خان پورجامعہ مخزن العلوم میں ترجمان جمعیت حضرت مولانا محمد امجد خان کی پریس کانفرنس

اس موقع مولانا خلیل الرحمن درخواستی،صاحبزادہ عزیزالرحمن درخواستی،مولاناانوار،صاحبزادہ احمدالرحمن،درخواستی بھی موجود ہیں۔
اتحاد و ں کا فیصلہ انتخاباب سے قبل ہوتا ہے ،جے یو آئی دینی قوتوں کے اتحاد کی شروع سے حامی ہے،ماضی کے انتخاباب میں ہم نے اتحاد کے لئے بہت کوشش کی تھی ۔2018ءکے انتخابات کےلیےہم ذہنی طور پر تیار ہیں،دینی جماعتوں کے اتحاد کے حوالے سے پارٹی کے مرکزی مجلس شوری کے اجلاس میں غور کیا جائے گا،جو پارٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے 6مئی کو پشاور میں طلب کیا ہے،پانامہ لیکس پر مولانا فضل الرحمن کا تجزیہ درست ثابت ہوا ہے،فیصلہ آنے کے بعد بیانات دینے کے بجائے فیصلہ کو تسلیم کیا جائے،ایسے بیانات دینے سےگریز کیاجائے جس سے یہ تاثر ملے کہ عدالتی فیصلے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی جارہی ہے،یو ٹرن کی روش اب ختم ہونی چاہئے،ایک سوال کے جواب پرانہوں نے کہا دونوں جانب سے مٹھائی کھلانے کا فائدہ عوام کو ہے،جے یو آئی عید کے بعد عوامی رابطہ مہم بھر پور انداز میں چلائے گی ،کشمیر کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے قائد جمعیت نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پوری قوم کی ترجمانی کی ہے،اور مسئلہ کشمیر کو پوری دنیامیں ایک بار پھر زندہ کیاہے،یو این او اپنی منافقانہ روش ترک کر کے کشمیر ی عوام کو انکا حق دلوائے اور بھارت کو جبروظلم سے روکنے میں اپنا کردار ادا کرے،جے یو آئی لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر پنجاب کے دوسرے صوبے کی حامی ہے،ماضی میں سرائیکی اور بہاولپور صوبے کے نام پر سیاست چمکائی گئ ،جمعیت کو اگر موقع ملا تو نیا صوبہ بنائیں گے،،سی پیک کا منصوبہ ضرور کامیاب ہوگا،اس کے خلاف ہر سازش کا جے یو آئی ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کرے گی،سی پیک کو کالاباغ بنانے والوں کو ناکامی کاسامناکرناپڑے گا،اس منصوبےپربڑی بڑی طاقتوں کے پیٹ میں مڑوڑ اٹھ رہے ہیں،صد سالہ عالمی اجتماع میں عوام نے جمعیت کےحق میں فیصلہ دے دیاہے مستقبل انشاءاللہ جمعیت کا ہے ، آئندہ انتخابات میں اللہ کے فضل وکرم سے جمعیت عظیم کامیابیاں حاصل کرے گی۔