دستور

دستورجمعیت علماء اسلام پاکستان
جمعیت علماء اسلام کا قیام جن مقاصد کے حصول کے لیے عمل میں لایا گیا وہ اتنے کامل اور مکمل ہیں کہ ان میں کسی دور میں بھی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ، البتہ بعض انتظامی امور میں نئے پیدا شدہ حالات کی وجہ سے بعض ترامیم کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے ۔خصوصا” مفکر اسلام مولانا مفتی محمود ؒ کی رحلت کے بعد حالات تیزی سے تغیر پذیر ہو ئے ۔ ان احوال کی وجہ سے وقتا” فوقتا” ترامیم کایہ سلسلہ ضروری سمجھا گیا ۔ 8نومبر 1982ء حضرت مولانا عبدالکریم قریشی صاحب ؒ بیر شریف اور حضرت خواجہ خان محمد صاحب ؒ کی صدارت میں ہونے والے مجلس عمومی کے اجلاس میں ترامیم منظور کی گئیں۔ 9/10/11 نومبر 1992ء کو مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں ہونے والے مجلس عمومی کے اجلاس میں دستوری ترامیم کی ضرورت محسوس کی گئی ، البتہ دستور میں ترامیم واضافے کاکام مرکزی شوریٰ کے سپرد کر دیاگیا ۔
22/23 مارچ 1994ء کو حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب ؒ کی صدارت میں مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی تجویز پر حضرت مولانا عبداللہ صاحبؒ بکھر کی صدارت میں ایک دستوری کمیٹی تشکیل دی گئی ۔
یہ ترامیم 23/24 اپریل 1994ء کو جامعہ مدنیہ لاہور میں قائم مقام امیر حضرت مولانا اجمل خان ‘صاحبؒ کی صدارت میں ہونےوالے شوریٰ کے اجلاس میں منظورکی گئیں۔
25/26 مئی 1997ء کو ڈیرہ اسماعیل خان میں مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں دستور کاازسرنو جائزہ لینے کے لئے مرکزی ناظم عمومی مولانا عبدالغفور حیدری کی سربراہی میں ایک سات رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ اس کمیٹی نے محنت شاقہ کے بعد یکم تا 4 نومبر 1997ء کو جامعہ مطلع العلوم کوئٹہ میں ہونے والے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ان ترامیم کی منظوری دی ۔ 9/10/11 جون 2001ء کو جامعہ اسلامیہ شاہ ولی اللہ قلات میں ہونے والے مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں دستوری ترامیم کاازسرنو جائزہ لیا گیا اور شوریٰ میںمسلسل 2 دن دستور کی ایک ایک شق پر تفضیلی بحث و تخمیص کے بعد ترامیم کی منظوری دی گئی ۔
12/13 جون 2001 ء کو قلات بلوچستان میں ہونے والے مرکزی مجلس عمومی کے اجلاس میںشوریٰ کی منظورکردہ ان ترامیم کو توثیق کے لئے پیش کیا گیا ۔ معمولی ترامیم کے بعد دستور کو آخری شکل دی گئی ۔ تاہم بعد کے پیش آمدہ حالات کے پیش نظر دستور میں چند ترامیم کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے 22/23/24 مئی 2004ء کو نتھیاگلی ضلع ایبٹ آباد میں مرکزی مجلس شوریٰ اور چاروں صوبائی عاملہ جات کے مشترکہ اجلاس میں مرکزی ناظم عمومی مولانا عبدالغفور حیدری کی سربراہی میں چاروں صوبائی نظمائے عمومی کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ اس کا اجلاس 2 اگست 2004ء کو اسلام آباد میں زیر صدارت مولانا عبد الغفور حیدری منعقد ہوا۔ اس میں ڈاکٹر خالد محمود سومروؒ ، مفتی عبد الستار ، مولانا گل نصیب خان ، مولانا تاج محمد خان ، اور خواجہ محمد زاہد نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔
کمیٹی نے چند دستوری ترامیم مرتب کیں ۔ بعد میں ان تجاویز کو مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس 20/21 دسمبر 2004ء میں پیش کیا گیا ۔ حتمی منظوری کےلئے ان ترمیم کو مجلس عمومی کےاجلاس منعقدہ 10فروری 2005ء میں پیش کیا گیا ۔ معمولی ترامیم کے بعد دستور کو آخری شکل دی گئی ۔
مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس جو 23/24 جمادی الثانی 1430ھ بمطابق 18/19 اپریل 2009 کو جامعہ مدنیہ لاہور میں امیر مرکزیہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کی صدارت میں منعقد ہوا میں ایک بار پھر دستور میں ترامیم کےحوالے سے فاضل ارکین نے زبانی اور تحریری اراء پیش فرمائیں طویل بحث کے بعد مرکزی مجلس عمومی نے دستور میں ترامیم کا اختیار مرکزی مجلس شوریٰ کو دے دیا ۔ 