جمعیت علماءاسلام نے ملک میں امن اور خوشحالی کی خاطر قربانیاں دی ہیں، امریکا چین کے نئے اقتصادی تصور کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، سی پیک کےباعث آج پاکستان نشانے پر ہے، مسلمان شمع نبوت کے پروانے ہیں اور اس کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ ( شہید اسلام کانفرنس)
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان دامت برکاتہم نے کہا ہے کہ جمعیت علماءاسلام نے ملک میں امن اور خوشحالی کی خاطر قربانیاں دی ہیں ڈاکٹر خالدسومرو ؒسمیت دیگرعلماء کی شہادتیں ثبوت ہیں کہ انہوں نے امن کا ساتھ دیا
ڈاکٹرخالد محمود سومرو کو شہید کرنے والوں نے سوچا ہوگاکہ سندھ میں جمعیت علماءاسلام کمزور ہوجائےگی لیکن انکو یہ پتہ نہیں کہ خالد سومرو کے لاکھوں جیالے آج لاڑکانہ میں موجود ہیں۔اس وقت پاکستان کے حالات خراب کرنے میں تیسری قوت کاہاتھ ہے جو امریکہ کی انگلیوں پر ناچ رہےہیں اس وقت ملکی حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ختم نبوت کے قانون کو اسی لئےتبدیل کرنے کی کوشش کی گئ کہ ملک کو جنگی حالات کی طرف دھکیلا جائے۔ختم نبوت کے قانون کو نقب لگانے کی کوشش کی گئ لیکن جمعیت علماءاسلام نے بروقت اسکو ناکام بنا دیا۔
1974میں مفتی محمودؒنے جومتفقہ آئین بنایا تھا اس ختم نبوت کے قانون کی ہر صورت میں حفاظت کریں گے۔
جمعیت علماءاسلام ہی کے رکن نے اس مسئلے کوسب سے پہلے سینیٹ میں اٹھایااور جب اس کے تحفظ کا معاملہ درپیش آیا تو جمعیت علماءاسلام نے ہی اس کے قانون کامسوہ بنایا جس کو تمام پارٹیوں نے متفقہ منظور کرلیا ۔ ختم نبوت کامسئلہ تمام مذہبی جماعتوں اور مسلمانوں کا مشترکہ ہے اسی قانون کی خاطرہم سب نے ملکر جیلیں بھری تھیں
ہم نےحکومت کو کہا بھی تھا کہ دھرنے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال ہرگز نہ کریں، حکمرانوں کو دھرنا قائدین سے گفتگو کرکے انہیں قائل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
ایک فیض آباد کو کھلوانے کیلئےپورے ملک کو بند کردیا گیا، مسئلہ سیاسی نہیں، ملک کو بحران کی طرف دھکیلاجارہا ہے، پاکستان کو سیاسی عدم استحکام سے دوچارکرنے کی سازش ہورہی ہے، آج ایک فیصلے کے منفی اثرات تمام دینی طبقے پر پڑ رہے ہیں۔
اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کی جغرافیائی تقسیم کیلئے عالمی قوتیں سرگرم ہیں، اسلامی ممالک کوغیرمستحکم کیاجارہاہے، اسلامی دنیا پرجنگ کے بادل آگ برسارہےہیں، ایک نئی سرد جنگ دنیا میں پھر سے شروع ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایشیا میں چین نئی ابھرتی ہوئی اقتصادی قوت ہے، امریکا چین کے نئے اقتصادی تصور کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، سی پیک کےباعث آج پاکستان نشانے پر ہے۔
ہم معیشت کو گروی رکھ کر مغرب پر مزید انحصارنہیں کرسکتے، عالمی ایجنڈے کے تحت پاکستان کو غیرمستحکم بنانا مقصود تھا، نواز شریف کی نااہلی کے ایک ہفتے بعد ہی امریکی صدر نے دھمکی دی تھی
کہا جاتاہے کہ مذہبی لوگ شدت پسند ہیں مگر میں کہنا چاہتا ہوں کہ مذہبی لوگ شدت پسند نہیں ہیں ۔
سب مسلمان شمع نبوت کے پروانے ہیں اور اس کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ لال مسجد کا واقع ہوا تو کتنے معصوم لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں اب انہی حالات کو دوبارہ دہرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ہم اپنی دینی مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر اسمبلی کے فلور پر جنگ لڑیں گے۔
جمعیت علماء اسلام کے زیراہتمام ہونے والی شہید اسلام کانفرنس میں لاکھوں لوگوں نے شہید خالد سومرؒو کو خراج عقیدت پیش کیا ۔
آئندہ انتخابات میں جمعیت علماء اسلام سندھ میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے گی ۔
سندھ میں امیر لوگ امیرتر ہوتے جارہےہیں غریب لوگ غریب تر ہوتے جارہے ہیں قوم پرستی اور جاگیرداری آج پروان چڑھی ہے جاگیرداروں اور وڈیروںکا غریب کے طرف بڑھتاہوا ہاتھ توڑ دیاجائے گا کیا وجہ ہے بلوچستان کے نوجوان پہاڑوں پر ہیں اپنے حقوق مانگ رہے ہیں بلوچستان کے وسائل بلوچستان کے عوام کے ہیں بلوچستان کے عوام کو انکا حق برابردو پھر دیکھو حالات کیسے ٹھیک ہوتےہیں ۔میدان امن میں رہیں تو حالات بہترہونگے ہم پاکستان میں سترسالہ کردار کو دہرا رہے ہیں ۔
میرے نوجوانو میدان میں آئو نکلو پاکستان کی حفاظت کی خاطر
پروپیگنڈہ کیاجارہا کہ مولویوں کی وجہ سے ملک ترقی نہیں کررہا شرم آنی چاہیئے ایسے لوگوںسےہم اسمبلی میں، میڈیا میں، مجالس میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں میں صوبہ سندھ کے تمام عوام کارکنان کوجنہوںنے آج تاریخی کانفرنس منعقد کرکے اس عزم کا اعادہ کرلیا کہ وہ دن دور نہیں جب انشاءاللہ پاکستان میں اسلامی کا نظام ہوگا اور جمعیت علماءاسلام کی حکومت ہوگی۔
مولانا فضل الرحمان نے کارکنان کو صبر اور حوصلہ سے اپنے سفر کو جاری رکھنے کی تلقین کی اور شہید اسلام کانفرنس کے انتظامات اور تیاریوں پر صوبہ سندھ کی جماعت اور خصوصا مولانا راشد خالد محمود سومرو کو خراج تحسین پیش کی۔