جمعیت طلباء اسلام کا تعارف

جمعیت طلباء اسلام برصغیر پاک وہند کی ایک ایسی منظم اور نظریاتی تنظیم ہے جو سلف صالحین کی بیان کردہ تعبیر دین پر یقین واعتماد رکھتی ہے۔جمعیت طلباء اسلام قرآن وحدیث کی روشنی میں ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام، اسلامی اقدار کے احیاء ، اسلامی نظام تعلیم کے نفاذ ، اسلام کے صحیح عقائد و نظریات کی اشاعت ، طلباء کرام میں اولوالعزمی ، مستقل مزاجی اوراخلاق حمیدہ کے پر چار اور دینی و عصری علوم حاصل کرنے والے طلباء میں دشمنان اسلام کی پیدا کردہ تفریق و نفرت کو دور کرکے مدارس دینیہ اور عصریہ میں انگریز کی قائم کردہ حد فاضل مسٹر و ملا کی تقسیم کو ختم کرنے اور دونوں طبقوں کے مسلم طلباء جو مختلف یونیورسٹیز ، کالجز ا ور مدارس دینیہ سے تعلق رکھتے ہیں ان میں اتحاد واتفاق اور ہم آہنگی پیدا کر کے ایک دوسرے کو قریب کرنے کیلئے پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے ۔
جمعیت طلباء اسلام نے 1974ء کی تحریک ختم نبوت میں بھرپور کردار ادا کیا ۔ اس میں 1300سے زائد جمعیت طلباء اسلام کے کارکن پس دیوار زندان ہوئے۔ 1977ءکی تحریک نظام مصطفیٰ میں تمام طلبہ تنظیموں سے بڑھ کر حصہ لیا ،اس تحریک میں جمعیت طلباء اسلام کے انیس کارکن شہید اور دو ہزار سے زائد قید ہو ئے ۔جمعیت علماء اسلام کی سرپرستی میں جمعیت طلباء اسلام نے تحریک ختم نبوت ، تحریک بحالی جمہوریت اور تحریک نظام مصطفیٰ کے سلسلے میں جو عدیم النظیر قربابیاں دی ہیں وہ پوری قوم کے سامنے ہیں ۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور پشاور یونیورسٹی میں جمعیت طلباء اسلام کی یونینز نے حکومت پاکستان کی طرف سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے قبل ہی تمام قادیانی اساتذہ اور طلباء کا داخلہ ممنوع قرار دلایا اور حکومت کے اعلان سے پہلے جہاں جمعیت طلباء اسلام کی یونین جیتی تھیں وہاں جمعہ کی چھٹی منظور کرائی ۔پشاور یونیورسٹی کی تمام شاہراہوں کو مشاہیر اسلام کے ناموں سے موسوم کرایا ۔ایگری کلچر کالج ( زرعی یونیورسٹی پشاور ) اور میڈیکل کالج پشاور میں جمعہ کی چھٹی منظور کرائی ۔ پشاور یونیورسٹی کے احاطہ (آغا خان آڈٹوریم ہال ) سے سینما بند کرایا ، قادیانی طلباء کو اسٹوڈنٹس یونین میں ووٹ کے حق سے محروم کرایا ، تمام شعبوں میں ایم اے کے ساتھ اسلامیا ت کا سو (100) نمبر کا پرچہ شامل کرایا ، ایم اے کے داخلے کیلئے قرآن مجید ، ناظرہ اور نماز باترجمہ یاد ہونا لازمی قرار دلوایا ۔