6 شعبان المعظم 1430ھ بمطابق 26 جولائی 2009 ء کو اسلام آباد میں مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں آٹھ رکنی دستوری کمیٹی تشکیل دی کمیٹی کا اجلاس 12/13 ذیقعدہ 1430ھ بمطابق 1/2 نومبر 2009 ء کو اسلام آباد میں مولانا عبد الغفور حیدری کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے اراکین مرکزی ناظم ملک سکندر خان ایڈووکیٹ مرکزی ناظم اطلاعات مولانا محمد امجد خان مرکزی ناظم مالیات الحاج شمس الرحمٰن شمسی بلوچستان کے ناظم عمومی مولانا مفتی عبدالستار سندھ کے ناظم عمومی مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو ؒ خیبر پختونخواہ کےناظم عمومی مولانا شجاع الملک پبجاب کے ناظم عمومی مولانا افتخار حقانی نے ٓشرکت کی ملک بھر سے آنے والی قیمتی اراء کی روشنی میں ایک مسودو مرتب کیا گیا جو مجلس شوریٰ کے اجلاس جو اسلام آباد میں 14/15 ذیقعدہ 1430ھ بمطابق 3/4 نومبر 2009 ء کو امیر مرکزیہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کی صدارت میں منعقد ہوا میں پیش کیا گیا معمولی ترامیم کے بعد دستور کو آخری شکل دے دی گئی جو آپ حضرات کے سامنے ہے اللہ تعالیٰ اس اہم کا م کے لیے سعی کرنے والے حضرات کو جزائے خیر عطاء فرمائے اور دستور کو جماعت کی ترقی کاباعث بنائے آمین ۔
(مولانا) عبدالغفور حیدری
ناظم عمومی جمعیت علماء اسلام پاکستان

دستور جمعیت علماء اسلام پاکستان
دفعہ نمبر 1
)الف ) اس جمعیت کانام جمعیت علماء اسلام پاکستان ہو گا ۔
اس کا مرکزی دفتر لاہور میں اور صوبائی دفاتر صوبوںکےصدر مقامات پر ہوں گے یا جہاں صوبائی مجالس طے کریں ۔
(ب) اس جمعیت کا دائرہ عمل پورا پاکستان ہوگا ۔
(ج) بلحاظ تبلیغ واتحاد امت مسلمہ بیرون پاکستان تک وسیع ہو سکے گا ۔

دفعہ نمبر 2
جمعیت علماءٰ اسلام پاکستان کے اغراض و مقاصد حسب ذیل ہوں گے ۔
(1) علماء اسلام کی رہنمائی میں مسلمانوں کی منتشر قوتوں کو جمع کرکےاقامت دین اور اشاعت اسلام کے لئے جدوجہد کرنا ۔ نیز اسلام اور مرکز اسلام یعنی جزیرۃ العرب اور شعائر اسلام کی حفاظت کرنا ۔
(2) قرآن مجید واحادیث نبویہ علی صاحبہاالتحیتہ والسلام کی روشنی میں نظام حیات کے تمام شعبوں ، سیاسی ، مذہبی ، اقتصادی ، معاشی اور ملکی انتظامات میں مسلمانوں کی راہنمائی اور اس کے موافق عملی جدوجہد کرنا ۔
(3) پاکستان میں صحیح حکومت اسلامیہ برپا کرنا اور اسلامی عادلانہ نظام کے لئے ایسی کوشش کرنا جس سے باشندگان پاکستان ایک طرف انسانیت کش سرمایہ داری اور دوسری طرف الحاد آفریں اشتراکیت کے مضرات اثرات سے محفوظ رہ کر فطری معاشرتی نظام کی برکتوں سے مستفید ہوسکیں ۔
(4) مملکت پاکستان میں ایک ایسے جامع اور ہمہ گیر نظام تعلیم کی ترویج و ترقی کے لئے سعی کرنا جس سے مسلمانوں میں خشیت الٰہی ، خوف آخرت ، پابندی ارکان اسلام اور فریضہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی انجام دہی کی صلاحیت پیدا ہو سکے ۔
(5) مسلمانان پاکستان کے دلوں میں جہاد فی سبیل اللہ ، ملکی دفاع اور استحکا م اور سالمیت کے لئے جذبہ ایثار قربانی پیدا کرنا ۔
(6) مسلمانوں میں مقصد حیات کی وحدت فکر وعمل کی یگانگت اور اخوت اسلامیہ کو اس طرح ترقی دینا کہ ان سے صوبائی ، علاقائی ِ، لسانی اور نسلی تعصبات دور ہوں
(7) مسلمانان عالم سے اقامت دین ، اعلاء کلمتہ اللہ کے سلسلے میں مستحکم روابط کا قیام۔
(8) تمام محکوم مسلم ممالک کی حریت و استقلال اور غیر مسلم ممالک کی مسلم اقلیتوں کی باعزت اسلامی زندگی کے لئے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کرنا
(9) تحریر وتقریر اور دیگر آئینی ذرائع سے باطل فرقوں کی فتہ انگیزی مخرب اخلاق اور مخالف اسلام کاروئیوں کی روک تھام کرنا۔
(10) تحریر وتقریر اور دیگر آئینی ذرائع سے باطل فرقوں کی فتنہ انگیزی مخرب اخلاق اور مخالف اسلام کاروائیوں کی روک تھام کرنا۔
دفعہ نمبر 3 شرائط رکنیت :
(1) ہر بالغ مسلمان جمعیت علماء اسلام کا رکن بن سکتا ہے بشرطییکہ وہ جمعیت کے اغرض ومقاصد سے متفق ہو ۔
(2) تین سالہ مدت کے لئے 20 روپے فیس رکنیت ادا کرے ۔
(3) جماعتی نظم و نسق کی پابندی اور پروگرام کو کامیاب بنانے کا عہد کرے ۔
(4) فارم رکنیت پر کرے۔
(5) وہ کسی دوسری مذہبی جماعت یا سیاسی جماعت کا رکن نہ ہو ۔
دفعہ نمبر 4 تشکیل :
(1) جمعیت علماء اسلام کی ایک مرکزی تنظیم ہو گی جس کے تحت تمام صوبائی جمعیتیں ہوں گی۔
(2) صوبائی جمعیتوں کی تنظیم حسب ذیل صورت میں ہوگی ۔ ابتدائی ، تحصیل ، ٹاؤن ، ضلعی اور صوبائی (الف) جمعیت کی ہر تنظیم کے لئے اسی سطح پر رضاکار وں کا ایک نظام انصار الاسلام کے نام سے ہوگا۔
(3) مرکزی اور صوبائی جمعیتوں کے عہدیدار درج ذیل ہوں گے۔
امیر (1) ، نائب امیر (4) ، ناظم عمومی (1) ، ناظم (4) ، ناظم نشرواشاعت (1) ، ناظم مالیات (1) ، سالار (1)
ضلعی تحصیل اور ابتدائی جمعیتوں کے لیے نائب امیر اور ناظم کا عہدہ ضروری نہیں ہوگا بوقت ضرورت ضلعی جمعیت دو دو اور تحصیل اور حلقہ کی جمعیت ایک ایک رکھ سکتی ہے ۔
(4) ہر جمعیت کے لئے تین مجلسیں ہوں گی ۔ (1) مجلس عمومی (2) مجلس شوریٰ (3) مجلس عاملہ
(5) وفاقی دارالحکومت کی جمعیت براہ راست مرکزی جمعیت کے ماتحت ہوگی اور مرکزی مجلس عمومی میں اس کا نمائندگی تین ہزار ابتدائی ارکان پر ایک رکن کے حساب سے ہو گی ۔
