سحبان الہند مولانا احمد سعیددہلویؒ

سحبان الہند تحریک آزادی ہند کے نڈرمجاہد
فکرِشیخ الہند کے امین مفسرِقرآن مناظرِاسلام
حضرت
مولانا احمد سعید دہلوی
ناظمِ اعلی جمعیت علماء ہند صدر جمعیت علماء ہند پیدائش ۵ دسمبر ۱۸۸۸ وفات ۴دسمبر۱۹۵۹

ولادت و تعلیم :
مولانا احمد سعید دہلوی یکم ربیع الثانی ۱۳۰۲ھ مطابق ۵ دسمبر ۱۸۸۸ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ۔ آپکے والد خافظ نواب مرزا زینت المساجد میں منصب امامت پر فائز تھے ۔ آپ کے دادا خواجہ نواب علی دلی شہر کے مشہور صوفی و خدارسیدہ بزرگ تھے ۔
ابتدائی تعلیم مولوی عبدالمجید مصطفی آبادی سے حاصل کی اور تکمیل حفظ قرآن کی دستار بندی مدرسہ حسینیہ بازار مٹیامحل میںہوئی ۔

جمعیت علمائے ہند کی تاسیس
۱۹۱۹ء میں حضرت مفتی اعظم ؒ نے جمعیۃ علمائے ہند کے قیام و تاسیس کے لئے دیگر علمائے ہند سے جو مذاکرات فرمائے، ان میں آپ کے دست راست اور رفیق کار مولانا احمد سعید ہی تھے جو ہر ایک کام میں اور ہر ایک مجلس میں شریک رہتے تھے۔ مدرسہ امینیہ میں حضرت مفتی اعظم کا جو خاص کمرہ تھا اسی میں پہلا دفتر قائم ہوا اور وہیں بیٹھ کر یہ دونوں استاد شاگرد اس کے تمام ابتدائی امور کو انجام دیتے تھے۔ ہندوستان بھر کے تمام علماء کی مکمل فہرست مفتی صاحبؒ نے اپنے دست مبارک سے تحریر فرمائی۔
ان حضرات کی تحقیق و تلاش اور محنت و کاوش قابل ستائش ہے۔ کشمیر سے راس کماری تک اور یاغستان سے برما تک نہ صرف شہروں اور قصبوں سے بلکہ ہر ایک چھوٹے سے چھوٹے گائوں میں سے گوشہ نشین اور گمنام علماء کا کھوج نکالا اور سب کو لا کر ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا۔ یہ کام نہ صرف محنت طلب تھا بلکہ خطرناک بھی تھا۔ برٹش امپائر کے خلاف لب کشائی کرنا اس وقت جان کی بازی لگانا تھا۔ عوام تو عوام بیشتر علماء کے دل میں یہ خیال جاگزیں تھا کہ اب انگریزوں کی حکومت سے کبھی چھٹکارا نہیں ملے گا۔
مدرسہ امینیہ میں ہمارے اساتذہ میں سے ایک عالم باعمل حضرت مولانا حافظ محمد عبدالغفور صاحب عارف ؔدہلوی بھی تھے۔ کوچہ رائمان میں رہتے تھے، فارسی کے مدرس اور نائب مہتمم تھے۔ عمر میں حضرت مفتی صاحبؒ سے بڑے تھے۔ مفتی صاحب نے جب آزادی کی تحریکات میں حصہ لینا شروع کیا تو اکثر وہ جھگڑتے تھے۔ فرماتے تھے کہ دیکھو مولوی کفایت اللہ! تم بے کار کام کر رہے ہو، مسلمانوں کو الجھائو میں ڈال رہے ہو، یہ سیاسی لیڈر سب پاگل ہیں، وآزادی اب نہیں ملے گی۔ انگریزوں کو تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی آ کر پار لگائیں گے، تم خواہ مخواہ مصیبت میں پڑتے ہو۔
