جمعیت طلباء اسلام کا روشن ماضی

جب انگریز برصغیر کی سیاست ،معیشت اورتجارت پر رفتہ رفتہ قابض ہو رہے تھے۔تو امام زماں شاہ والی اﷲ ؒ محدت وہلوی نے بروقت ادراک کرتے ہوئے چندنوجوانوں کی تربیت کی اور ان کو معمول کے اسباق پڑھانے کے ساتھ ساتھ انکی فکری تربیتشروع کی جس کے نتیجے میں ارکان تنظیم شاہ ابو سعید ؒ ،شاہ عبدالعزیر ؒ جیسے رجال کار پیدا ہوئے ۔جنہوں نے فک کل نظام کا فلسفہ لیکر نہ صرف میدان کا ر زار گرم کیا۔ بلکہ ساتھ ساتھ بنیادی تربیت کا کا م بھی طلباء میں جاری رکھا۔ اس کے نتیجے میں سید احمد شہید ؒ اور شاہ اسماعیل شہید ؒ جیسے عظیم سپوت مید ان عمل میں سپہ سالا ر بن گئے۔ اسی طرح ان کی طلباء برادری کی محنت کے بدولت مولانا قاسم نانوتوی ؒ ، حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی ،شیخ الہند رشید احمد گنگوہی ؒ اور حافظ ضامن شہید ؒ جیسے عظیم سپوتوں نے قیاد ت سنبھالی اور انگریز سے ٹکر لینے کا فیصلہ کیا۔ اس تحریک میں ہزاروں طلباء شہید ہوئے۔ اور لاکھوں علماء کو تہہ تیغ کیا گیا۔ مگر ان حضرات نے طلباء برادری میں بنیادی تربیت کا کام جاری رکھا ۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے ۔جب کوئی قوم آزادی یا اس کے تحفظ کے لیے خون کا نذرانہ پیش نہیں کرتی وہ قوم اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ جب مسلمانو ں کا ازلی اور مکار دوشمن انگریز نےاپنے غلیظ عزائم کے ساتھ جب اپنے ناپاک قدم برصغیر میں رکھے تو مغلیہ خاندان کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کا تختہ الٹ دیا مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت کو ختم کر کے برصغیر پر قابض ہوگیا۔ مگر شاہ ولی اﷲ کی عظیم تحریک کے سالاروں کو انگریز کی غلامی ایک آنکھ نہ بھائی اور انگریز کے خلاف اعلان بغاوت کر دیا۔
اس تحریک کے نتیجے میں لاکھوں علماء طلباء کو شہید کیا گیا۔بلا ٓخر علماء طلبا کی ان قربانیوں کے نتیجے میں برصغیر انگریز کے تسلط سے آزاد ہو گیا۔ انگزیر کے نکلنے سے مسلمان جسمانی لحاظ سے تو آزاد ہوگئے ذہنی غلامی اب بھی برقرارتھی۔انگریز مکار نے نظام تعلیم کو نہایت عیاری سے تبدیل کر کے برصغیر کے نوجوان نسل کا راستہ دینی اقدار سے دور کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ مستقبل میں انکی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔
لارڈ میکالے نے یہ نعرہ لگایا کہ ہمیں ایسے افراد تیار کریں گے جو رنگ ونسل کے اعتبار سے ہندوستانی ہوںگے لیکن دل ودماغ کے لحاظ سے انگریز ہوںگے۔ اسکے مقابلے میں قاسم العلوم و الخیرات بانی دارلعلوم دیو بند مولانا قاسم نانوتوی ؒ نے یہ نعرہ بلند کیا کہ ہمیں ایسے افراد تیار کریں گے جو رنگ و نسل کے اعتبار سے ہندوستانی ہوںگے اور فکر و نظر کے لحاظ سے پکے مسلمان ہوںگے ۔ انگریز سامراج نے نہایت چالا کی اور مکاری سے اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانا شروع کیا۔ برصغیر کے نظام تعلیم کا ڈھانچہ مکمل طور پر تبدیل کر کے اسے دو حصو ں میں تقسیم کر دیا۔ سائنس اور فنی علوم کی حوصلہ افزائی کی گئی اور اسے خوب پھلنے پھولنے دیا گیا۔ لیکن اسکے مقابلے میں دینی تعلیم کو مدارس تک محددو کر دیا گیا۔ سائنسی اور فنی تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والے نوجوانوں کو ملک کی بھا گ دوڑ اور کارہائے حکومت کے لائق سمجھا گیا۔ دوسری طر ف مدارس سے فارغ ہونے والے طلباء کو بہترین صلاحیتوں کے باوجود کارہائے زندگی کے نہ سمجھا گیا۔ اور انکے روزگار کیلئے مؤثر حکمت عملی تک وضع نہ کی گئی اور ان کے روز گار کے دروازے بند کر دیے گئے۔ ملااور مسٹر کی ایک نئی تفریق پیدا کر دی گئی اور یہ اصطلاح مشہور کی گئی کہ (ملاکی دوڑ مسجد تک) یعنی ملا کا کام صرف اور صرف منبر و محراب ہے۔ نظام حکومت ان کا کوئی کردار نہیں ۔انہی دلسوز ایام میں دار لعلوم دیوبند کے پہلے شاگرد اور تحریک ریشمی رومال کے بانی شیخ الہند محمود الحسن ؒ نے اپنے اعلیٰ تر مقاصد کے حصول کے لیے سب پہلے طلباء کو اپنا ہم خیال بنایا اور جب آپ مالٹا جیل سے رہا ہوئے تو آپ زیست وموت کی حالت میں تھے۔
تو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلباء نے نہ صرف یونیورسٹی کا بائیکاٹ کر رکھا تھا بلکہ مسلم نیشنل یونیورسٹی کے نام سے ایک دوسری یونیورسٹی قائم کرنا چاہی اور اسکی صدارت کے لیے طلباء کی نظر انتخاب اسیر مالٹا پر پڑی ۔ عقیدت مندوں نے شیخ الہندؒ کو ان کی بیماری کی وجہ صدارت کے فرائض سر انجام دینے سے منع کر نا چاہا لیکن اس پیکر عزم واستقلا ل کا پھر یہی جواب تھا کہ۔ اگر میری صدارت کی وجہ سے انگریز کو تکلیف ہوگی تومیں اس جلسہ میں ضرور شریک ہوں گا۔ اسیر مالٹا کی بلند ہمتی کو دیکھ کر طلباء نے آپ کو پالکی میں لٹایا اور پالکی کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر اسٹیشن لے گئے۔ علی گڑھ یونیورسٹی پہنچے تو یونیورسٹی کے طلباء نے ان کے شاندار استقبال کیا۔ اجلاس 19 اکتوبر 1920 ء کو ہوا۔شیخ الہند ؒ کے مالٹا کے سرد موسم ، غذا کی قلت، ترکوں کی شکست اور تحریک کا راز افشاں ہو نے کی وجہ سے اتنے کمزر ہوگئے تھے کہ خطبہ صدارت بھی مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نے پڑھ کر سنایا خطبہ صدارت میں شیخ الہند ؒ نے تاریخی الفاظ ارشاد فرمائے کہ میں نے آج اپنی زندگی کا مقصد پورا کر لیا ہے۔ مجھے اس ادارے کے درو دیوار سے انقلاب کی خوشبو آرہی ہے۔ میں اپنے رفقا ء خانقاہوں میں کم اور یہاں زیادہ پائے ہیں۔آگے چل کر شیخ الہند ؒ نے فرمایا :
اے نو نہالان وطن ! جب میں نے دیکھا میرے اس درد کے غم خوار مدرسوں اور خانقاہوں میں کم اور سکول و کالجزمیں زیادہ نظر آتے ہیں تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا اور اس طرح ہم نے ہندوستان کے دو تاریخی مقام (دیوبنداور علی گڑھ ) کا رشتہ جوڑا۔
بہرحال شیخ الہند ؒ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ملا اور مسٹر کی باہمی خلیج کو ختم کرنے کا شعور بہتر طور پر اجاگر کیا۔شیخ الہند ؒ کے نقش قدم پر چل کر ان کے ذہین و لائق شاگرد امام انقلاب مولانا عبیداﷲ سندھی ؒ نے دہلی کے مدرسہ نظارہ المعارف القرآنیہ میں تعلیمی کا م کاآغازکیا اور پھر حیدر آباد سندھ کے پکے قلعے میں دینی مدارس کا کالجز کے طلباء کو ایک مشترکہ کنونشن بلا کر پوری دنیا کے احوال انکے سامنے رکھے اور ملت کے نوجوان طبقے کو انکی ذمہ داریوں کا احساس دلا کر جمعیت طلباء سندھ کی بنیاد رکھی۔ چنانچہ ہم بر ملا کہہ سکتے ہیں کہ حقیقی معنوں میں فکروشعور کی بنیاد پر نوجوانوں کو اکھٹا کرنے کی بنیاد شیخ الہند ؒ نے رکھی اور اس بنیاد کو عملی شکل دینے کے لیے حضر سندھی ؒ نے 1939 ء میں جمیعت طلباء سندھ کی بنیاد رکھی اور اسکے بعد انکی مسلسل محنت و جدوجہد سے نوجوانوں کی ایک کھیپ تیار ہو کر میدان عمل میں اتری جس نے انگریز سامراج کو اپنا بستر گول کر نے پر مجبور کر دیا۔ قیام پاکستان کے بعد جمعیت طلباء سند ھ کو پورے ملک میں پھیلانے اور پنے اکابر کی یادوں اور روایات کو تازہ کرتے ہوئے ایک بار پھر نوجوانوں کے لرزتے ہوئے قدموں کو ثابت اور بکھری قوت کو یکجا کرنے کے لیے سکول و کالجز اور ینی اداروں کے طلباء تاریخی شہر لاہور میں اکھٹے ہوئے اور 19 اکتوبر 1969 ء کو ملک گیر پیمانے پر تنظیم قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ گو یا کہ 1969 ء میں قائم ہونے والی تنظیم جمعیت طلباء اسلام حضرت سندھی ؒ کی جمعیت طلباء کا تسلسل ہے۔ جمعیت طلباء اسلام 1970ء میں پاکستان کے نصف سے زائد کالجوں اسکولوں اور دینی مدارس میں پھیل گئی ۔1971 میں پورے ملک کے ہر بڑے تعلیمی ادارے میں جمعیت طلباء اسلام کی شاخیں قائم ہوگئیں ۔ جمعیت طلباء اسلام کے شاہین صفت جانباروں نے اسلامی عقائد اور اپنے اسلاف کی میراث کو نئی نسل تک صحیح طریقے سے منتقل کیا کیونکہ نئی نسل قوم اور ملت کے لیے دماغ اور دل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جب نئی نسل اپنے اسلاف کی میراث کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کے قابل نہیں رہتی تووہ مٹ جاتی ہیں حتی کہ دوسری قوموں میں گم ہو کر اپنے تشخص کھو دیتی ہیں۔
جمعیت طلباء اسلام ملک میں اسلامی طرز معیشت چاہتی ہے اور معاشی مساوات کی بنیاد پر معاشرےکی تشکیل کی جدوجہد کر رہی ہے اور اس دین کو نافذ دیکھنا چاہتی ہے۔ جو عدالت ، حکومت اور معشیت کے ہر دو تقاضوں پر محیط ہے۔ اور جامع ہمہ گیر نظام ہے۔ جمعیت طلباء اسلام کے شاہین صفت کارکنان ہر تحریک اور ہر میدان میں اول اول رہے ۔موجودہ در میں اگر دیکھا جائے تو کہیں جھگڑوں اور لسانی فساد نے طلباء کو بہت متاثر کیاتو کہیں لادینی طاقتوں ، غیر ملکی این جی اوز اور مغربی تہذیب نے طلباء کو پریشان کیا ہے کہیں عریانی اور فحاشی اور بے راہ روی کا زہر طلباء کو دیا گیاکہیں غیرملکی فلسفوں ، سوشلزم ، کمیونزم ، کیپٹلزم نے اپنے اثرات ڈالے جس کے نتیجے میں طلباء اسلام سے دور ہوتے چلے گئے ۔چنانچہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے جمعیت طلباء اسلام کے جانبازشاہینوں نے صحیح عقائد و نظریات کی طرف طلباء کی راہنمائی کی ۔ جمعیت طلباء اسلام کا ماضی تابناک رہا ہے۔ تحریک بحالی جمہوریت میں جمعیت طلباء اسلام کے تین سو سے زائد کارکن جیل گئے۔ تحریک ختم نبوت ﷺ میں پاکستان کے چاروں صوبوں میں سے جمعیت طلباء اسلام کے عہدیدران اور مقررین نے جلسوں جلوسوں کے ذریعے پوری مسلمان قوم کو قادیانیت جیسے خطرناک اسلام دشمن فرقے کے خلاف ابھارا ۔ 1977 ء کی تحریک نظام مصطفی ﷺ میں جمعیت طلباء اسلام کے انیس طلباء عزیر واقارب اور انقلابی ساتھیوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے ۔ جبکہ دو ہزار گرفتارہوئے۔جمعیت طلباء اسلام کے صر ف 55 ہزار دینی مدارس کے طلباء نے تحریک نظام مصطفی ﷺ میں حصہ لیا۔ اس انقلابی جماعت کے سید شمس الدین شہید ؒ ، مینر احمد شاہ امروٹی اور ڈاکٹر سرفراز خان نے اپنی جان کی قربانی دیکر اسلامی نظام کے نفاذ کی اس تحریک میں نئی روح پھونکی۔
بلاشبہ جمعیت طلباء اسلام کی بنیاد اس لیے رکھی گئی تھی کہ قوم کو ایسے افراد کی ایک کھیپ فراہم کی جائے جن کے عقائد و نظریات قرآن و حدیث کے عین مطابق ہوں جن کی رگ رگ میں دینی اور ملکی حمیت ، امانت، صداقت ، دیانت بھری ہوئی ہو۔ انکے قول و فعل سے سامراج دشمنی چھلکتی ہو ۔