دفعہ نمبر 5 مجالس عمومی جمعیت علماء اسلام
(1) جمعیت علماء اسلام کا فارم رکنیت پر کرنے والے تمام ارکان ، ابتدائی جمعیت علماء اسلام کی مجلس عمومی کے ارکان ہوں گے اورہر ماتحت جمعیت سے بالائی جمعیت کے لئے نامزد نمائندوں پر مشتمل اس جمعیت کی مجلس عمومی ہوگی ۔
(2) ابتدائی جمعیت کے ہر تیس ارکان پر ایک رکن تحصیل کی جمعیت کے لیے ، تحصیل کے ہر دو ارکان پر ایک رکن ضلعی جمعیت کے لئے ، اور ضلع کے ہر دس ارکان پر ایک رکن صوبائی جمعیت کے لئے اور صوبائی جمعیت کے ہر پانچ ارکان پر ایک رکن مرکزی جمعیت کے لئے بطور رکن مجلس عمومی نامزد ہوگا۔نوٹ رکن سازی کی مدت ختم ہونے کے بعد رکن بننے والا کوئی شخص انتخاب میں حصہ نہیں لے سکے گا ۔
(3) مقامی جمعیت کے عہدے اور ضلعی مجلس عمومی کی رکنیت کےلئے کم از کم دو سال ابتدائی رکن ہونا ضروری ہوگا ۔ جس مقام پر ابتدائی جمعیت پہلی بار تشکیل ہوگی وہ اس شرط سے مستثنیٰ ہوگی ۔ صوبائی اور مرکزی مجلس عمومی کی رکنیت کے لئے تین سال سے ابتدائی رکن ہونا ضروری ہوگا۔

دفعہ نمبر 6 ناظم انتخابات
(1) مرکزی مجلس عاملہ کے انتخابات کی تاریخ سے تین سال کی مدت پوری ہونے پر آئندہ ‘” سہ سالہ ” مدت کے لئے ناظم انتخابات مرکزی مجلس عاملہ کرے گی ۔
(2) مرکزی ناظم انتخابات صوبوں کے لئے اور صوبائی ناظم انتخابات ضلعوں کے لئے ناظم انتخابات مقرر کریں گے ۔
(3) اسی سطح کا ناظم جماعتی انتخابات میں حصہ لے سکے گا البتہ انتخابات کے بعد ہر سطح کے ناظم انتخابات کو اس سطح کی مجلس عاملہ میں بمنشا دفعہ 9 ضلعی دفعہ 6 مناسب عہدے پر بامزد کیا جا سکتاہے ۔
(4) ماتحت جمعیت کی مجلس عمومی سے بالائی مجلس عمومی کے لئے دستور کے مطابق ارکان کا چناؤ اسی سطح کے ناظم انتخابات کی ذمہ داری ہوگی ۔ بوقت ضرورت اگر ناظم انتخابات کو ناموں کے چناؤ میں وقت در پیش ہو تو امیر اور ناظم عمومی سے مشورہ لے سکتا ہے ۔
(5) محرم ، صفر ، ربیع الاول اور ربیع الثانی میں رکن سازی ہو گی ۔
(6) جمادی الاولیٰ اور جمادی الاخریٰ میں ابتدائی تحصیل اور ضلعی جبکہ رجب میں صوبائی اور شعبان میں مرکزی عہدیداروں کے انتخابات ہوں گے
(7) امیر مرکزیہ حسب ضرورت اس شیڈول میں چھ ماہ تک توسیع کرسکتے ہیں ۔
(8) نظمائے انتخابات حسب ضرورت اپنے لئے معاونین مقرر کر سکتے ہیں ۔
دفعہ نمبر 7 انتخابات کے لئے ضروری قواعد
(1) تمام ابتدائی اور تحصیل کی جمعیتوں میں ارکین کی فہرست رجسٹرمیں درج ہوگی اور ضلع میں بھی تمام ماتحت جمعیتوں اور ان کے ارکین کے نام کا رجسٹر ہو گا اور اس کی ایک نقل صوبے میں بھی بھیجنا ضروری ہوگا ۔
(2) فارم رکنیت کا ایک پرت ، جس پر مختصرا” اغراض و مقاصد درج ہوں گے پرکر کے رکن کو دیا جائے گا ۔ دوسر ا پرت ضلعی اور صوبائی جمعیت کی وساطت سے مرکز کو بھیجاجائے گا۔مرکزی دفتر میں پرت محفوظ رکھے جائیںگے۔
(3) ہر سطح کی تنظیم کے لئے لازم ہوگا کہ وہ اپنے ارکان اور ماتحت جمعیتوں کے ارکان کا رجسٹر میں اندراج کرے ۔ارکان کی فہرست کی نقل بالائی جمعیت کو بھیجنالازم ہوگا۔
(4) ضلع اور صوبہ کی سطح پر انتخابات کے لئے انتخابات سے کم از کم پندرہ دن پہلے تاریخ کا تعین ضروری ہے ۔جس کی اطلاع بذریعہ خطوط کرنی ہوگی
(5) امیر خواہ مرکزی ہو یا ماتحت اس کے انتخاب کے لئے درج ذیل اوصاف کو مد نظر رکھنا ضروری ہوگا۔ (الف) اپنے حلقہ میں ممتاز شخصیت کا مالک ہو ، ملکی حالات سے واقف ہو ۔ (ب) علمی ، عملی اور اخلاقی اوصاف اور امانت دیانت ، ایثار اور استقامت کی وجہ سے اپنے فرائض باحسن وجوہ سر انجام دینے کی اہلیت رکھتا ہو ۔ (ج) نیز ارکان شوری ٰ میں بھی اوصاف بالا کا اسی طرح لحاظ رکھا جائے گا کہ یہ ارکان ان اوصاف میں دوسرے رفقاء سے ممتاز ہوں ۔
(6) عہدیداروں، مجلس شوری ٰ کے ارکان بلکہ عام ارکان کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ صوم و صلوٰۃ کے پابند ہوں اور دیگر احکام شرعیہ کی بھی پابندی کرتے ہوں یا ائندہ کےلئے عہد کریں ۔
(7) رکن سازی اور انتخابی عمل کے دوران انتخابی امور کے بارے میں بالائی ناظم انتخابات کو شکایات کی جاسکے گی ۔ جو شکایت موصول ہونے کے بعد پندرہ روز کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند ہو گا اور انتخابی عمل مکمل ہونے کےبعد کسی بھی سطح کے انتخابات کے خلاف بالائی جمعیت کے امیر کو پندرہ روز کے اندر اپیل کی جاسکے گی اور بالائی جمعیت کاامیر مہینہ کے اندر سماعت شروع کرنے کا پابند ہوگا۔
(8) کوئی سرکاری ملازم جمعیت علماء اسلام کاعہدیدار نہیں بن سکتا۔
دفعہ نمبر 8 مجالس شوریٰ
(1) ہر سطح کا امیر اپنی مجلس عمومی ہی سے چند صاحب الرائے حضرات کو اپنے مشورہ کے لئے نامزد کرے گا ۔جن کی تعداد بشمول عہدیداران زیادہ سے زیادہ 45 ہوگی۔