ایسی ہی مایوسانہ کیفیت تھی جو ۱۸۵۷ء کی داروگیر کے بعد علماء پر بھی طاری تھی جس کی وجہ سے علماء گمنامی و گوشہ نشینی کی زندگی بسر کر رہے تھے اور حال یہ تھا کہ ایک صوبہ کے علماء کو دوسرے صوبہ کے عوام تو عوام، خواص بھی نہیں جانتے تھے۔ ان علماء کا فیض اپنے اپنے شہروں اور خاص خاص حلقوں میں محدود تھا لیکن جمعیۃ علماء کے رشتہ میں منسلک ہونے کے بعد تمام ہندوستان و برما کے علماء مثل ایک خاندان کے ہو گئے تھے اور ان کی فیض رسانی نے بہت وسعت اختیار کر لی۔ (اس زمانے میں ملک برما بھی غیر منقسم ہندوستان کے ساتھ شامل تھا)۔ (مولانا احمدسعید ایک سیاسی مطالعہ۲۴)
جمعیت علمائے ہند کی نظامت اعلیٰ ۱۹۱۹ میں ہندستان کے تمام مسالک کے علمائے کرام نے مل کر سیاسی میدان میں موثر کردار اداکرنے کے لئے جمعیت علمائے ہند کے نام سے جماعت تشکیل دی تو مولانا احمد سعید دہلوی کو اس کا ناظم اعلیٰ منتخب کردیاگیاآپ نے مختصر عرصہ میں جمعیت العلما کو پورے ہندستان میں متعارف کرایا اور اس کی شاخیں قائم کیں
بے لوث خدمت اور اَن تھک محنت
مولانا احمد سعید نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میاں مفتی صاحب! دفتر جمعیۃ کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے اس طرح چلایا ہے کہ حضرت تو حساب کتاب لکھتے تھے اور میں ڈاک تیار کر کے خود ڈاکخانہ لے جاتا تھا۔ (مولانا احمدسعید ایک سیاسی مطالعہ۲۶)
گرفتاریاں ،جیل اورقید وبند کی آزمائشیں
مولانا کا تعلق تحریک خلافت سے بھی رہا اور وہ تمام محرکات کے دل سے قائل تھے جن کے تحت ہندوستان کی آزادی کی جنگ لڑی جا رہی تھی۔ اس سلسلہ میں وہ کئی مرتبہ جیل گئے۔ ان تمام تحریکات آزادی میں مولانا کو آٹھ مرتبہ گرفتار کیا گیا۔۔ پہلی بار ۱۹۲۱ء میں قید ہو گئے اور ایک سال کی سزا دہلی اور میانوالی جیل میں کاٹی۔ دوسری بار ۱۹۳۰ء میں دو سال کی سزا ہوئی جو دہلی اور گجرات جیل میں بسر ہوئی۔ ۱۹۳۲ء میں ایک بار پھر گرفتار ہوئے اور ایک سال کا عرصہ دہلی اور ملتان جیل میں گزارا۔ ۱۹۴۰ء میں کچھ عرصے کے لئے اعظم گڑھ جیل میں ڈال دئیے گئے۔ ۱۹۴۲ء کی تحریک آزادی میں نظربند ہوئے اور تین سال تک دہلی، لاہور، فیروزپورہ اور ملتان جیل میں رہے۔ اس طرح مرحوم نے سیاست میں عملی طور پر حصہ لے کر قید و بند کی سخت صعوبتیں برداشت کیں۔ میانوالی جیل میں آپ نے بان بٹے اور چکی بھی پیسی۔ محنت و مشقت کے باوجود آپ کو جیل میں شعرگوئی کے علاوہ کھانا پکوانے اور کھلانے کا بھی شوق رہا۔ کبھی کبھی بیڈمنٹن سے بھی دل بہلایا کرتے تھے۔ عبدالعزیز انصاری اور دوسرے قیدیوں کو حدیث کا درس دیتے اور وعظ و نصیحت فرماتے رہے۔
۱۹۳۲ء کے دوران ملتان جیل میں فتح الباری کا آخری حصہ مفتی کفایت اللہ کی استادی میں ختم کیا۔ ۱۹۴۲ء کے دوران مولانا کے ہمراہ ان کے دونوں لڑکے محمد سعید، مظہر سعید بھی گرفتار ہوئے۔ مولانا کے دوران اسیری میں جو ساتھی ان کے ہمراہ رہے ان میں ڈاکٹر مختار احمد انصاری، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، بیرسٹر آصف علی، لالہ دیش بندھوگپتا، لالہ جگل کشور کھنہ، مولانا دائود غزنوی، لالہ شنکر لال، پنڈت نیکی رام شرما، منشی عبدالقدیر، سیّد جلال الدین اور حافظ فیاض احمد جیسے جانباز لوگوں کے نام نمایاں ہیں۔ (مولانا احمدسعید ایک سیاسی مطالعہ۶۳)
