رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی بدترین لوڈشیڈنگ اور پانی کے بحران نے شہریوں کی زندگیوں کو اجیرن بنارکھاہے۔ پیمرا تمام چینلز کو پابند کرے کہ دینی مسائل کیلئے مستند علماء کرام کی خدمات حاصل کرے اور جعلی اسکا لرز سے دین اسلام کی غلط تشریح کا راستہ روکے۔قاری محمد عثمان

کراچی :
جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کے نائب امیر قاری محمد عثمان نے کہا کہ حکومت رمضان آرڈیننس پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرے ۔کے الیکٹرک کے ظلم سے شہریوں کو نجات دلانے کیلئے سپریم کورٹ از خود نوٹس لے ۔ ماہ مبارک میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ پیمرا ان تمام چینلز کا نوٹس لے جو رمضان المبارک کو ذریعہ معاش کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔وہ ضلع شانگلہ اور سوات سے واپسی پر شاہ فیصل کالونی میں نکاح کی تقریب میں شرکت کے بعد جماعتی کارکنوں اور عہدیداروں سے گفتگو کررہے تھے۔ اس موقع پر ضلع کورنگی کے امیر مفتی عبد الحق عثمانی، مولانا فاروق خلیل اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی بدترین لوڈشیڈنگ اور پانی کے بحران نے شہریوں کی زندگیوں کو اجیرن بناکر رکھ دیا ہے۔ شہریوں کو دوہرے عذاب کا سامناکر نا پڑ تا ہے۔ ان حالات میں ظاہر ہے رمضان المبارک کے اعمال متا ثرہوں گے۔ جسکی تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت اور کے الیکٹرک کے ادارے پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماہ مبارک میں کے الیکٹرک اور پینے کے پانی کا بحران ختم نہیں کیا گیاتو حالت روزہ میں عوام کا سڑکوں پر نکلنا اہل کراچی کی مجبوری ہوگی۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ بعض ٹی وی چینلز رمضان المبارک کو ذریعہ معاش بناتے ہوئے فلمی اداکاروں اور بے پردہ خواتین کے ذریعہ رمضان المبارک کی توہین کا ارتکاب کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پیمرا تمام چینلز کو پابند کرے کہ دینی مسائل کیلئے مستند علماء کرام کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ ماہ مبارک میں عوام کی حقیقی معنوں میں دینی رہنمائی کی جاسکے اور جعلی اسکا لرز سے دین اسلام کی غلط تشریح کا راستہ روکا جائے ۔ رمضان سے پہلے ہی اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے ورنہ ذخیرہ اندوزی کرنے والے عوام کو گردن کی طرف سے ذبح کریں گے جو ابھی سے اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں از خود بڑھا چکے ہیں جبکہ کمشنر کراچی سمیت پوری انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے۔ کراچی انتظامیہ تب ہوش میں آئے گی جب ذخیرہ اندوزی کرنے والے عوام کاخون چوس چکے ہوں گے۔