(2) امیر مجلس شوریٰ نامزد کرتے وقت خیال رکھیںگے کہ ان کی مجلس شوریٰ ضلع میں 4/1علماءٰ دین ،صوبہ اور مرکز میں 2/1حصہ علماء کا ہونا ضروری ہوگا۔ اگر کسی ضلع میںعلماء کی تعداد میں کمی ہو تو اس کے لئے مرکز سے خصوصی اجازت حاصل کی جاسکتی ہے ۔
تشریح عالم دین سے مراد وہ مسلمان ہے جس نے کسی باقاعدہ مدرسہ عربیہ میں یاکسی مستند عالم دین سے علوم عربیہ اسلامیہ کی تکمیل کی ہو۔ اگر ضرورت پڑے تو ثبوت کے لئے سند فراغت یاکسی ایسے عالم کی تصدیق کافی ہو گی جو جمعیت کا کاکن ہو ۔ اس کے بغیر بھی شہرت اور عام مقبولیت کی بنا پر امیر بطور خود تصدیق کرسکے گا۔
دفعہ نمبر 9 مجالس عاملہ
(1) ہر جمعیت کی مجلس عاملہ اس کے عہدیداروں پر مشتمل ہو گی ۔
(2) اس ابتدائی جمعیت علماء اسلام کی تشکیل کے لیے کم از کم بیس ارکان ضروری ہوں گے خواہ چند حلقے ملاکر تشکیل دی جائے ۔
(3) تحصیل کی سطح پر جمعیت کے قیام کے لئے ضروری ہوگا کہ اس تحصیل میں کم از کم پانچ ابتدائی جمعیتیں موجود ہوں ۔ ورنہ ابتدائی جمعیتون کا الحاق براہ راست صوبے سے ہوگا۔
(4) ہر جمعیت کا امیر ماتحت جمعیت کے عہدیداوں اور ارکان کے خلاف حسب ضرورت کاروائی کر سکتا ہے اور فیصلے کے خلاف اپیل ایک ماہ کے اندر امیر بالا کے پاس کی جاسکتی ہے ۔
(5) کوئی جمعیت اگر ضروری سمجھے تو ملک یا علاقہ کے سربرآوردہ علماء یاصلحاء میں ایک یا اس سے زائد ، حسب ضروت سرپرست مقرر کر سکتی ہے جن سے غیر معمولی امور میں مشورہ کیاجاسکے اور یہ سرپرست اس سطح کی جمعیت کی مجلس شوریٰ کے رکن متصور ہوں گے ۔
(6) مجلس عمومی ، خفیہ پرچی (بیلٹ پیپر) کے ذریعہ آزادانہ رائے سے امیر و ناظم عمومی منتخب کرے گی ۔ باقی عاملہ امیر و ناظم عمومی ، باہمی مشورہ سے نامزد کریں گے ۔ مرکز وصوبہ میں نصف تعداد علماٰء کا ہونا ضروری ہے ۔
(7) ہر سطح پر جمعیت کی مجلس عمومی کا کوئی رکن کسی بھی عہدیدار کے خلاف ایک تہائی ارکان کے دستخطوں کے ساتھ عدم اعتماد کی تحریک پیش کرسکتا ہے ، البتہ اس کی منظوری دو تہائی ارکان کی اکثریت سے ہوگی ۔
(8) ماتحت جمعیت کے کالعدم ہونے کی صورت میں کالعدم عاملہ کا امیر بالائی جمعیت کو آگاہ کرے گا۔ بالائی جمعیت دو ماہ کے اندر ماتحت جمعیت کی عاملہ کا انتخاب کرائے گی ۔ مرکزی جمعیت کالعدم ہونے کی صورت میں مرکزی امیر خود بخود ناظم انتخاب بن جائے گا جو دو ماہ کے اندر مجلس عمومی بلا کر نئے انتخابات کرائے گا ۔
دفعہ نمبر 10 انصاب
تمام مجالس عمومی ، مجالس شوریٰ ، مجالس عاملہ کے لئے کم از کم 3/1 کی حاضری ضروری ہے ملتوی شدہ اجلاس کے لئے یہ شراط نہ ہو گی ۔
دفعہ نمبر 11
(1) تمام تشکیلات میں جدید انتخاب کے وقت مجلس عمومی کا اجلاس موجودہ امیر یا اس کی عدم موجودگی میں نائب امیر کی صدارت شروع ہو گا نئے امیر کےانتخاب کے بعد تمام کاروائی ان کی صدارت میں ہوگی
(2) نچلی سطح کا امیر یا ناظم عمومی اگر بالائی سطح کا امیر و ناظم عمومی منتخب ہو جائے تو اس کا نچلی سطح کا عہدہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔
دفعہ نمبر 12
(1) ہر سطح کی جمعیت کی مجلس عمومی اس جمعیت کا سب سے زیادہ بااختیار ادارہ ہوگا۔
(2) مجلس عمومی کے سامنے عاملہ و مجلس شوریٰ جواب دہ ہوں گی اور اس کے فیصلے سب پر حاوی ہوں گے ۔
(3) مرکزی مجلس عمومی جمعیت کے اغراض ومقاصد کی انجام دہی کے لئے موقف ، پالیسی اور طریق کا متعین کرے گی ۔
(4) مرکزی مجلس عمومی ہی دستوری دفعات کے وضع کرنے اور اس میں ترمیم و تنسیخ کی مجاز ہو گی ۔
(5) مجالس کے فیصلے سادہ اکثریت سے ہوں گے ، البتہ دستوری دفعات کی ترمیم و تنسیخ کے لئے مرکزی مجلس عمومی کے 3/2 ارکان اکثریت لازم ہوگی ۔
(6) مجلس عمومی جمعیت کے بجٹ کااجراء کرے گی اور سال گزشتہ کے حسابات کی منظوری دے گی ۔
(7) مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس سال میں کم از کم ایک بار صوبائی مجلس عمومی کا چھ ماہ میں ایک بار اور ضلعی مجلس عمومی کا چار ماہ میں ایک بار تحصیل مجلس عمومی کاتین ماہ میںایک بار اور ابتدائی جمعیت کی مجلس عمومی کا مہینے میں ایک بار ہونا لازمی ہوگا ۔
(8) مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس ڈیڑھ سال تک ، صوبائی ِمجلس عمومی کا ایک سال تک اور ضلعی مجلس عمومی کا چھ ماہ تک تحصیل مجلس عمومی کا اجلاس چار ماہ تک اور ابتدائی جمعیت کی مجلس عمومی کا اجلاس دو ماہ تک طلب نہ کرنے کی شکل میں اس سطح کی مجلس عاملہ کالعدم ہوجائے گی کسی بھی سطح کی عاملہ کے کالعدم ہونے کی صورت میں بالائی جمعیت ناظم انتخابات کرائے گا۔