اک بارہ ہے کہ دوبارہ
جیل کی دنیا عجیب دنیا ہے۔ وہاں قیدیوں کو بیرونی دنیا کے واقعات و حوادث کا بہت کم علم ہوتا ہے۔ خصوصاً عام اخلاقی قیدی تو اپنی جہالت کی وجہ سے بالکل ہی بے خبر ہوتے ہیں۔ قیدیوں کی دو قسمیں ہیں۔ ’’اکبارہ‘‘ اور ’’دوبارہ‘‘جن کو انگریزی میں Casualاور Habitualکہتے ہیں۔ اکبارہ وہ قیدی ہے جس کو پہلی مرتبہ جیل میں آنے کا اتفاق ہوا ہو۔ دوبارہ وہ جو عادی مجرم ہو اور ایک سے زیادہ بار قید ہو چکا ہو۔ مولانا نے لطیفہ سنایا کہ جب میں نیا نیا میانوالی جیل میں آیا تو ایک پرانے اور طویل المیعاد قیدی نے مجھے نماز و تلاوت میں مصروف دیکھ کر سمجھ لیا کہ مولوی ہوں۔ ایک دن اس نے پوچھا، مولبی جی! تم نے کیا جرم کیا تھا کہ بندھ گئے؟میں نے کہا، بھئی ہم تو تحریک خلافت میں سزایاب ہو کر آئے ہیں۔ قیدی کچھ نہ سمجھا۔ پھر میں نے اس کو ترک موالات، عدم تعاون، نامل ورتن اور خداجانے کس کس لفظ اور اصطلاح کی مدد سے سمجھانے کی کوشش کی۔ نتیجہ صفر۔ میں نے پوچھا، گاندھی کو جانتے ہو؟ کہنے لگا ہاں، ہمارے گائوں میں ایک گاندھی ہے جو شادی بیاہ کے موقعہ پر عطر لگایا کرتا ہے یعنی گندھی۔ آخر میں نے عاجز آ کر کہا، خلیفۃ المسلمین کو جانتے ہو؟ قیدی نے کچھ دیر سوچ کر پوچھا کہ وہ اکبارہ ہے یا دوبارہ؟ میں بے اختیار ہنس دیا اور سمجھانے کی کوشش سے دست بردار ہو گیا۔(مولانا احمدسعید ایک سیاسی مطالعہ۱۰۷)
آزادی وطن کیلئے بے مثال قربانیاں
مولانا عبدالمجید سالک نے اپنی معروف کتاب ’’یارانِ کہن‘‘ میں تحریر فرمایا ہے کہ ہم سب تحریک خلافت کے سلسلے میں میانوالی جیل میں مقید تھے کہ ہمیں معلوم ہوا کہ مولانا احمد سعید صاحب بھی اسی جیل میں ہیں اور سی کلاس کے قیدی ہیں اور ان سے نہایت جان لیوا مشقت لی جا رہی ہے۔ دوسری اطلاعات کے بموجب مولانا پر جو بیتی وہ یہ تھی کہ کنوئیں سے پانی نکالنے کے لئے بیل استعمال کرنے کے بجائے ان کو جوت دیا گیا ہے اور ان سے بان (مونج) بٹنے کا کام بھی لیا جا رہا ہے جس سے مولانا کے ہاتھ سخت زخمی ہو گئے ہیں۔ مولانا سالک نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے کہا کہ بھائی! مولانا احمد سعید صاحب نہایت ممتاز سیاسی رہنما ہیں اور جمعیت العلمائے ہند کے ناظم اعلیٰ ہیں۔ جمعیت العلمائے ہند اثرورسوخ کے اعتبار سے خلافت کمیٹی سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے لہٰذا آپ ان کو بی کلاس میں منتقل کر دیجئے۔ چنانچہ سالک صاحب کے اصرار پر مولانا کو بی کلاس میں منتقل کیا گیا۔(مولانا احمدسعید ایک سیاسی مطالعہ۷۵)
مولانا کا انداز خطابت
