شیخ الحدیث مولانا سیدحامد میاںؒ

جانشین حضرت مولانا سید محمد میاں رحمہ اللہ شیخ الحدیث حضرت مولانا سید حامد میاں
امیر مرکز یہ جمعیت علماء اسلام پاکستان وبانی ومہتمم جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور
پیدائش 1926 وفات 1988
دسمبر 1926ء کو میڑٹھ کے ایک گائوں رائو لی میں مولانا سید حامد میاں کی ولادت ہوئی ۔ آپ کے والد مورخ اسلام حضرت مولانا سید محمد میاں علماء دیوبند میں ممتاز مقام رکھتے ہیں ۔ جمعیت علماء ہند کے ناظم اور ناظم اعلیٰ بھی رہے ۔
مدرسہ امینیہ دہلی کے شیخ الحدیث اور صدر مفتی بھی رہ چکے ہیں ۔ سینکڑوں کتابوں کے مصنف اور تحریک ہند کے عظیم مجاہد رہے ہیں ۔
ابتدائی تعلیم :
قاعدہ ناظرہ کی تعلیم دارالعلوم دیوبند کے استاد حضرت قاری اصغر علی صاحب سے حاصل کی آپ کے والد مدرسہ شاہی مراد آباد میں استاد تھے اس لئے اہل خانہ کو بھی ساتھ لے گئے اور مراد آباد میں اپنے والد محترم مولنا سید محمد میاں کے علاوہ مولانا عبدالحق مدنی مولانا عبدالاحد مولانا عجب نور بنوی ، مولانا محمد اسماعیل سنھبلی سے علوم و فنون کی مختلف کتابیں پڑھیں ۔
جمعیت علمائے ہند میں شمولیت
صاحبزادہ مولانا سید حامد میاں صاحب تحریر فرماتے ہیں ۔ جمعیت علماء ہند مرادآبادکے اجلاس میںجمعیت العلما کے ارکان میں سے حضرت سیدسلیمان ندوی ، حضرت مولانا حسین احمد مدنی ار مفتی کفایت اللہ دہلوی کی تقاریر نے مجھے بہت متاثر کیا۔ سید ندوی کی تقریر تاریخی اور سیاسی نوعیت کی تھی اور حضرت مدنی نے مذہبی حیثیت سے روشنی ڈالی ، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی جواس تجویز کے محرک تھے۔ آخر میں ان کی تقریر بھی ہوئی مگر وہ اس وقت اتنے اونچے درجے کے مقرر نہ تھے رات کو جلسہ عام ہوا جس میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی تقریر تقریباًتین گھنٹے تک جاری رہی ۔ معلوم ہوتا تھا کہ آگ کے شعلوں کے بارش ہوری ہے کچھ دیر وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی بہر حال میں جذباتی لحاظ سے اس تقریر سے متاثر ہوا اجلاس ختم ہو تو میں مراد آباد واپس ہوا اور حضرت مدنی بھی مرادآباد تشریف لائے۔ میں نے چاہا کہ اجلاس کی ہماہمی کے علاوہ سکون اور اطمینان کی صورت میں حضرت شیخ سے استصواب کروں چنانچہ احقر نے تنہائی میں حضرت سے عرض کیا کہ کیا مجھے تحریک آزادی میں حصہ لینا چاہیے یا نہیں ؟ مولانا مدنی کا جواب لامحالہ اثبات میں تھا۔ حضرت کے اس ارشاد کے بعد احقر کو پوری طرح انشراح ہوگیا چنانچہ حضرت مولانا سید فخر الدین احمد مراد آبادی کا دست و بازوبن کر تحریک میں کام شروع کردیا۔ چند روز میں پورے مرا دآباد پر تحریک چھاگئی اور صوبہ سرحد کے بعد صرف مراد آباد ہی کی یہ خصوصیت تھی کہ یہاں کانگریس پر مسلمان چھائے ہوئے تھے ۔
پاکستان آمد :
تقسیم ہند کے بعد 1952ء میں آپ نے اپنے والد کی اجازت سے ہندوستان کو خیرباد کہا اور پاکستان تشریف لائے اور لاہور کو شرف قیام بخشا اور لاہور کی مشہور دینی درس گاہ جامعہ اشرفیہ سے درس و تدریس کا آغاز کیا کچھ مولانا دائود غزنوی کے مدرسہ تقویۃ الایمان میں ادب کے اسباق پڑھاتے رہے اس طرح کم و بیش پندرسال آپ نے مختلف دینی درس گاہوں دین الہی کا فیض طالبین تک پہنچایا۔
