زراعت

زمین کا اصل مالک
مَن أحْيا أرضا مَيتةً فهِيَ لَهُ ، و ليس لعِرْقِ ظالِمٍ حقٌّ فِیھا
” جس نے بھی بے آباد زمین کو آباد کیا وہ اس کے لئے ہے اور جابر ظالم کا اس میں کوئی حق نہیں ”
(1) پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان کے مطابق جس نے افتادہ زمین کو آباد کیا وہی اس کا مالک قرار دیا جائے گا۔
دوسرے جائز مالکان زمین
(2) پھر وہ لوگ مالک سمجھے جائیں گے جن کو یہ زمین وراثت میں ، ببہ میں ، وقف میں یا فروختگی میں جائز طور پر منتقل ہوگی ۔
ناجائز طور پر حاصل کردہ زمینوں کی واپسی
(3) سیاسی رشوت کے طور پر ، دھوکہ اور فریب کے ذریعہ ، جبر اور ناجائز طور پر سے جو زمینیں و جاگیریں حاصل کی گئی ہیں وہ بغیر معاوضہ واپس لے لی جائیں گی او ر اس علاقے کے مستحق کاشتکار وں میں تقسیم کر دی جائیں گی ۔
اراضی کی تحدید ملکیت
(4) اراضی ملکیت کی کم یا زیادہ کو ئی حد شریعت نے مقرر نہیں کی لیکن اگر بڑی زمینداریاں ملکی نظام معیشت اور اجتماعی معاشی نظم و نسق کو فاسد کرنے کا سبب بن گئی ہیں اور شدید تر مذہبی ملی و ملکی مفاسد اور خطرات نمودار ہو رہے ہیں تو حکومت شریعت کے اصولوں کی ہی روشنی میں اراضی کی ملکیت کی مناسب تحدید کرے گی ۔ مزید وضاحت کے لئے ضمیمہ نمبر 1دیکھئے ۔
اراضی پر مالکانہ تصرف کا حق اور مزارعی
(5) مالک اراضی کو اپنی زمین میں ہر طرح کے تصرف کا حق حاصل ہو گا مگر ظلما” اور بلا شرعی وجہ کے مزارع کو بے دخل نہیں کیا جاسکے گا ۔
مزارعین کی بے دخلی
(6) جن مزارعین نے زمینوں میں ترقی کا م کئے ہیں ان کا پورا پورا معاوضہ دیئے بغیر بے دخل نہیں کیا جاسکتا ۔
مزارعین کی ذمہ داری
(7) مزارعین کو کسی مالک اراضی کو تقصان پہنچانے کی اجازت نہیں ہو گی ۔
مزارعت کی شرعی حثیت
(8) حضرت امام ابو یوسف ؒ اور حضرت امام محمد ؒ نے زمین کو بٹائی پر دینے کی اجازت دی ہے لیکن اگر ملک کا زرعی نظام مندرجہ بالا اصلاحات کے باوجود درست نہ ہوسکے تو حکومت کو حق حاصل ہےکہ وہ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ ، حضرت امام شافعی ؒ اور حضرت امام مالک ؒ کے مسلک کے مطابق بٹائی پر زمین دینے پر پابندی لگادے اورمالک اراضی کو حکم دے کہ یا تو اپنی ارضی خود کاشت کرے یا کرایہ یا اجارہ پر اٹھائے
چھوٹے قطعات کے مالک زمین کی مشکلات کا حل
(9) زمین کے چھوٹے قطعات کے مالکان کو بڑے قطعات کے مالکان کے دباؤ کے اثر سے نجات دلائی جائے گی اور انہیں اپنی زمینوں پرغیر مشروط مالکانہ حقوق حاصل ہو گی ۔
زراعت کی جدید سہولتوں کا عام استعمال
(10) زراعت کی جدید سہولتیں دیہات میں عام کی جائیں گی جدید زرعی آلات کا استعمال قومی سطح پر وسیع تر بنایا جائے گا۔
زرعی زمینوں کا تحفظ
(11) زرعی زمینوں کا سیم تھور سے تحفظ کیا جائے گا۔
زمینوں کا سیلاب سے تحفظ
(12) زرعی زمینوں کو سیلاب سے محفوظ کرنےکا مستقل بندوبست کیا جائے گا ۔
زرعی پیداوار کی فروخت میں کاشتکاروں کا حق
(13) زرعی پیدا ور کی فروخت کا ایسا انتظام کیا جائے گا کہ ا س کا زیادہ سے زیادہ فائدہ آڑھتیوں ، سٹاک ہولڈر وں ، اسٹاک ایکسچینجوں ، بینکوں ، سٹہ بازوں ، دلالوں وغیرہ کی جیب میں جانے کی بجائے کاشتکاروں اور کھیت مزدوروں کو پہنچے ۔
نئی آبادی کی جانے والی زمینیں
(14) نئی آبادی کی جانے والی زمینوں کو آسان شرائط پر صرف خود کاشت کرنے والوں کو دیا جائے گا ۔ اس میں اولیت اور فوقیت مقامی کاشت کاروں اور کھیت مزدوروں کو ہوگی ۔
خود کاشت کے لئے زمین کا قطعہ
(15) جن لوگوں سے ناجائز زمینیں واپس لی جائیں گی اگر ان کا ذریعہ معاش کوئی دوسرانہ ہوا یا ناکافی ہواتوگزارہ کے مطابق خود کاشت کے لئے انہیں قطعہ زمین دیا جائے گا ۔
مالیہ کی وصولی کا نظام
(16) زرعی زمینوں پر سے مالیہ وصول کرنے کے طریقوں کی شریعت کےاصولوں کی روشنی میں اصلاح کی جائے گی ۔اور بد عنوانیوں اور بے جا مداخلتوں کا مکمل سد باب کیا جائے گا ۔
صنعتی مقاصد کے لئے قابل زراعت زمین استعمال کرنے کی ممانعت
(17) صنعتی ضروریات کے لئے قابل زراعت اراضی کو استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا ۔
نظام آبپاشی
(18) زرعی ارازی کی آبپاشی کے لئے نہروں کاجال بچھایا جائے گا ۔ ڈیم تعمیر کئے جائیں گے اور ٹیوب ویل نصب کئے جائیں گے ۔
(19) اراضیات کو سیلاب سے بچانے اور پانی کو زرعی استعمال میں لانے کے لئے سمال ڈیمز تعمیر کئے جائیں گے ۔
(20) تمام نہروں کو پختہ کیا جائے گا ۔