ایک مرتبہ حضرت مفتی صاحب کے پاس خبر پہنچی کہ فلاں گائوں پورا کا پورا مرتد ہو گیا ہے۔ حضرت نے مولانا احمد سعید کو حکم دیا کہ فوراً روانہ ہو جائو، مولانا دل کے کمزور تھے ہچکچا رہے تھے۔ بہت کچھ حیلے بہانے کئے مگر حضرت کا حکم تھامجبوراً روانہ ہوئے۔ گائوں میں پہنچ کر حالات معلوم کئے اور خاص کر یہ بات دریافت کی کہ آریہ لوگ آ کر ان گائوں والوں سے کیا کہتے تھے اور کیونکر بہکاتے ہیں؟ بتایا گیا کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ تمہارے باپ دادا سب ہندو تھے، مسلمانوں نے آ کر تم کو زبردستی مسلمان بنایا اور تمہاری چوٹیاں کاٹیں۔ اب مولانا طرزاستدلال اور شان خطابت ملاحظہ فرمائیے۔ آپ نے جلسے میں اعلان کرایا اور کھڑے ہو کر فرمایا:
’’آج اس گائوں میں آ کر اور ایک بہادر قوم کے سپوتوں سے مل کر میں بے انتہا خوش ہوا ہوں۔ ملکانہ قوم دنیا کی چند بہادر قوموں میں سے ایک ہے۔ یہ قوم ہندوستان کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہے۔ تمہارے باپ دادا نے ہمیشہ ہندوستان کی حفاظت کی ہے، دشمنوں سے کبھی ہار نہیں مانی ہے۔ اور بھئی! مجھے ان لوگوں پر بڑی حیرت ہوتی ہے جو تمہارے باپ دادوں کو تمہارے منہ پر بزدل اور ڈرپوک کہتے ہیں اور تم جو اُن سورمائوں کی اولاد ہو، سنتے ہو اور برا نہیں مانتے۔ لوگ تمہیں آ کر بہکاتے ہیں کہ تمہارے باپ دادوں کو مسلمانوں نے مار مار کر زبردستی مسلمان بنایا تھا اور ان کی گردنیں پکڑ پکڑ کر چوٹیاں کاٹ دالی تھیں۔ کیا واقعی تمہارے باپ دادا ایسے ہی کمزور اور ڈرپوک تھے؟ مجھے یقین نہیں آتا، دیکھو بھئی! یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں، دھوکہ دیتے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ تمہارے باپ دادوں سے کوئی آنکھ بھی نہیں ملا سکتا تھا، وہ اسلام کو ایک اچھا اور سچا دین سمجھ کر اپنی خوشی سے مسلمان ہوئے تھے۔ کیا اب تم اپنے سچے دین کو چھوڑ کر اپنے باپ دادا کی روحوں کو صدمہ نہیں پہنچا رہے؟‘‘
تقریر ختم ہونے کے بعد گائوں کے لوگ ازسرنو مسلمان ہو گئے۔(مولانا احمدسعید ایک سیاسی مطالعہ۲۹)
شاردابل کے خلاف جمعیت علما کا جہاد
۲۳ستمبر۱۹۲۹کو دہلی سنٹرل اسمبلی کے ہندو ممبرمسٹرہربلاس شاردا نے ایک مسودہ قانون پیش کیا جو آگے چل کر شاردابل یا شاردا،ایکٹ کے نام سے مشہور ہواشاردابل بظاہر ہندو سوسائٹی کی اصلاح سے متعلق تھا لیکن اس کی ضرب سے احکام شریعت براہ راست متاثر ہوتے تھے چنانچہ بل پر بحث سے قبل سوال سامنے آیا کہ یہ بل صرف ہندوعوام تک محدود رہے گا یا ہندستان کے تمام مذاہب اس سے متاثر ہوں گے ۔اکثر ارکان اسمبلی نے بغیر علما کے مشورے کے اس بل کی تائید کردی۲۸ستمبر۱۹۲۹کو بل پاس کردیا گیا جمعیت علمائے ہند نے قرآن کریم کی واضح ارشادات کی روشنی میں شاردا بل کو مداخلت فی الدین قرار دیکراس کے نفاذ سے پیشتر اس قانون کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیاچنانچہ انبالہ سے پرلے طرف سحبان الہند مولانا احمدسعید دہلوی اورپنجاب سے سرحد تک کے اضلاع شاہ جی سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے سپرد کئے گئے ۲۸ستمبر۱۹۲۹سے یکم اپریل ۱۹۳۰تک دونوں رہنمائوں نے اپنی اپنی ذ مہ داریوں کے پیش نظر ہزاروں نابالغ بچوں کے نکاح اور عوام کو اس کی تر غیب دے کر انگریز کے اس قانون کو ہمیشہ کیلئے دفن کردیا( حیات امیر شریعت۱۲۷