جامعہ مدینہ کریم پاک:
1384ھ مطابق 1964ء کو آپ نے کریم پارک راوی روڑ کے پسماندہ علاقہ میں جامعہ مدینہ کی بنیاد رکھی اپنے استاد اور مرشد حضرت شیخ مدنی کی طرف منسوب اس وسیع احاطہ میں مدرسہ کے علاوہ عظیم الشان جامع مسجد طلباء کے لئے دارلاقامہ ڈسپنسری اور مدرسین کیلئے رہائشی مکانات تعمیر کرائے گئے ۔
میدان سیاست میں :
حضرت مدنی کی نسبت علمی اور مولانا میاں کی نسبت صلبی کی بدولت آپ میدان سیاست کے بھی بہترین شہسوار تھے ۔ سیاسی تدبر ، اصابت رائے ، معاملہ فہمی اور پیچیدہ سیاسی مسائل کی عقدہ کشائی کرنے میں آ پ کی قیمتی اور صائب رائے حاصل کرنے کیلئے نواب زادہ نصراللہ خان ، غلام مصطفی جتوئی ، چوہدری ظہور الہی ، معراج محمد خان ، ملک محمد قاسم اور علامہ احسان الہی ظہیر جیسے لیڈر کئی بار جامعہ مدینہ حاضر ہوئے ۔( ماہنامہ الجمیۃ راولپنڈی مارچ 2001)
نظامت کا عہدہ
28اکتوبر1963ء کولاہور میں جمعیت علمائے اسلام کی مجلس شوریٰ کااجلاس ہواجس میں جمعیت کی تنظیم نو کی گئی اس تنظیم نو میں مولانا سید حامد میاں اورمولانا مفتی عبدالواحد گوجرانوالہ کو ناظم منتخب کیا گیا ۔
(مولانا غلام غوث ہزاروی مذہبی وسیاسی خدمات113،ازسہیل اعوان) جمعیت کی بقا میں اہم کرادر:
حضرت مولانا مفتی محمود کی وفات کے بید جب بعض عناصر نے غیرور کے اشاروں پر میدان سیاست میں جمعیت علما ء اسلام کے اہم سیاسی کردار کو ایک ساز ش کے تحت ختم کرنا چاہا تو حضرت مولانا خواجہ خان محمد ، مولانا شاہ امروٹی ، مولانا عبدالکریم قریشی ، اور مولانا سراج احمد دین پوری کی طرح حضرت مولانا سید حامد میاں نے بھی علماء حق کی نائو کو آزمائش کے بھنور سے نکالنے میں اہم کردار اد ا کیا ۔
جمعیت کی امارت :
حضرت مفتی محمود کے انتقال کے بعد جب جمعیت علماء اسلام اختلافات کا شکار ہوئی تو باقی بزرگوں کی طرح مولانا حامد میاں کی مخلصا نہ کوشش بھی یہی تھی کہ علماء حق کی جماعت متحد رہے چنانچہ کئی مرتبہ اتفاق و اتحاد کو برقرار رکھنے کیلئے عملی جدوجہد بھی ہوئی باہمی گفت و شنید کیلئے مزاکراتی ٹیمیں تشکیل پائیں اور مزاکرات بھی ہوئے کئی دفعہ کی کوششوں کے باوجود جب اتحاد کی کوشش بار آور نہ ہوئیں تو جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں نے مولانا سید حامد میاں کو میر کارواں منتحب کیا اور تاحیات آپ اسی منصب جلیل پر فائز رہے۔
بیماری اور وفات :
2مارچ 1988ء آپ اپنے گھر پر نو بجے صبح مطالعہ میں مصرورف تھے کہ اچانک دل کا دورہ پڑا فوراً ہسپتال پہنچائے گئے کچھ افاقہ ہوا مگر دوسرے دن یعنی ۳ مارچ کو دو بجے دن ایک مرتبہ پھر طبیعت ناساز ہوئی اور بالآخر علم و فضل کے اس روشن مہتاب نے عالم زیریں سے رشتہ حیات منقطع کیا اور عا لم ِ بالا کی طرف چل بسے ۔ ہسپتال سے میت جامعہ مدینہ لائی گئی غسل و تکفین اور دیدار عام کے بعد جنازے کا جلوس یونیورسٹی گرائونڈ کی طرف روانہ ہوا جنازہ پہنچنے سے قبل گراونڈ میں لوگوں کا ہجوم تھا جب جنازہ پہنچا تو ہزاروں افراد نے حضرت مولانا خواجہ خان محمد کی اقتدا میں نمازہ جنازہ ادا کی نماز جنازہ کے بعد اس عظیم رہبر و رہنما ہادی و مرشد اور مرد کامل کو میانی صاحب کی قبرستان میں سپرد خاک کیا ۔