(9) مرکزی و صوبائی مجلس عمومی کے معمول کے اجلاسوں کی تاریخ انعقاد سے کم از کم ایک ماہ قبل اور ضلعی مجلس عمومی کے اجلاسوں کی تاریخ انعقاد سے 15 یوم قبل تحصیل مجلس عمومی کے اجلاس کے انعقاد سے 5 یوم قبل تحصیل ومجلس عمومی کےاجلاسوں کے انعقاد سے 10 یوم قبل جبکہ ابتدائی جمعیت کے مجلس عمومی کے اجلاسوں کے انعقاد سے 5یوم قبل ناظم عمومی ہر رکن کے پاس تحریری اطلاع نامہ بھیجے گا۔ جس میںوقت مقام اجلاس اور پیش نامہ (ایجنڈا) درج ہو گا ۔
(10) اگر ایک تہائی ارکان کے دستخطوں سے انعقاد اجلاس کا تحریری مطالبہ ناظم عمومی کے پاس بھیجا جائے تو مجلس عمومی کا خصوصی اجلاس انہی ارکان کے پیش کردہ ایجنڈے کے مطابق طلب کر لیا جا ئے گا ۔
اس اجلاس کاپیش نامہ تاریخ اجلاس سے کم از کم پندرہ دن قبل جاری ہو جائے گا ، البتہ ہنگامی اجلاس میں اگر امیر جمعیت کو چاہے تو کم مدت میں بھی اجلاس طلب کیا جا سکتا ہے ، لیکن وقت اگر اس کی گنجائش نہیں رکھتا تو مجلس شوریٰ کا اجلاس بلاکر فیصلہ کیا جائے گا۔اگر کوئی رکن تجویز کرنا چاہے تو اسے ناظم عمومی کے پاس دس دن قبل مع عبارت تجویز بھیج دینا ضرور ی ہو گا ۔ امیر فوری طور پر ضرورکوئی تجویز پیش کرنے کی اجازت بھی دے سکتا ہے ۔
(11) مرکزی مجلس عمومی کی سالانہ فیس رکنیت 100 روپے ، صوبائی کی 50 روپے ، ضلعی کی 25 روپے اور تحصیل کی 20 روپے جبکہ ابتدائی مجلس عمومی کے لئے 10 روپے ہوگی ۔
دفعہ نمبر 13 فرائض و اختیارات مجلس شوریٰ
(1) مجلس شوریٰ پیش آمدہ معاملات میں اپنے امیر کی مشیر ہوگی ۔
(2) مجلس شوریٰ کا اجلاس امیر جب چاہے بلاسکے گا، البتہ چھ ماہ میں ایک بار ہونا ضروری ہوگا ۔
(3) امیر مجلس شوریٰ کے ارکان کی نامزدگی یوم انتخاب سے ایک مہینہ کے اندر کریںگے اور یہ نامزد گی تین سال کیلئے ہوگی ۔
(4) مجلس شوریٰ کے سامنے مجلس عاملہ جوبدہ ہوگی اور اس کے فیصلے مجلس عاملہ پر حاوی ہوں گے ۔
(5) مجلس شوریٰ کےارکان پر لازم ہو گا کہ وہ مجلس اجلاسوں میں باقاعدگی سے شامل ہوں ۔ اگر کوئی رکن مجلس شوریٰ کےمسلسل دو اجلاسوں میں شریک نہ ہوگا تو اس کو امیر عذر پیش کرنے کاموقع دے گا اور معقول عذر پیش نہ کرنے اور تیسرے اجلاس میں شریک نہ ہونے کی صورت میں اس کا نا م خود بخود رکنیت سے خارج ہوجائے گا اگر وہ رکن عہدیدار ہو گا تو اس کا عہدہ بھی ختم ہو جائے گا
دفعہ نمبر 14 فرائض و اختیارات مجلس عاملہ
(1) جمعیت کے پروگرام کی تکمیل اور اس کی پالیسی وماتحت جمعیتوں کی کارکردگی کی نگرانی ،
(2) مجلس عاملہ کا کوئی رکن مجلس عاملہ کے مسلسل تین اجلاسوں میں شریک نہیں ہوگا تو امیر اس سے جواب طلبی کر ے گا اور اگر وہ معقول عذر پیش نہ کر ے تو اس کا عہدہ ختم ہو جائے گا۔
دفعہ نمبر 15 امیر کے فرائض و اختیارات
(1) جمعیت علماٰء اسلام کا امیر پورے نظام کا قائد اور نگران ہو گا ۔
(2) امیر مجلس عمومی ، مجلس شوریٰ ، اور مجلس عاملہ کے اجلاسوں کی صدارت کرے گا اور ان کی عدم موجودگی میں کوئی نائب امیریہ فرائض سر انجام دے گا اور اگر کسی مجبوری کی وجہ سے امیر اور نائب امیر موجود نہ ہوں اور اجلاس باظابطہ بلایا گیا ہو تو ایسی صورت میں مجلس حاضرین میں سے کسی کو اجلاس کی صدارت کے لئے منتخب کر کے اجلاس جاری رہے گا۔
(3) امیر کی علالت یاغیر موجودگی میںعارضی طور پر نائب امیراول قائم مقام امیر ہوگا ۔
(4) اگرکسی وقت امیر استعفاء یا کسی دوسری وجہ سے عہد ہ امارت خالی ہو تو نائب امیراول تا انتخاب امیر قائم مقام امیر شمار ہو گااس صورت میں امیر کا انتخاب چھ ماہ کے اندر ضروری ہوگا ۔
(5) امیر اپنی مجلس شوری ٰ کے مشورے سے کام کرے گا اور تمام اہم معاملات جو مختلف فیہا ہوسکتے ہیں جن سے جمعیت کی پالیسی پر اثر پڑسکتا ہے مجلس شوری ٰ میں ہوں گے اور فیصلہ کثرت رائے سے ہوگا۔
(6) جن معاملات میں ارکان مجلس شوری ٰ کی رائے برابر ہو گی ۔ ان میں آخری فیصلے کا اختیار امیر کو ہو گا ۔
(7) کسی ماتحت جمعیت کو توڑنا یا الحاق کرنا جمعیت کی تمام املاک کی حفاظت اور جمعیت کے مفاد کے لئے تصرف کرنا ۔
(8) جمعیت کے بیت المال کو جمعیت کے مفاد کے لئے مجلس عاملہ کے مشورہ سے صرف کرنا ۔
(9) مجلس شوریٰ کے ارکان کو حسب دستور نامزد کرنا ۔
(10) بعض اہم مسائل میں مجلس شوری ٰ کی بحثوں میں بعض غیر رکن حضرات کو شرکت کی دعوت دینا جو متعلقہ مسائل میں خاص بصیرت رکھتے ہوں ۔
(11) کسی ماتحت امیر ، عہدیدار ، رکن مجلس شوریٰ یا رکن جمعیت کو معزول کرنا جو جمعیت کے اغراض و مقاصد میں وفادار ثابت نہ ہو ۔
(12) امیر اپنی مجلس عاملہ کے نامزد ارکان یا کسی رکن شوریٰ سے منظوری لینے کے بعد اپنے عہدے سے سکبدوش کر سکتا ہے ۔
(13) اہم امور میں اپنی صوابدید کے مطابق کسی سے خط و کتابت یا گفت و شیند کرنا اور ان کے بارے میں مجلس عاملہ کے مشورہ سے کوئی اعلان جاری کرنا ۔
(14) نظماء وعمال دفتر کے کام کی نگرانی کرنا اور شکایتوں کی سماعت کرنا ۔