جمعیۃ علمائے ہند کے اندر انقلاب
نومبر۱۹۱۹ء میں جمعیۃ علماء ہند قائم ہوئی تھی۔ اس کی صدارت کے لئے حضرت مفتی اعظم کو اور نظامت کے لئے حضرت مولانا احمد سعید کو منتخب کیا گیا۔ جب ان حضرات کی محنت شاقہ سے جمعیۃ نہ صرف ہندوستان و برما میں بلکہ تمام دنیائے اسلام میںروشناس ہو گئی اور اس پودے کی شاخیں آسمان سے باتیں کرنے لگی اور اس کی جڑیں مضبوط ہو گئیں تو بعض حضرات کے دلوں میں یہ خلش پیدا ہوئی کہ تمام ہندوستان کے مختلف الخیال اور مختلف المسلک علماء کی باگ دوڑ دیوبندی حضرات کے ہاتھ میں کیوں ہے؟ ۱۳۴۱ھ/۱۹۲۲ء میں جب کہ جمعیۃ علماء کی سالانہ کانفرنس شہر گیا میں حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند کے زیر صدارت منعقد ہوئی تھی، اس وقت سے اس قلبی خلش کا اظہار ہونے لگا تھا۔ کچھ عرصے کے بعد جمعیۃ کی صدارت کے خلاف بھی کھچڑی پکنے لگی مگر جن ایثار پیشہ اور مخلص علماء نے مل کر جمعیۃ کی بنیاد ڈالی تھی وہ اس کے اندر اختلاف کو گوارا نہ کر سکتے تھے۔ چنانچہ حضرت مولانا قیام الدین عبدالباری فرنگی محلی ؒ اپنے روزنامچہ (قلمی) میں تحریر فرماتے ہیں:
’’مولوی سبحان اللہ صاحب اور ان کے ہمراہی مولوی عبدالعزیز وغیرہ نے آخر ماہ آ کر ملاقات کی۔ مولوی سبحان اللہ نے زیادہ زور اس اَمر پر دیا کہ دیوبند کے علماء کا اثر جمعیۃ علماء میں زیادہ ہوتا جاتا ہے اس کا تدارک کرنا چاہئے۔ میں نے اس کا جواب دیا کہ جمعیۃ علماء کے مقاصد ایسے ہیں کہ جن میں ان کازور ہونا ہمارے مقاصد کے خلاف نہیں ہے اور اس کو ہم نے سمجھ کے کیا ہے، ہماری اور ان کی کوئی دنیاوی مغایرت نہیں ہے، نہ ان کو غیر کرنے سے فائدہ ہے بلکہ ہمارے اثر کا نقصان ہے۔ علاوہ ازیں اگر ان کا اثر جمعیۃ علماء پر نہ ہو تو پھر وہ جماعت علماء کہاں سے آئے گی جس کا اثر ہو۔ ان کے مدارس اور تلامذہ اطراف و اکناف ملک میں پھیلے ہوئے ہیں، ان سے ہم کو استغنا نہیں ہے، نہ ان کے اثر کے کم کرنے سے ہمارا کوئی مقصد حاصل ہوتا ہے۔پھر انہوں نے مسئلہ امیر شریعت چھیڑا۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ دیوبند کی عصبیت کا باعث میں ہوں، شاید امیر شریعت کو ا اپنے ہم خیال علماء سے بنانے کی تجویز کروں۔ میں نے اس سے اختلاف کیا اور صاف کہہ دیا کہ میرے نزدیک یہ کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے بلکہ جمعیۃ علماء کے حال کے طرزعمل نے مجھے اور بھی اس کے نقا ئص کی طرف زیادہ توجہ دلا دی ہے، میں اس کی موافقت ہی نہیں کرتا مگر آپ لوگوں کی رائے کی وجہ سے سکوت کروں گا، مخالفت نہ کروں گا۔ میں شریعت اسلامیہ میں سوائے خدا اور رسولؐ کے کسی کے احکام کو بے چون و چرا نہیں مان سکتا ہوں، اگر جمعیۃ علماء ایک عبد حبشی کو امیر شریعت مقرر کر دے گی میں ا سکی مخالفت نہ کروں گا، خود احکام خدا اور رسولؐ کا پابند رہوں گا۔ دیوبند کے علماء سے قوی امید ہے کہ مسائل اختلافیہ کسی قسم کے پیش نہ کریں گے، نہ اپنے مخصوص مسائل میں مجھے مجبور کریں گے۔ ان کے انتخاب سے فائدہ کی امید زیادہ ہے بہ نسبت نقصان کے۔ میں نے کہا کہ اگر مولوی حبیب الرحمن صاحب اور مولوی آزاد سبحانی صاحب اور مولوی عبدالقدیر صاحب کے متعلق رائے لی جائے تو کون شخص اوّل الذکر کو مقدم نہ کرے گا، خدا نے ان کو تقدم دیا ہے۔ میں اس تفریق کو کہ یہ دیوبند کے ہیں اور وہ نہیں، کبھی نہ خیال میں رکھتا تھا نہ اب اس کا لحاظ کروں گا۔ الخ‘‘
باوجود اس روک تھام کے جمعیۃ علماء کی لیڈرشپ کو بدلنے کے منصوبے بنتے رہتے تھے۔ حضرت مفتی اعظمؒ نے جب محسوس کیا کہ مختلف اسباب (مثلاً خاندانی تفاخر اور نسلی امتیازات کا فقدان نیز دیوبندیت وغیرہ) کی وجہ سے علمائے کرام صدارت سے گرانی محسوس کر رہے ہیں تو ایک میٹنگ میں صدارت سے استعفا پیش کر دیا لیکن جب استعفا پیش ہوا تو متفقہ طور پر سب نے اس کی منظوری سے صراحتہً انکار کر دیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مرکزی مقام میں صدر دفتر رہنے کی صورت میں حضرت اعظم کی صدارت ناگزیر تھی۔ جب کبھی آپ نے صدار ت سے علیٰحدگی کا ارادہ کیا ہمیشہ اس کی مخالفت کی گئی۔ آخر ایک نئی صورتحال سامنے آئی۔ (مولانا احمدسعید ایک سیاسی مطالعہ۳۳)
امیرِشریعت کی آپ سے عقیدت ومحبت
مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری آپ کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں کہ ہم میں سے جب کوئی جیل سے رہا ہوتا تو سب بچوں کی طرح روتے بلکتے اور بادل ناخواستہ الوداع کہتے۔ مولانا احمد سعید رہا ہونے لگے تو ان کی گگھی بندھ گئی، آنسوئوں کے تاروں سے نغمہ جدائی پھوٹ رہا تھا۔ اب کہاں وہ رنگا رنگ بزم آرائیاں، یعنی سب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں۔ دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ میں دہلی صرف دو ہستیوں کے لئے آتا ہوں اور وہ ہیں مفتی کفایت اللہ اور احمد سعید۔ (مولانا احمدسعید ایک سیاسی مطالعہ۶۴)
دلکش خطابت
عام گفتگو میں مولانا کاانداز بیان نہایت ہی دلکش، معصومانہ اور خندہ آور تھا اور ان کے پاس بیٹھنے والے گھنٹوں ان کی باتیں سنتے اور اکتاہٹ کے بجائے دم بدم دلچسپی میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا۔ یہی حالت خطابت و تقریر کی تھی۔ مولانا نہایت ٹھیٹھ دہلوی روزمرے میں جس میں کرخنداروں کے مخصوص محاورات کی چاشنی بھی ہوتی تھی، گھنٹوں تقریر فرماتے اور ہزارہا کا مجمع نقش بہ دیوار ہو کر ان کے ارشادات سنتا رہتا۔ جہاں کہیں ان کے وعظ کا اعلان ہوتا، خلقت ہر طرف سے ٹوٹ پڑتی۔ میں عمر بھر بہت ہی کم جلسوں میں شامل ہوا ہوں لیکن جس زمانے میں اہل بدعت نے سلطان ابن سعود کے خلاف ملک میں ہنگامہ برپا کر رکھا تھا اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہابی سپاہیوں نے روضہ اطہر پر گولیاں چلائی ہیں۔ اس فتنہ کو فرو کرنے کے لئے مولانا محمد علی اور مولانا احمد سعید دہلی سے لاہور تشریف لائے تو میں صرف مولانا احمد سعید کی تقریر سننے کے لئے باغ بیرون دہلی دروازے
