رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ٹرانسمیشن کے نام پر مرد و زن کی مخلوط محافل مضحکہ خیز حرکتیں اور پھر دینی شعائر کا مذاق عذاب خداوندی کو دعوت دینا ہے۔ پیمرا اور متعلقہ اداروں کی خاموشی شرمناک ہے،حکومت رمضان آرڈینینس پر سختی سے عمل درآمد کرائے۔قاری محمد عثمان

کراچی:
جمعیت علماء اسلام کے صوبائی نائب امیر قاری محمد عثمان نے کہا کہ پیمراعبادت کے نام پر فحاشی کے سیلاب کو روکے۔رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر اسلامی اقدار کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔رمضان المبارک کی ٹرانسمیشن میں چینلز نے رمضان کو ایک تہوار کے طور پر پیش کرنا شروع کردیا ہے۔ مقدس ماہ میں ٹرانسمیشن کے نام پر مرد و زن کی مخلوط محافل مضحکہ خیز حرکتیں اور پھر دینی شعائر کا مذاق عذاب خداوندی کو دعوت دینا ہے۔ پیمرا اور متعلقہ اداروں کی خاموشی شرمناک اور کسی المیہ سے کم نہیں ۔ حکومت رمضان آرڈینینس پر سختی سے عمل درآمد کرائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد سبحانی شیرشاہ میں جے یو آئی شیرشاہ کے امیر عزیز الرحمن عزیز کے صاحبزادے مولانا محمد امین کے 14 روزہ تراویح میں ختم قرآن کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔قاری محمد عثمان نے کہا کہ اداکاروں اور فنکاروں کو رمضان میں اسلام کا ٹھیکہ مل جاتا ہے۔ ریٹنگ کے چکر میں بد تہذیبی اور بے شرمی کی تمام حدیں پار کی جا رہی ہیں۔اسلام کی آٖفاقی تصویر کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔رمضان ٹرانسمیشن کے ذریعے رمضان آرڈیننس کا شیرازہ بکھیر دیا گیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ان بابرکت ساعات اور مقدس گھڑیوں میں اسلام مخالف اور حیا ء باختہ افعال عذاب الہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ان ایام میں بجائے برکات اور رحمتیں سمیٹنے کے ہم گناہوں کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔ انہوںنے مزید کہا کہ رمضان المبارک اور دین کے نام پر جو کھیل تماشا ہو رہا ہے وہ نہ صرف ناجائز بلکہ قبیح عمل ہے۔ ماڈلز اور سنگرز بغیر کسی تحقیق کے اسلام کی غلط تشریح کر کے اسلام اور قوم دونوں کے مجرم ہیں۔پیمرا اور متعلقہ اداروں کو سختی سے نوٹس لیکر اس طوفان بد تمیزی کو روکنا ہوگا۔انہوںنے کہا کہ پورے سال اداکاری اور فنکاری کے جوہر دکھانے والے رمضان میں اسلام کی تشریح کرنے بیٹھ جاتے ہیں اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو معاشرے کو اخلاقی پستی اور اقدار کی تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔ پیمرا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ کو ناشائشتگی ، غیر سنجیدگی اور قومی اقدار کی منافی میڈیائی تفریح سے دور رکھے۔ قاری محمد عثمان نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک بھر اور شہر میں عبادت کے نام پر جو مخلوط پروگرام ہو رہے ہیں جن میں اداکار فلمی صنعتکار اور خود ساختہ جعلی مفسرین سحر و افطار کے پاکیزہ اوقات میں چلا رہے ہیں۔ ان پر پابندی لگا کر قانونی تقاضوں کو پورا کریں ۔ پمرا کی خاموشی معنی خیز ہے۔اگر حکومتوں اور پمرا نے اپنی آئینی اور م قانونی ذمہ داری پوری نہ کی تو ذمہ دار وہ ہوں گے۔