(15) نائب امراء میں حسب صوابدید فرائض کو تقسیم کرنا اور ان میں درجات قائم کرنا ۔
(16) ماتحت تنظیموں کے تنازعات نمٹانا ۔؎
(17) اگر کسی سطح کے عہدیدار جمعیت کے امور میں سستی اور کاہلی سےکام لیں بالائی جمعیت کی ہدایت کی پروانہ کریں تو ایسی صورت میں امیر بالا کام چلانے کی غرض سے دوسرے قائم مقام عہدیدار کی نامزدگی کر سکتا ہے ۔
(18) نائب امیر سپرد شدہ امور کو سر انجام دے گا ۔
(19) اگر کوئی جمعیت مقررہ وقت کے اندر بالائی جمعیت کے لئے نمائندوں کے چناؤ سے قاصر رہے تو امیر بالا کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنی طرف سے اس جمعیت کے نمائندے نامزد کرے ۔
دفعہ نمبر 16 ناظم عمومی کے فرائض و اختیارات
(1) جمعیت کی طرف سے طے شدہ امور پر عمل درآمد کرنا اور ماتحت جمعیتوں کی کارکردگی کی دیکھ بھال کرنا ۔
(2) ماتحت جمعیتوں کو عملی فیصلوں کی اطلاع دینا ۔
(3) دفتر اور اس سے متعلق تمام کاغذات کو باقاعدگی سے رکھنا ۔ تمام فیصلوں کا ریکارڈ رکھنا اور امیر سے ان کی توثیق کرانا ۔
(4) مجالس کے اجلاس کےلئے امیر کی ہدایت کےمطابق حسب ضابطہ پیش نامہ جاری کرنا ۔
(5) دفتر کا عملہ اور ملازمین کی نگرانی کرنا ۔
(6) ناظم عمومی کی تنخواہ دار ملازمین کے تقرر ، تنزل ، تعطل ، برخاستگی اور رخصت وغیرہ کا اختیار ہوگا اور اس کی توثیق امیر سے کرائے جائے گی ۔
(7) مختلف شعبہ جات بمشورہ امیر تحریرا” ناظموں میں تقسیم کرنا اور مفوضہ شعبہ جات کی نگرانی کرنا ۔
(8) حسب ضرورت تمام شعبہ جات کے انچارج مقرر کرنا اور ان کے تحریرا” ان کے فرائض متعین کرنا ۔
(9) ماتحت ملازمین اور کارکنوں میں تقسیم کرنا اور ان کاموں کی نگرانی کرنا
(10) تمام ماتحت مجالس کی نگرانی کرنا اور ان کی کارگذاری سے امیر کو مطلع کرنا ۔
دفعہ نمبر 14 نظماء کے فرائض و اختیارات
(1) اگر ناظم ایک سے زائد ہوں تو ان میں درجات کی ترتیب ہوگی جس کاتعین ناظم عمومی کریں گے ۔
(2) ناظم سپرد شدہ ذمہ داریوں کو سرانجام دے گا اور ناظم عمومی کی عدم موجودگی میں نظماء بالترتیب قائم مقام ناظم عمومی کے فرائض سر انجام دیں گے ۔

دفعہ نمبر 18 بظم مبلغین
چونکہ جمعیت کا اہم مقصد ترویج واشاعت دین اسلام ہے جو کہ جمعیت کے اغراض و مقاصد میں درج ہے ۔ اس لئے جمعیت ہر ضلع میں اپنے مبلغین مقرر کر سکتی ہے اور ان کا تقرر جو جمعیت کرے گی وہی ان کے اخراجات اور نگران ذمہ دار ہوگی۔
فرائض مبلغین
مبلغین جماعت کے اغراض ومقاصد کی اشاعت اور دینی احکام کی ترویج و اشاعت کے لئے مفوضہ علاقہ کا دورہ کریں گے ۔ ان کا پروگرام متعلقہ جمعیت مشورہ سے طے کرے گی ۔
دفعہ نمبر 19 فرائض واختیارات ماتحت مجالس عہد یداران
(الف) ماتحت مجالس کو اپنے مقامی مصارف کے لئے ماہانہ ، ہنگامی ، سالانہ اور یکمشت چندہ جمع کرنے کا حق ہو گا ،مگر یہ چندہ ان رسید بکوں پر وصول کیا جائے گا جو مرکزی دفتر کی طرف سے جاری ہوں گی۔ ہر جمعیت کے پاس اندراج حسابات و دیگر ضروریات کے لئے درج ذیل رجسٹر وں اور فائلوں کاہونا ضروری ہے ۔
(1) رجسٹر آمد خرچ (2) رجسٹر اندراج ممبران (3) رجسٹر اندراج ماہانہ چندہ (4) رجسٹر اندراج خط و کتابت (5) رجسٹر کاروئی مجالس (6) فائل برائے نقو ل وریکارڈ خط و کتابت (7) رجسٹر برائے کٹنگ اخبارات (8) رجسٹر برائے اندراج اشیاء مملوکہ (9) رجسٹر چارج جس میں سابق ناظم سے چارج لے کر اشیاء کا اندراج کیا جائے
(10) فائل برائے ریکارڈ اخباری بیانات (11) فائل برائے رسیدات اخراجات (12) رجسٹر برائے معائنہ جس میں بالائی جمعیت کے عہدیدار معائنہ کے بعد تاثرات کااندراج کریں ۔
(ب) جدید ناظم چارج لیتے وقت جو اشیاء وصول کرے اس کی ایک نقل بالائی جمعیتوں کو بھیج دے گا۔ ہر جمعیت اپنے سے بالائی دفتر کو ماہانہ کارگزاری کی رپورٹ ارسال کرے گی اور اسی طرح ہر جمعیت اختتام سال پر ایک روائیداد مرتب کرکے صوبائی دفتر کو روانہ کرے گی جس میں سال بھر کی کارگزاری ، کل خرچ اور دوران سال تبلیغی کاموں کی کیفیت اور اس کے نتائج درج ہوں گے ۔ ہر مقامی محاسب جمعیت کے حسابات کی پڑتال کر کےہر تین ماہ کے بعد رپورٹ مرتب کر کے اپنے بالائی دفتر روانہ کرے گا۔ حسابات کا آغازیکم محرم سے ہوگا ۔
(ج) کوئی ناظم مالیات دستور کے خلاف نہ خود رقم خرچ کر سکتا ہے، نہ ہی کسی کو رقم خرچ کرنے کی اجازت دے سکتاہے جب تک اس کے مجاز ہونے کی قانونا” تصدیق نہ ہو جائے ۔
(د) ماتحت مجالس اپنی ہی مجلس عمومی میں ایسے ذیلی قوانین وضع کر سکتی ہیں جن سے جمعیت کے کام کو خوش اسلوبی سے چلایا جاسکے، بشرطیکہ دستور جمعیت کی کسی دفعہ پر اثر انداز نہ ہو ۔
دفعہ نمبر 20 شعبہ مالیات
جمعیت علماء اسلام کی مرکزیہ کی امدنی کی مدات حسب ذیل ہوں گے ۔
(1) ابتدائی فیس رکنیت کی رقم پچاس فیصد مرکز کی ، پچیس فیصد صوبہ کی اور پچیس ضلع کی ہو گی ۔