کے عظیم الشان جلسے میں شامل ہوا اور مولانا کی شیوابیانی کی یاد اب تک اپنے دماغ میں محفوظ پاتا ہوں۔ (مولانا احمدسعید ایک سیاسی مطالعہ۱۱۰)
شاعری کاشوق
مولانا صاحب متعدد دفعہ جیل گئے اور حسرت موہانی کی طرح انہیں بھی چکی پیسنی پڑی اور بان بٹنے پڑے۔ وہیں حالت قید میں انہیں شاعری کا شوق ہوا اور اسی مناسبت سے انہوں نے اپنا تخلص ’’اسیر‘‘ رکھا تھا۔ ان کی ایک نظم کے کچھ شعر دئیے جاتے ہیں جس میں انہوں نے بعض دوستوں کی رہائی پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔
زندہ کرتے ہو اسلاف کا تم نام چلے
ہو مبارک تمہیں تم جیل سے خوش کام چلے
سختیاں قید کی جھیلی ہیں خوشی سے تم نے
کون کہتا ہے کہ تم قید سے ناکام چلے
تم چلے خانۂ صیاد کو ویراں کر کے
شکر اللہ کا تم جیل سے خوش کام چلے
سیٹھ نورنگ چلے اور چلے گوبند سرن
گوری شنکر چلے اور عارف خوش کام چلے
چھوڑ کر چل دئیے زندان میں ہمیں اسماعیل
پر خوشی ہے ہمیں اس کی کہ وہ باکام چلے
منشی عبدالقدیر اور گلاب اور امیر
باغ میں جتنے تھے چوٹی کے وہ سب آم چلے
چھوڑ کر مجھ کو چلے جیل میں تنہا عارف
چھوڑ کر ہائے مجھے گوری گلفام چلے
قیدیوں میں ہوا جانے سے تمہارے شیون
ڈال کرجیل میں تم کیسا کہرام چلے
(مولانا احمدسعید ایک سیاسی مطالعہ۱۱۵ سحبان الہندکی تصنیفات مولانا احمدسعیدایک بلند پایہ مصنف تھے آپ کی تصنیفات کی تعداد بیس تک پہنچتی ہے انکے نام یہ ہیں(۱)جنت کی کنجی(۲)دوزخ کاکھٹکا(۳)مشکل کشا(۴)خداکی باتیں(۵)رسول کی باتیں(۶)دین کی باتیں(۷)پردہ کی باتیں(۸)شوکت آرابیگم (۹)ازبلا(۱۰)جنت کی ضمانت(۱۱)ماہ رمضان(۱۲)صلوۃوسلام(۱۳)عرش الہی کا سایہ(۱۴)تفسیرکشف الرحمن(۱۵)تقاریراحمدسعید(۱۶)پہلی تقریرسیرت(۱۷)دوسری تقریرسیرت(۱۸)رسول اللہ کے تیس معجزات(۱۹)مکاتیب احمدسعید(۲۰)ھماریدعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں۔ (مولانا احمدسعید ایک سیاسی مطالعہ۹۵)
شام آئے شب سے پہلے گھر چلے
۴ دسمبر ۱۹۵۹ء مولانا احمد سعید کی زندگی کا وہ آخری دن تھا جب آپ نے روزانہ کے معمولات کے مطابق تمام کام انجام دئیے۔ بعد نماز مغرب بیت الخلاء گئے، واپس آ کر بیٹھے اور اخبار ہاتھ میں اٹھایا۔ پھر ایک لڑکے کو جو اتفاق سے تنہا تھا کہا، جا بے محمد سعید کو بلا کر لا میری طبیعت خراب ہو رہی ہے۔ یہ سنتے ہی لڑکا ان کو بلانے کے لئے زنانہ مکان پر گیا، ادھر مولانا بیٹھے بیٹھے ہی پلنگ کے عرض میں لیٹ گئے اور روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔(مولانا احمدسعید ایک سیاسی مطالعہ۷۲)