتحاد میں پیش پیش تھی مولانا عبدالغفورحیدری کو اس تحریک کی پاداش میں14اگست1983کو گرفتار کرلیاگیا ۔
جماعتی خدمات :
جیل سے رہائی کے بعد آپ نے جمعیت علمائے اسلام کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا اسی دوران آپ کو جمعیت علمائے اسلام صوبہ بلوچستان کا ایک مرتبہ سیکرٹری اطلاعات اور دو مرتبہ ڈپٹی جنرل سیکرٹری بنایاگیا ۔

پارلیمانی خدما ت :
مولانا حیدری1990کے انتخابات میں قلات سے صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے ۔جمعیت علمائے اسلام نے مسلم لیگ کے ساتھ مل کر حکومت بنائی مولانا حیدری کوجمعیت علمائے اسلام کا پارلیمانی لیڈر نامزد کردیاگیا۔دوسال بعد اختلافات رونما ہوئے تو قبل از وقت استعفی دیدیا اور ذوالفقار مگسی کووزارت اعلی کے لئے امیدوار نامزد کردیاگیا جمعیت علمائے اسلام کے فیصلے کے مطابق مولانا عبدالغفور حیدری نے بلوچستان اسمبلی میں اس کا مقابلہ کیا اور ’’دو ووٹ‘‘ سے ہارگئے اس طرح نواب مگسی چیف منسٹر بن گئے ۔
قائد حزب اختلاف :
پارلیمنٹ میں وزارت ا علیٰ کا الیکشن حیدری صاحب دوووٹ سے ہار گئے اس کے بعد آپ بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بن کر اپنا سیاسی کردار ادا کرتے رہے
مولانا حیدری قومی اسمبلی میں:
1993میںجمعیت علمائے اسلام نے مولانا عبدالغفور حیدری کو ٹکٹ دے کر قلات سے قومی اسمبلی کے لئے امیدوار نامزد کیا مولانا حیدری نے دولت کے پجاریوں اور نوابوں کا مقابلہ کیا اور درویشی کی حالت میں ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور قومی اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام نے آپ کو ڈپٹی پار لیمانی لیڈر نامزد کیا1997کے الیکشن میں بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ نوازشریف کو بھاری منڈیٹ دلوانے کے لئے مولانا عبدالغفور حیدر ی اور دیگر کو ہروایاگیا 2002کے الیکشن میں ایک بار پھر مولانا حیدری قلات سے جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوکر پارلیمان کا حصہ بنے اورمتحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی اور ملکی سیاست میں اہم کر دار ادا کیا2008کے الیکشن میں امریکی مہرے جنر ل مشرف نے اعلان کیا کہ مذہبی پارٹیاں الیکشن نہیں جیت سکیں گی اور یہ صرف اعلان نہیں تھا بلکہ عالمی طاقتوںاور ان کے پاکستانی ایجنٹوں کی مکمل
منصوبہ بندی تھی صوبہ سرحد( خیبرپختو ن خواہ) اور بلوچستان میں خون ریزی برپا کر نے ، بلیک واٹر کوکھلی چٹھی دینے اور فوجی کاروائیوں کو عمل میں لانے کے لئے مذہبی قوتوں کو راستے سے ہٹانا مقصود تھا اس الیکشن میں صرف جمعیت علمائے اسلام ہی واحد مذہبی پارٹی تھی جو انتخابات امریکی ایجنٹوں کے مقابلہ کے لئے میدان میں نکلی ہوئی تھی دیگر نام نہاد اسلامی جماعتیں امریکی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے بائیکاٹ کے مہم پر تھیں اس الیکشن میں جمعیت علمائے اسلام کو بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ ہرایا گیا جس میں مولانا عبدالغفور حیدری بھی شامل تھے
سینٹ کی ممبرشپ اور حزب اختلاف کی قیادت:
2008 کے الیکشن کے بعد سینٹ کے انتخابات میں مولانا حیدری جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے سینٹ آف پاکستان کے ممبر منتخب ہوگئے بعد میں جب پیپلز پارٹی نے سینٹ میں اکثریت حاصل کرکے مسلم لیگ ق سے چیئرمین شپ لے لی تو جمعیت علمائے اسلام دوسری اکثریتی پارٹی بن گئی جس پر مولانا حیدری صاحب قائد حزب اختلاف نامزد کر دئے گئے مارچ2011تک آپ اس عہدے پر فائز رہے
2011کے سینٹ کے انتخابات کے بعد جمعیت کے ممبران کی تعداد کم ہوکر رہ گئی اور یہ منصب مسلم لیگ ن کے اسحق ڈار کے پاس چلاگیا مولانا حیدری تادم تحریر سینٹ کے ممبر اور جمعیت علمائے اسلام کے پارلیمانی لیڈر ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی نظامت:
1995 میں جمعیت کی مرکزی مجلس عمومی کے ارکان نے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب کو مرکزی امیر اور مولانا عبدالغفور حیدری کو مرکزی ناطم عمومی منتخب کیا اس کے بعد ہر تین سال بعد جمعیت کے جماعتی انتخابا ت میں مولانا حیدری اس منصب پر منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں ۔وہ آج بھی جمعیت علمائے اسلام کو قومی سیاست میں اہم مقام دلانے کے لئے متحرک وفعال کردار اداکر رہے ہیں مولانا فضل الرحمن اور مولانا عبدالغفورحیدری کی قیادت میں جمعیت علمائے اسلام پاکستانی سیاست میں موثر حکمت عملی کے ساتھ شاندار کردار کررہی ہے

سینٹ میں ڈپٹی چیئرمین شپ کا عہدہ :
مارچ 2015کے سینٹ انتخابات میں آپ ایک بار پھر ممبر منتخب ہوئے اور اس کے بعد سینٹ میں پیپلزپارٹی کے رضاربانی چیئرمین اور مولانا عبدالغفور حیدری ڈپٹی چیئرمین کے لئے منتخب کئے گئے ۔