(2) مرکزی مجلس عمومی کا ہر رکن ماہوار چندہ پچاس روپے ، صوبائی مجلس عمومی کا ہر رکن ماہوار چندہ پچیس ضلع مجلس عمومی کاہر رکن ماہوار بیس روپے ،تحصیل مجلس عمومی کا ہر رکن ماہوار پندرہ روپے اور ابتدائی رکن ماہوار دس روپے جماعت کو ادا کرے گا ۔ (
3) مرکزی مجلس عاملہ و شوریٰ کاہر رکن ماہوار سو روپے صوبائی عاملہ اور شوریٰ کاہر رکن ماہوار پچاس روپے ، ضلعی مجلس عاملہ اور شوریٰ کاہر رکن ماہوار پچیس روپے اور تحصیل کی عاملہ اور شوریٰ کا ہر رکن ماہوار پندرہ روپے جماعت کو ادا کرے گا۔ نوٹ کوئی رکن کسی بالائی کی جماعت کو ماہوار چندہ ادا کرنے کی صورت میںماتحت جماعت کو چندہ دینے کا پابند نہیں ہوگا ۔
(4) خصوصی عطیات
(5) وہ آمدنی جو کسی منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد یا کسی سامان کی فروخت یا اس کے کرایہ سے وصول ہو ۔
(6) وہ آمدنی جو جمعیت کے کسی اجلاس کے سلسہ میںوصول ہو ۔
(7) زکوٰۃ ، عشر و دیگر صدقات واجبات وقیمت چرمہائے قربانی
(8) ہنگامی چندہ
دفعہ نمبر 21 ناظم مالیات کے فرائض و اختیارات
(1) ناظم مالیات شعبہ مالیات کا نگران ہو گا ۔چندہ جمع کرنا، آمد و خرچ کا مکمل ریکارڈ رکھنا ، اس کی سالانہ جانچ پڑ تال کرانا اس کے ذمہ ہو گا اور مالیات کے جملہ امور کے بارے میں مجلس عاملہ کے سامنے جوبدہ ہو گا ۔
(2) رقوم کی وصولی اور خزانہ میں جمع کرانا ۔ امیر ناظم عمومی اور ناظم مالیات میں سے کسی دوکے دستخطوںسے بینک سے رقم نکلوانا۔
(3) مرکزی ناظم مالیات بیس ہزار ، صوبائی ناظم مالیات دس ہزار اور ضلعی ناظم مالیات پانچ ہزار روپے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔
(4) بینک کا حساب کتاب باظم مالیات کے پاس ہو گا ۔
(5) ہر ابتدائی رکن 10 روپے سالانہ دینے کا پابندہوگا ۔ جس میں سے پچاس فیصد مرکز ، پچیس فیصد صوبہ اور پچیس فیصد ضلع کو ملے گااور اس فنڈ کی وصولی کا انتظام ہر درجہ کے امیر ،ناظم عمومی اورناظم مالیات کی ذمہ داری ہوگی ۔
(6) ہر بالائی جمعیت مذکورہ رقم کی عدم آدائیگی کی صور ت میں ماتحت جماعتوں کےخلاف تادیبی کاروائی کر سکتی ہے ۔

دفعہ نمبر 22 مالیات کی وصولی اور اس کی حفاظت کا انتظام
(1) ہر درجہ کی جمعیت آمدنی کے ذرائع پر غور کرے گی ۔
(2) آمدنی وصولی کے لئے مناسب انتظام کرے گی اور اس کے لئے محصل بھی مقرر کرسکے گی ۔
(3) ہر بالائی جمعیت اپنی ماتحت جمعیت کی مالی حثیت کے لحاظ سے بالائی جمعیت کے لئے کوئی رقم ماہوار یا سالانہ مقرر کرے گی اور اس سلسلہ میں بالائی امیر کی بات قطعی تصور کی جائے گی۔
(4) امداد کی رقوم مرکزی جمعیت کی رسیدات پر وصول کی جائیں گی اور یہ رسیدات ہر بالائی جمعیت کی وساطت سے ماتحت جمعیتوںکو ملیں گی ۔ بالائی جمعیتوں پر ان کی نگرانی اور واپسی کی ذمہ دار ہو گی ۔
(5) اکر کوئی جمعیت کسی اجلاس یا ہنگامی ضرورت کے لئے چندہ کر کے صرف کرے تو اس کا حساب آمد و خرچ کے رجسٹر میں باضاطہ درج کرے گی ۔
دفعہ نمبر 23 مدات مصارف
(1) ابتدائی جمعیتیں اپنے پاس جمع شدہ رقوم کو اغراض و مقاصد میں صرف کریں گے جس کاباضابطہ حساب آمد و خرچ کے رجسٹر میں درج کرنا ہوگا اور اخراجات کی باقاعدہ رسیدوں کاایک الگ فائل میںریکارڈ رکھنا ہو گا ۔ آمد و خرچ کا حساب ہر تین ماہ بعد پانچ تاریخ تک ضلعی دفتر کو بھیجنا ضروری ہوگا ۔ ضلعی آمد و خرچ کا سہ ماہی گوشوارہ ہر تیسرے ماہ کی دس تاریخ تک صوبائی دفتر کو اور صوبائی جمعیت کو 18 تاریخ تک مرکز ی دفتر ارسال کرے گی
(2) ہر سطح کی جمعیت کا کو ئی عہدیدار جماعتی مقاصد کےلئے سفر کرے یادورہ کرے تو اس کے اخراجات سفر اسی جمعیت کے خزانہ سے اداہوں گے ۔
(3) مرکزی ناظم عمومی مبلغ بیس ہزار روپے ماہانہ اور صوبائی ناظم عمومی دس ہزار روپے ماہانہ اپنے دستخطوں سے صرف کر سکتے ہیں ۔ اس سے زائدرقم کے لئے امیر سے اجازت لینا ضروری ہو گا ۔
دفعہ نمبر 24 شعبہ نشرو اشاعت
جمعیت کے لٹریچر ، اغراض ومقصاد ، طریق کا ر ، احکام و ہدایت اور خبروں کی وسیع پیمانے پر تشہیر کے لئے شعبہ نشرواشاعت قائم ہو گا جس کے لئے گوشوارہ (بجٹ) میں رقم مخصوص ہو گی ۔ یہ شعبہ مستقل ایک ناظم کے تحت ہو گا ۔ اس شعبہ کے ذمہ اخبارات و رسائل جاری کرنا ۔ جمعیت کا لٹریچر شائع کرنا ، ملکی جرائد کو ہمنوا بناکر جمعیت کے تبلیغی اور اصلاحی مقاصد میں ان کی حمایت حاصل کرنا ہوگا ۔نفاذ آئین اسلامی کےراستہ میں جو رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہوں ان کی نشاندہی کرنا اور رائے عامہ کو ہموار کر نے میں پوری کوشش کرنا اس شعبہ کے اہم مقاصد ہوں گے ۔
دفعہ نمبر 25 نظم و دفتر
دفتر کے لئے ایک مستقل ناظم ہو گا جس کی تحویل میںدفتر کا تمام اثاثہ ہوگا اور اس کے ذمہ مندرجہ ذیل امور ہوںگے ۔
آمدہ خطوط و کاغذات کا وصول کرنا مشورہ طلب امور کا مشورہ کے بعد جوب لکھنا ، ضروریا ت دفتر کی خرید ، مطبوعات کی تقسیم ، مہمانوں کی خدمت اور ان کی مطلوبہ معلومات بہم پہچانا، ماتحت مجالس اور عہدیداروںسے رابطہ قائم رکھنا جمعیت کی کارکردگی میںکسی کی سستی نظر آئے تو متعلقہ عہدیداروں کو اس کی اطلاع دینا، دفتر کے عملہ کی نگرانی اور مشاہدات کا تقسیم کرنا ، ہدایات اور احکام کو اپنی نگرانی میں تحریر کرواکے متعلقہ اشخاص تک پہنچانا،اخبارات اور مذہبی جماعتوں سے رابطہ رکھنا ۔
دفعہ نمبر 26 تنظیم انصار الاسلام
رضاکارانہ تنظیم ، جماعتوں کی روح تصور کی جاتی ہے ۔ اس لئے نظام اسلام کو بروئے کا لانے کے لئے انصار الاسلام کی تنظیم بے حد لازمی ہے جس کے لئے درج ذیل ضوابط طے کیے گئے ہیں ۔
(1) ہر مسلمان پابندصوم و صلوٰۃ ، مستعد اور باہمت نوجوان جو جمعیت علماءٰ اسلام کا رکن ہو انصار الاسلام کا رکن بن سکے گا ۔
(2) انصار الاسلام کا نظام جمیعت کے ماتحت ہو گا ، البتہ مرکزی سالار اپنا خاص نظام ترتیب بنا سکے گا جس کی منظوری امیر مرکزیہ بشمول مجلس شوریٰ سے ضروری ہوگی ۔
(الف) انصار الاسلام کے عہد یدار حسب ذیل ہوں گے
مرکزی سالار / صوبائی سالار / ضلعی سالار / مقامی سالار / تحصیل سالار
(ب) مرکزی صوبائی اور ضلعی سالار اپنی سہولت کے لئے اپنی صوابدید پر معاونین کا تقرر کر سکیں گے ، لیکن یہ معانین معلقہ مجلس عاملہ کے رکن نہیں ہوں گے ۔
(3) انصار الاسلام کی وردی حسب ذیل ہوگی ۔
خاکی رنگ کی دو پاکٹوں والی قمیض اور شلوار ۔ گرم کپڑے کی گول خاکی ٹوپی جس پر دھاری دار بیج ہو گا اور سیا ہ رنگ کا جوتا ۔
(4) تربیت یافتہ رضاکاروں کے لئےپٹی دہری ہوگی ۔
(5) انصار الاسلام کے بیج پر خواہ کپڑے کا ہو یا کسی اور چیز کا عہدہ اور حلقہ بھی درج ہو گا ۔
(6 ) کسی سطح پر انصار الاسلام اپنی فوری ضرورت کے لئے رقم جمع کرنا چاہیں تو متعلقہ امیر کی اجازت سے کر سکتے ہیں ۔بشرطیکہ جمعیت علماء اسلام کی رسید پر وصول کر کے مقامی خزانے میں جمع کرانے کے بعد آمد و خرچ کاباضابطہ حساب رکھا جائے ۔
(7) ہر سطح کا سالار ہر ماہ کی دس تاریخ تک اپنی کارکردگی کی رپورٹ اپنی سطح کے امیر کو پیش کرے گا ۔
(8) ہر اجتماع اور کانفرنس کے موقع پر اس کی نوعیت کےمطابق ابتدائی تحصیل ، ضلعی ، صوبائی رضاکار اجتماع میں اجتماع کے ذمہ دار حضرات کےمشورہ سے شریک ہوسکیں گے ۔
(9) انصار الاسلام کے ہفتہ وار ،ماہوار، سہ ماہی ، ششماہی اجتماعات اور باہمی تبادلہ خیالات و ترتیب کے لئے بالائی سالار ہدایا ت جاری کر سکیں گے ۔
(10) اجتماعات یا خاص مواقع پر فرائض کی انجام دہی کے وقت کوئی ماتحت سالار یا رضاکار فرائض سے غفلت برتنے ہوئے پایا جائے گا تو اس موقع کا نگران یا بالائی سالار اس سالار یا رضاکار کو معطل کرسکے گا ۔ اور اس کی جگہ ذمہ دار کسی بھی دوسرے سالار یا رضاکار کو سونپ سکے گا اور اس کی اطلاع اس سطح کی جمعیت کے امیر کو دے گا جو واقعہ کی تحقیق کے بعد اسے بحال یاسکبدوش کرسکے گا۔
دفعہ نمبر 27 پرچم
جمعیت علماء اسلام کا پرچم سفید اور سیاہ دھاریوں والا ہوگا جس کی تفصیل حسب ذیل ہوگی۔
پرچم ساڑھے چار فٹ لمبا اور تین فٹ چوڑا ہوگا جس میںکل نو دھاریاں ہوں گی پانچ پانچ انچ کی پانچ سیاہ دھاریاں اور اڑھائی انچ کی چار سفید دھاریاں ہوں گی ۔ اوپر اور نیچے کی دھاریاں سیاہ اور درمیان والی سفید ہوں گی ۔
دفعہ نمبر 28 مجلس فقہی
(1) جیدعلماء کرام پر مشتمل مجلس فقہی ہوگی جس کے کم ازکم پانچ ارکان ہوں گے یہ مجلس براہ ر است امیر کے ماتحت ہوگی ۔
(2) اس کے تین درجات ہوں گے ۔ مرکزی / صوبائی / ضلعی
(3) مجالس فقہی کی ذمہ دار ہوگی وہ شرعی امور میں اپنی سطح کی جمعیت کی راہنمائی کرے ۔
(4) مجالس فقہی کا اجلاس بلانا اوران کے سامنے مسائل پیش کرنا نظماء عمومی کی ذمہ داری ہو گی ۔
(5) مجالس فقہی کے کام کی رپورٹ نظماء عمومی مجالس شوریٰ کے معمول کے اجلاسوں میں پیش کریں گے ۔
(6) مجالس فقہی کی تشکیل اور اس میںتبدیلی کا اختیار مجالس عاملہ کو ہوگا۔
دفعہ نمبر انتخابی بورڈ
(1) مرکزی مجلس عاملہ مرکزی انتخابی بورڈ ، صوبائی مجلس عاملہ ، صوبائی انتخابی بورڈ اور ضلعی مجلس عاملہ ضلعی انتخابی پورڈ ہوگا ۔
(2) قومی و صوبائی اسمبلیوں کے امید واروں کا فیصلہ انتخابی بورڈ ضلعی انتخانی بورڈ کی سفارشات کے بعد کرے گا ۔صوبائی بورڈکافیصلہ حتمی ہو گا اختلاف کی صورت میںمرکز سے اپیل کی جاسکے گی ۔
(3) لوکل کونسل ، سٹی کونسل اور ڈسٹرکٹ کونسل کے امید واروں کا فیصلہ کی جماعت کی سفارش پر ضلعی بورڈ کرے گا ۔
( 4) مجلس عاملہ کا کوئی رکن اگرکسی سطح  کا امید وار ہو گا تو اپنے حلقہ انتخابات کے فیصلے کے وقت بورڈ کے اجلاس میں شریک نہیں ہوگا ۔